موسمی تبدیلی اور قیامت

مولانا انیس الرحمن ندوی

موسمی تبدیلی اور قیامت

قرآن، حدیث اور جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں

(مولانا انیس الرحمن ندوی  (جنرل سیکرٹری، فرقانیہ اکیڈمی وقف بنگلور ومدیر مجلہ ’’تعمیر فکر‘‘
موسمی تبدیلی (climate change) کا قضیہ آج کرئہ ارض کے سب سے اہم اور سلگتے ہوئے مسئلہ کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ آج روئے زمین پر جس موضوع پر سب سے زیادہ بحث ومباحثہ اور تحقیق وتفتیش ہورہی ہے وہ موسمی تبدیلی کا مسئلہ ہے کیونکہ کرئہ ارض پر ’’عالمی حرارت‘‘ (Global warming) میں اضافہ کے باعث واقع ہورہی موسمی تبدیلی کے نتائج اور عواقب پورے کرئہ ارض کے لئے مہلک اور تباہ کن ثابت ہونے جارہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر جلد موسمی تبدیلی کے مسئلہ پر قابو نہ پایا گیا تو کرئہ ارض کے تمام فطری نظام درہم برہم ہوجائیں گے اور کرئہ ارض پر موجود تمام انواع حیات ختم ہوکر رہ جائیں گی لہٰذا سائنسدان اب کھلے طور پر اس بات کا اقرار کرنے لگے ہیں کہ روئے زمین پر انسانی تہذیب وتمدن اپنی تاریخ کے ایک انتہائی سنگین اور نازک دور سے گزر رہا ہے۔

موسمی تبدیلی کیا ہے؟

زمین کے کرئہ ہوامیں وقفہ وقفہ سے موسمی تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ ان میں سے بعض تبدیلیاں یومیہ، بعض سالانہ اور بعض چند ہزار سالوں میں رونما ہوتی ہیں۔ کرئہ ارض کی یومیہ تبدیلیوں (رات اور دن) اور سالانہ موسمی تبدیلیوں (موسم بہار، موسم گرما، موسم خزاں، اور موسم سرما) کے اسباب سے ہم سب بخوبی واقف ہیں، جو سورج کے گرد زمین کی محوری گردش کے دوران جھکاؤ tilt  کی وجہ سے واقع ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف کرئہ ارض پر طویل المدتی موسمی تبدیلیاں بھی رونما ہوتی رہی ہیں، یعنی کرئہ ارض کا موسم کئی ہزار سالوں کے لئے گرم، کئی ہزار سالوں کے لئے سرد اور پھر کئی ہزار سالوں کے لئے بہار اور خزان میں تبدیل ہوتا رہتا ہے، جس کے اپنے اسباب ہیں۔ ان اسباب پر اس کتاب میں آگے تفصیلی طور پر روشنی ڈالی جائے گی۔ لہذا کرئہ ارض آج اسی طرح کی موسمی تبدیلی کے ایک عبوری دور transitional period  سے گزررہا ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کرئہ ارض کی فضا میں انسان کے ذریعہ خارج کی جارہی گرین ہاؤس گیسوں (Greenhouse gases)کی وجہ سے کرئہ ارض کی آب وہوا اور موسم میں ایک طویل المدتی تبدیلی واقع ہونے جارہی ہے۔ جو کرئہ ارض کے اوسط موسم اور درجہء حرارت کو بڑے پیمانے پر بدل کر رکھ دے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کرئہ ارض پر واقع ہورہی موسمی تبدیلی کے اثرات سے کرئہ ارض کے تمام فطری نظام متاثر ہورہے ہیں۔جن میں مقامی اور عالمی درجہء حرارت میں زیادتی، بارشی نظام میںتبدیلی، ہواؤوں کے نظام میں تغیر، برفانی چادروں کا پگھلنا، سطح سمندری میں اضافہ، اوزون پرت کا اتلاف، تیزابی برساتیں اور کرئہ ارض کی ساختمانی سرگرمیوں (tectonic activity) میں اضافہ اور شدت وغیرہ شامل ہیں۔
عالمی درجہء حرارت میں زیادتی کی وجہ سے ماحولیات اور انسانی زندگی پر رونما ہونے والے اثرات ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہیں جن تمام کا استقصاء اس مختصرمقالہ میں ممکن نہیں ہے مگر پھر بھی یہاں بالکل اختصار کے ساتھ ان کو بیان کیا جاتا ہے۔

