داڑھی جلدی کینسر اور انفکشن سے تحفظ فراہم کرتی ہے!
مولانا انیس الرحمن ندوی
داڑھی جلدی کینسر اور انفکشن سے تحفظ فراہم کرتی ہے!
جدید سائنسی تحقیقات نے داڑھی کی مشروعیت کی حکمت اجاگر کردی
مولانا انیس الرحمن ندویجنرل سیکرٹری، فرقانیہ اکیڈمی وقف بنگلور ومدیر مجلہ ’’تعمیر فکر‘‘
اسلام میں داڑھی کو مرد کی فطری زینت، اسلامی شناخت اور سنت نبویؐ کے طور پر بڑی اہمیت حاصل ہے، داڑھی کا رکھنا صرف ایک ظاہری عمل نہیں بلکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت، صحابہ کرام کی پہچان اور فطرتِ انسانی کی علامت بتایا گیا ہے۔ نبی کریمؐ نے داڑھی رکھنے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی داڑھی رکھتے تھے، یہ عمل آپؐ کی سنت مؤکدہ میں شامل ہے، داڑھی کے متعلق احادیث میں مختلف احکام وارد ہوئے ہیں۔ مثلاً ایک حدیث نبوی میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خالفوا المشرکین، وَفَرُّوا اللِّحیٰ، وأَحْفُوا الشوارب (۱)
’’مشرکوں کی مخالفت کرو، داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں تراشو۔‘‘
اسی طرح اسلام میں بعض اعمال کو ’’فطری اعمال‘‘ کہا گیا ہے، جنہیں اپنانا انسان کی اصل طبیعت اور پاکیزگی کی علامت بتایا گیا ہے۔ ان میں داڑھی رکھنا بھی شامل ہے لہٰذا حدیث نبویؐ ہے:
عشر من الفطرۃ: قص الشارب، وإعفاء اللحیۃ۔(۲)
فطرت میں دس چیزیں شامل ہیں: مونچھیں چھوٹی کرنا، داڑھی بڑھانا۔
ان احادیث سے داڑھی رکھنے کی دو وجوہات معلوم ہورہی ہیں: پہلا یہ کہ اس سے مشرکین کی مخالفت مقصود ہے جو کہ داڑھی نہیں رکھا کرتے تھے۔ دوسرا یہ کہ ان احادیث میں داڑھی کو فطرت وطبیعت کا حصہ قرار دیا گیا ہے، داڑھی کو فطرت وطبیعت کا حصہ قرار دئے جانے کا کیا مطلب ہے؟
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مرد فطرت سے قریب تر رہنا چاہتا ہے اور فطری اور قدرتی طور پر صحتمند، تندرست اور محفوظ رہنا چاہتا ہے تو اسے داڑھی رکھنی ضروری ہے، ورنہ وہ فطرت سے دور ہوجائیگا۔
آئیے! اب ہم جدید سائنس کی روشنی میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا داڑھی کی کوئی افادیت ہے یا نہیں؟ لہٰذا جدید سائنسی تحقیقات کے مطالعہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ داڑھی کے متعلق احادیث نبوی میں مذکور احکام کی علت وحکمت کو جدید سائنس نے اجاگر کرکے ان کی صحت پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ یہاں پر ہم حالیہ سالوں میں داڑھی پر کی گئی بعض سائنسی تحقیقات کو زیر بحث لائیں گے۔داڑھی کے سلسلے میں حالیہ دنوں میں دو سائنسی تحقیقات سامنے آئی ہیں۔ پہلی تحقیق کے مطابق داڑھی رکھنے سے جلدی کینسر skin cancer سے تحفظ فراہم ہوتا ہے۔ خاص طور پر سورج کی نقصان دہ الٹرا وائلٹ شعاعوںسے۔ یہ تحقیق آسٹریلیا کی کوینس لینڈ یونیورسٹی Queensland University میں کی گئی(۳) اس تحقیق کے مطابق داڑھی چہرے کی جلد پر ایک قدرتی رکاوٹ بن جاتی ہے جو UVB اور UVA شعاعوں کو روکتی ہے، اس تحقیق کے مطابق داڑھی ۹۰ سے ۹۵ فیصد تک بالائے بنفشی ultraviolet شعاعوں کو جلد تک پہنچنے سے روک سکتی ہے، جو جلدی کینسر کا بڑا سبب بنتے ہیں۔
