حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ شہیدؒ کی شہادت
شہادت کی موت ایمان و یقین، عزم واستقلال، عزیمت و ہمت اور دین اسلام کے لئے جان دینے سے عبارت ہے، یہ ایک بلند روحانی مقام ہے جہاں انسان حق کی خاطر اپنی جان نثار کر دیتا ہے، تاریخ انسانی میں ایسی شخصیات کی شہادت امت میں ایک نئی روح پھونک دیتی ہے، ان عظیم شخصیات میں سے ایک اولو العزم اور ہر دلعزیز شخصیت حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ شہید ؒ بھی تھے جو ۳۱؍جولائی بروز بدھ ایران میں ایک صیہونی حملے میں جام شہادت نوش کر گئے (انا للہ و انا الیہ راجعون) اسماعیل ہنیہ شہید فلسطینی تحریک حماس کے رہنما تھے، انہوں نے اپنی زندگی دین کی سربلندی، بیت المقدس کے تحفظ کی جدوجہد میں گزاری، آپکی زندگی بے پناہ قربانیوں سے معمور تھی،آپ ایک عالم، مفکر اور صاحب بصیرت رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ ایک فعال اور متحرک شخصیت کے بھی مالک تھے، آپ نے اپنی زندگی کا ہر ہر لمحہ دین اور حق کی راہ پر گزارکر جدو جہد کی اور مظلوموں کو جہد مسلسل کی راہ دکھائی۔ آپ جہاد کی راہ پر قائم رہتے ہوئے صیہونی ظلم و ستم کے خلاف بے جگری اوربے خوفی سے مقابلہ کیا۔ آپ نے امت مسلمہ کو صہیونی تسلط سے آزاد کرانے کی راہ دکھا کر خود مظلوموں کی آواز بنے، دشمن کی سوچ یہ تھی کہ مقابل تحریک کے سربراہ کو شہید کرکے ان کی آواز کو ہمیشہ کے لئے خاموش کرایا جاسکے لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ آپ کی شہادت سے آزادی کے متوالوں کے عزائم و مقاصد کو مزید تقویت ملی، ان کے پیروکاروں نے ان کے مشن کو جاری رکھنے کا عزم کا اظہارکیا اور ان کے حوصلے مزید بلند ہوئے۔حقیقی رہنما وہ ہوتے ہیں جو اپنے دین وملت کے لئے جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے، انہوں نے کافی عرصہ امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا، عالم اسلام کے دیگر ممالک کو آوازیں دیں، چیخ چیخ کر پکارا اور مظلوم فلسطینیوں کی آواز ہم تک پہنچا دی اور اس پر پوری دنیا کو گواہ بنایا پھر وہ خود اپنے خاندان سمیت اسی راہ پر چل پڑے جہاں ایک صاحب عزیمت کو سرخرو ہوکر چلنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ہم دعاگو ہے کہ آپ کی شہادت عالم اسلام کی بیداری کا باعث بنے(آمین) جامعہ حقانیہ اور خاندان حقانی صدمے اور غم کے اس موقع پر اہل فلسطین اور امت کے تمام مجاہدین سے دلی تعزیت کرتی ہے اور خود کو بھی اس غم میں برابر کا شریک قرار دیتے ہیں۔
خطاب