عالمی حرارت میں اضافہ اور اس کے عواقب

عالمی اوسط درجہء حرارت میں اصل تبدیلی کا آغاز ۱۸۶۰ء کے صنعتی انقلاب کے بعد سے رونما ہونا شروع ہوا، جس کا بنیادی سبب کرئہ فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو گردانا جاتا ہے، اس سے قبل کئی ہزار سالوں سے کرئہ ارض کا درجہء حرارت تقریبا یکساں اور غیر متغیر رہا، بیسویں صدی میں اوسط درجہء حرارت میں 0.8 ڈگری سیلسیس کا اضافہ ہوا ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ اگر درجہء حرارت میں اضافہ کی یہی رفتار رہی تو اس صدی کے اختتام تک عالمی اوسط درجہء حرارت میں 8  تا 10 ڈگری سیلسیس تک کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ کرئہ ارض کے درجہء حرارت میں اس قدر اضافہ سے کرئہ ارض کی ماحولیات پر کیا اثرات مرتب ہونگے اس کا اندازہ WWF   کی ایک رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے جس میں کرئہ ارض کے درجہء حرارت میں صرف ۲ اور ۳ ڈگری کے اضافہ کے تفاوت سے واقع ہونے والے اثرات کے فرق دکھایا گیا ہے، اس رپورٹ کا اختصار حسب ذیل ہے(۱)
۲  ڈگری کی زیادتی سے واقع ہونے والے تغیرات
۳  ڈگری کی زیادتی سے واقع ہونے والے تغیرات

انسانی صحت

٭ ۹ کروڑ تا ۲۰ کروڑ افراد ملیریا اور غذا وپانی سے تعلق رکھنے والی دوسری بیماریوں کا شکار ہوں گے۔
٭ ۳۰ کروڑ سے زائد افراد ان بیماریوں کا شکار ہوں گے۔ اور پانچ تا چھ ارب لوگ ڈینگو میں مبتلا ہوں گے اور پانی کی قلت کا شکار ہوں گے۔
پانی
٭ ۶۶ کروڑ تا تین ارب افراد پانی کی قلت کا شکار ہوں گے۔ اور نقل مکانی پر مجبور ہوں گے۔
٭ مزید تین تا ساڑھے تین ارب افراد پانی کی قلت کا شکار ہوں گے۔ اور نقل مکانی پر مجبور ہوں گے۔

زراعت

٭ پانی کی قلت کی وجہ سے زراعت میں انحطاط ہوگا اور بڑے پیمانے پر بھوک مری پیدا ہوگی۔ بالخصوص افریقہ اور جنوبی ایشیا اس کا پہلا شکار ہوں گے۔
٭ پانچ تا بارہ کروڑ مزید افراد بھوک مری کا شکار ہوں گے اور عالمی پیمانے پر اشیائے خوردنی میں گرانی آئیگی۔

برف اور برفشار

٭ بحر منجمد میں ۶۰ فیصد، گرین لینڈ میں مکمل اور انٹارٹکا میں ۲۵ فیصدی برفانی چادریں پگھل جائیں گی۔
٭ بحر منجمد، گرین لینڈ اور انٹارٹکا میں مکمل طور پر برف پگھل جائے گی۔

ماحولیاتی نظام

٭ ماحولیاتی نظام میں زبردست تبدیلیاں آئیں گیں۔ ۲۵ فیصدی سے زائد موجودہ انواع حیات ختم ہوجائیں گی۔
٭ ۸۸ فیصد عالمی جنگلات ختم ہوجائینگے، بڑے پیمانے پر سوکھی زمینات زیر آب آکر برباد ہوجائینگی اور ۳۳ فیصد سے زائد موجودہ انواع حیات ناپید ہوجائینگی۔

سطح سمندری

٭ سطح سمندر میں زیادتی کی وجہ سے دو تا پانچ کروڑ افراد کی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی جس سے کھربوں روپئے کا نقصان ہوگا۔
٭ ۱۸ کروڑ مزید افراد سطح سمندر میں اضافہ کے باعث ساحلی سیلاب کا شکار ہوں گے۔