داڑھی جلد کو براہ راست سورج کی تپش سے بچاتی ہے، جس سے جلد کی جلن اور عمر رسیدگی wrinkles میں بھی کمی آتی ہے، اسی طرح داڑھی جلدی سرطان کی مخصوص اقسام جیسے Basal Cell Carcinoma(BCC) اورSquamous Cell Carcinoma(SCC) سے بھی تحفظ فراہم کرتی ہے جو چہرے پر زیادہ ظاہر ہوتے ہیں، داڑھی ان حصوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔
اس تحقیق میں ایک اور دلچسپ اور اہم بات جو سامنے آئی ہے وہ یہ کہ داڑھی کے بالوں کی لمبائی اور زاویہ جتنا زیادہ ہوگا اس سلسلے میں تحفظ اتنا ہی بہتر ہوگا کیونکہ لمبی اور گھنی داڑھی UV شعاعوں کو زیادہ جذب کرسکتی ہے یا روک سکتی ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ
یہ ہوئی کینسر کی روک تھام سے متعلق داڑھی کی افادیت کے تعلق سے سائنسی تحقیق، داڑھی کی افادیت سے متعلق ایک دوسری تحقیق بھی حالیہ دنوں میں سامنے آئی ہے، اس تحقیق کو بی بی سی نے رپورٹ کیا ہے۔(۴) بی بی سی کے مطابق اس سلسلے میں ایک زیادہ قابلِ اعتماد تحقیق سامنے آئی ہے، جو ایک امریکی اسپتال میں ہوئی اور Journal of Hospital Infection میں شائع ہوئی ہے(۵)۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ داڑھیاں مختلف قسم کے انفیکشنس سے لڑتی ہیں۔ انسانی داڑھیوں میں ایسے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں جو نئی جراثیم کش اینٹی بایوٹک بناتے ہیں۔اس تحقیق کے مطابق اسپتال کے ۴۰۸ ملازمین کے چہروں کے نمونے لئے گئے، جن میں کچھ صاف شیو والے اور کچھ داڑھی والے تھے۔ جن کا نتیجہ حیران کن تھا: صاف شیو افراد کے چہروں پر نقصان دہ جراثیم، خاص طور پر MRSAتین گنا زیادہ پائے گئے جب کہ داڑھی والے افراد کے چہرے ان جراثیم سے پاک تھے، محققین نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شیو کرنے سے جلد پر معمولی خراشیں micro-abrasions پیدا ہوتی ہیں، جو جراثیم کے جم جانے اور بڑھنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
محققین کے پیش نظر یہ نظریہ بھی تھاکہ کیا داڑھیوں میں فائدہ مند جراثیم موجود ہوتے ہیں جو انفیکشن سے لڑتے ہیں؟ اس پر تحقیق کے لئے یونیورسٹی کالج لندن میں مقیم مائیکرو بایولوجسٹ ڈاکٹر ایڈم رابرٹس کو مختلف مردوں کی داڑھیوں کے نمونے بھیجے گئے۔ انہوں نے ان نمونوں سے ۱۰۰ سے زائد بیکٹیریا کی اقسام اگائیں۔ ان میں سے ایک بیکٹیریا نے دوسرے بیکٹیریا کو مارنا شروع کر دیا، گویا کوئی فطری اینٹی بایوٹک کام کر رہی ہو جس کا نام ان محققین نے ممکنہ طور پر اینٹی بایوٹک Beardicillin تجویز کیا، ایڈم نے ان خاموش قاتل جراثیم کی شناخت اسٹافلوکوکس ایپی ڈرمیڈس Staphylococcus epidermidis کے طور پر کی جب انہوں نے ان کا تجربہ ایک خاص قسم کے دواؤں کے خلاف مزاحمت رکھنے والے E.Coli پر کیا، تو ان بیکٹیریا نے بے رحمی سے اسے ختم کردیا۔