موسمی شدت

٭ موسم میں شدت کی وجہ سے سیلاب، طوفان، قحط، گرم آندھیوں اور دوسرے مہیب حادثات میں اضافہ ہوگا۔
٭ ان ناگہانی حادثات میں مزید ڈرامائی شدت پیدا ہوجائیگی جن سے معیشتوں کو زبردست نقصان ہوگا۔
کرئہ ارض پر واقع ہونے والی اس مہیب تباہی کے اندازے یہاں کے اوسط درجہء حرارت میں محض ۲ اور ۳ ڈگری کی زیادتی کی بنیاد پر بتائے گئے ہیں۔ اب اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر درجہء حرارت کی زیادتی ۴، ۵ یا ۶ ڈگری سے تجاوز کرجائے جیسا کہ اس سلسلے میں ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس صدی کے اختتام تک یہ ممکن ہے تو پھر کرئہ ارض پر واقع ہونے والی ہولناک تباہی کی نوعیت کیا ہوگی؟ یہاں پر کرئہ ارض پر رونما ہونے والے ان تغیرات کی چند مزید تفصیلات ملاحظہ ہوں۔

گلیشئرز کا پگھلنا اور سمندری سطح میں اضافہ

جیسا کہ بتایا گیا کہ کرئہ ارض کے اوسط درجہ حرارت میں ۲ ڈگری کے اضافہ سے گرین لینڈ کے تمام گلیشئرز پگھل کر ختم ہوسکتے ہیں جس سے سطح سمندری میں تقریباً ۲۰ فٹ اضافہ کا امکان ہے۔ اسی طرح مغربی انٹارٹیکا کے گلیشئرز کے پگھلنے سے سطح سمندری میں زیادتی ۳۴ فٹ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس سے دنیا کے بڑے علاقے زیر آب آجانے کا خدشہ ہے۔
عالمی درجہء حرارت میں ۳ ڈگری کے اضافہ سے انٹارٹکا اور گرین لینڈ میں موجود تمام برفشار پگھلنے کی وجہ سے سمندری سطح میں ۱۳۰ میٹر (۴۲۵ فٹ) کا اضافہ ہوگا جس سے دنیا کے تقریبا تمام ساحلی شہر ڈوب جائیں گے، مثلاً نیویارک کی فلک بوس عمارتوں کا صرف بالائی حصہ پانی کے اوپر نظر آسکے گا۔ اسی طرح دنیا کے خوشحال اور طاقتور ترین ساحلی شہر جن پر دنیا کی پوری معیشت کا دار ومدار ہے غرقاب ہوجائیں گے، ایک اندازے کے مطابق کرئہ ارض کی موجودہ خشکی کا تقریبا ۴۰ فیصد حصہ زیر آب آجائے گا۔(۲)
انٹارٹکا اور گرین لینڈ کے علاوہ دوسرے کوہستانی گلیشئرز میں ۱۹۵۰ء سے اب تک ۵۰ فیصدی تخفیف آچکی ہے، جس کی وجہ سے دنیا کے کئی علاقے تازہ پانی سے محروم ہوچکے ہیں، سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اگلی صرف چند دہائیوں میں ہندوکش اور ہمالیائی گلیشئرز کے پگھل کر ختم ہونے سے جنوبی ایشیاء کا زرعی نظام تقریبا پوری طرح تباہ ہوجائے گا، پہلے تو ان گلیشئرز کے پگھلنے کی وجہ سے ان سے نکلنے والی ندیوں میں بڑے پیمانے پر باڑھ آئے گی پھر گلیشئرز کے ختم ہونے کی وجہ سے یہ تمام ندیاں سوکھ جائیں گیں لہٰذا ایک اندازے کے مطابق اس وقت ان ندیوں میں پانی کی جو مقدار ہوگی وہ اس کی موجودہ مقدار کا صرف دو فیصدی حصہ ہوگی۔

سمندروں میں تبدیلیاں

عالمی درجہء حرارت میں زیادتی کی بنا پر سمندروں کے درجہء حرارت میں بھی اضافہ ہورہا ہے جس سے سمندروں میں کاربن ڈائی آکسائڈ کو جذب کرنے کی قوت میں بھی کمی آرہی ہے، اس کی وجہ سے فضا میں کاربن ڈائی اکسائڈ کی مقدار میں مزید اضافہ ہوگا جس سے عالمی درجہء حرارت میں رد عمل کے طور پر مزید اضافہ ہوگا، درجہء حرارت کی زیادتی کا سمندروں پر ایک اور اثر یہ ہوگا کہ سمندروں کا موجودہ تھرموہیلین بہاؤ (thermohaline circulation) رک جائے گا، یہ نظام سمندری پانی کے درجہء حرارت اور نمکینی کو اعتدال پر رکھنے کے لئے واحد طور پر ذمہ دار ہے۔ سمندری تھرموہیلین نظام کے رک جانے سے سمندری نظام اور کرئہ ارض کے موسم پر سنگین اور ناقابل تلافی نقصانات مرتب ہوں گے، جن کی تفصیل آگے آرہی ہے۔