داڑھیوں میں ان قاتل جراثیم کا پایا جانا ایک اہم انکشاف اور مفید پیش رفت تھی مگر چونکہ ایک نئی اینٹی بایوٹک کو مارکیٹ میں متعارف کرانا نہایت مہنگا اور مشکل عمل ہے، اس لئے محققین نے یہ فیصلہ کیا کہ Beardicillin کو فی الحال دواخانوں تک نہیں فراہم کیا جائے گا ، تاہم ایڈم کی اس تحقیق نے سائنسی دنیا میں ایک نئی دریافت کو متعارف کرادیا۔ایڈم کی ٹیم نے عوام کی داڑھیوں سے حاصل شدہ جراثیم سے anti-adhesion molecules بھی دریافت کئے ہیں، جو بیکٹیریا کو دانتوں کی سطح پر چپکنے سے روکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں یہ مالیکیول ٹوتھ پیسٹ یا ماؤتھ واش میں شامل کئے جا سکتے ہیں تاکہ دانتوں کو تیزاب سے بچایا جا سکے۔
بہرحال! جہاں یہ عام غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ داڑھی صفائی اور صحت کے خلاف ایک عنصرہے، وہاں ایڈم کی اس سائنسی تحقیق نے یہ ثابت کردیا کہ داڑھی نہ صرف نقصان دہ جراثیم سے کم متاثر ہوتی ہے بلکہ اس میں موجود جراثیم ممکنہ طور پر نئی اینٹی بایوٹک بنانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، جو نقصاندہ جراثیم کے خلاف مزاحمت بھی کرتے ہیں اور انہیں ختم بھی کرتے ہیں۔
داڑھی کے متعلق شرعی احکام اور ان کی حکمت
داڑھی کے متعلق ان جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں اب ہم ایک بار پھر اسلامی نصوص کا رخ کرتے ہیںتاکہ داڑھی کے متعلق اصل شرعی حکم معلوم کیا جاسکے۔ داڑھی کے متعلق اسلامی شریعت کے ان تفصیلی احکام میں بھی بعض مزید حکمتیں اور مصلحتیں پوشیدہ ہیں۔
داڑھی رکھنے، کترنے یا منڈوانے کے متعلق فقہاء کے درمیان کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں، جمہور فقہاء حنفیہ، مالکیہ، حنابلہ کے یہاں اور شافعیہ کے ایک قول کے مطابق داڑھی مونڈوانا حرام ہے جبکہ شافعیہ کے صحیح قول کے مطابق داڑھی مونڈوانا مکروہ ہے۔ اب رہا یہ مسئلہ کہ داڑھی کتنی رکھی جانی چاہئے تو احناف اور حنابلہ کے نزدیک ایک مشت کے بعد داڑھی کو کانٹا مسنون ہے۔ احناف کے ایک قول کے مطابق ایک مشت کے بعد داڑھی کاٹنا واجب ہے اور ایک مشت سے زائد داڑھی چھوڑنا گناہ ہے جبکہ دیگر فقہاء کا مذہب ہے کہ جب تک لمبائی یا چوڑائی میں حد سے زیادہ اضافہ کے سبب داڑھی بدشکل معلوم نہ ہو، اس میں سے کچھ نہ کاٹا جائے۔(۶)
داڑھی کے نہ مونڈوانے اور داڑھی کی لمبائی کے متعلق ان اسلامی احکام میں بھی بڑی گہری حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ جہاں تک داڑھی کے مونڈوانے کی حرمت کی حکمت کا تعلق ہے تو جدید سائنسی تحقیقات سے اس کی حکمت بالکل واضح ہے کہ جیسا کہ بتایا گیا اس میں دوہرے خطرات پائے جاتے ہیں، پہلا یہ کہ اس سے چہرے پر ایک فطری کور cover نہ ہونے کی وجہ سے چہرے کو سورج کی الٹراوالیٹ شعاعوں سے skin cancer کے لاحق ہونے کا خطرہ رہتا ہے تو دوسری طرف داڑھیوں میں قدرتی اور فطری طور پر ایسے جراثیم پائے جاتے ہیں جو مختلف قسم کے انفکشنوں سے لڑتے ہیں اور داڑھی کو مونڈوانے کی صورت میں انسان ان قدرتی حفاظتی ڈھالوں سے محروم ہوجاتا ہے اور خاص طور پر داڑھی کو مونڈوانا اس لئے بھی مضر اور نقصان دہ ہے کہ ہے داڑھی کو شیو کرنے سے جلد پر معمولی خراشیں پیدا ہوتی ہیں، جو وہاں جراثیم کے جم جانے اور بڑھنے میں مددگار ہو تی ہیں۔
جہاں تک داڑھی کو لمبی رکھنے کا تعلق تو اس کی حکمت کو بھی اوپر بیان کردہ سائنسی تحقیقات سے واضح ہوتی ہے کہ جدید سائنسی تحقیقات نے واضح کردیا ہے کہ داڑھی کے بالوں کی لمبائی اور زاویہ جتنا زیادہ ہوگا اس سلسلے میں الٹراواؤلیٹ شعاعوں سے تحفظ اتنا ہی بہتر ہوگا کیونکہ لمبی اور گھنی داڑھی الٹراواؤلیٹ شعاعوں کو زیادہ جذب کرسکتی ہے یا انہیں روک سکتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ اسلام نے داڑھی کو انسان کے لئے ایک فطری عنصر یا ایک فطری ڈھال ہونے کی جو بات کہی ہے اس حکم کی گہرائی وگیرائی کو آج جدید سائنس نے دریافت کرلیا ہے، اور اسلام نے داڑھی کے متعلق جو تفصیلی احکام بتائے ہیں ان کی تائید بھرپور انداز میں کردی ہے اور داڑھی رکھنے کی حکمت ومصلحت اور اس کی افادیت کو واضح طور پر ثابت کردیا ہے جو اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ اسلام سراپا ایک دین فطرت ہے اور اس کے تمام احکام فطرت کی کسوٹی پر پورے اترتے ہیں۔
فَأَقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّینِ حَنِیفًا فِطْرَتَ اللَّہِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا، لَا تَبْدِیلَ لِخَلْقِ اللَّہِ ذَلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُونَ (الروم:۳۰)
’’سو تم یکسو ہوکر دین کے سیدھے راستے پر چلے چلو، جو اللہ کی فطرت ہے جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے ، خدا کی بنائی ہوئی خلقت (اور فطرت) میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو سکتی۔ یہی سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘
_________________________
حوالہ جات
(۱) صحیح بخاری، حدیث: ۵۸۹۲۔
(۲) صحیح مسلم، حدیث: ۲۶۱۔
(3) Parisi A. V., Turnbull D. J., Downs N., Smith D. (2012). ’’داڑھیوں اور مونچھوں کے ذریعہ شمسی الٹراوالیٹ تابکاری سے تحفظ کی مقدار کا مطالعاتی جائزہ‘‘ (Dosimetric investigation of the solar erythemal UV radiation protection provided by beards and moustaches). Radiation Protection Dosimetry, Vol. 150, No. 3, Pg. 278–282. https://doi.org/10.1093/rpd/ncr418.
(4) BBC News. (2016, May 8). What’s living in your beard?. BBC News. https://www.bbc.com/news/magazine-36231624
(5) Wakeam, E., Hernandez, R. A., Rivera Morales, D., Finlayson, S. R. G., Klompas, M. اور Zinner, M. J. (2014). ’’ہسپتال کے ملازمین کی داڑھی میں بیکٹیریا کی حالت: ایک مقطعی مطالعہ‘‘ (Bacterial ecology of hospital workers’ facial hair: A cross-sectional study). Journal of Hospital Infection, 63-67. https://doi.org/10.1016/j.jhin.2014.02.010
(۶) موسوعۃ فقہیہ، ج ۳۵، ص ۲۵۵-۲۵۹، اسلامک فقہ اکیڈمی، نئی دہلی۔