موسمی شدت کی تخریب کاریاں

درجہء حرارت کی زیادتی سے بخاراتی عمل (evaporation )میں بھی زیادتی آئے گی۔ جس کی وجہ سے برساتیں زیادہ ہوجائیں گی۔ ایک اندازے کے مطابق بارش کی موجودہ شرح میں صرف ایک فیصدی اضافے سے طوفانی تباہ کاریوں میں 2.6فیصدی اضافہ ہوگا۔ اسی طرح بارش کے موجودہ نمونے ( rain pattern )میں غیر یقینی بدلاؤ واقع ہوگا اور ان کے بے وقت آنے کی وجہ سے زراعت اور ماحولیات کو بے پناہ نقصانات ہوں گے(۳)، اقوام متحدہ کے ادارے برائے موسمی تبدیلی  IPCC کے مطابق ۱۹۷۰ء اور ۱۹۹۰ کے درمیان طوفانوں (hurricane )کی شدت میں ۲۰ تا ۳۵ فیصدی اضافہ ہوا ہے۔(۴) اندازہ ہے کہ مستقبل میں درجہء حرارت میں مزید زیادتی سے طوفان اور زیادہ شدید اور مہلک ہوں گے۔ریڈکراس اور ریڈ کریسنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق طوفانوں، سیلابوں، زمینی کھسکاؤ کے واقعات اور خشک سالی کے واقعات کی تعداد گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں سالانہ ۲۰۰ کے لگ بھگ تھی جو اس صدی کے ابتدائی سالوں میں بڑھ کر سالانہ ۶۰۰ کے قریب ہوگئی اور آئندہ سالوں میں ان کے وقوعوں میں مزید اضافہ ہی کا اندیشہ ہے۔(۵)

مقامی موسم اور ماحولیات کی تباہی

قطب شمالی اور قطب جنوبی میں برف کے پگھلنے سے وہاں کی حیوانی زندگی کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور اگر یہ پگھل جائیں تو برف پر انحصار کرنے والے تمام جاندار ناپید ہوجائیں گے۔ اسی طرح درجہء حرارت میں زیادتی سے جنگلاتی آگ میں اضافہ ہوگا۔ ۱۹۷۰ء تک صرف شمالی امریکہ میں آگ کی وجہ سے تباہ ہونے والے جنگلات کا اوسط رقبہ فی دہائی 10,000 مربع کلومیٹر تھا اب یہ اوسط بڑھ کر فی دہائی 28,000 مربع کلومیٹر ہوگیا ہے۔ اس آگ سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی اکسائڈ اس کے اخراج کی موجودہ شرح کا ۱۵ فیصدی حصہ ہے جس سے درجہء حرارت میں مزید اضافہ ہوگا۔ جنگلاتی آگ پر مزید تفصیل آگے ملاحظہ ہو۔

موسمی تبدیلی کے اثرات اوزون پرت پر

اوپر عالمی درجہء حرارت میں تبدیلی کے جن اثرات سے بحث کی گئی ہے وہ کرئہ ارض پر غیر فطری سرگرمیوں کی زیادتی کا صرف ایک رخ ہیں، ان غیر فطری یا دوسرے الفاظ میں انسانی سرگرمیوں کا دوسرا رخ اوزون پرت کی تباہی ہے۔ اوزون پرت (ozone layer) جو سورج کی تباہ کن بالائے بنفشی شعاعوں (ultraviolet radiations) سے کرئہ ارض پر انسانی زندگی اور دوسری تمام انواع حیات (living organisms) کی حفاظت کرتی ہے اس کو انسانی سرگرمیوں کے ذریعہ اخراج کی جانے والی بعض گیسوں بالخصوص CFC  کی وجہ سے خطرات لاحق ہیں لہٰذا اس پرت کو ان گیسوں کے اخراج کی وجہ سے دو طرفہ نقصان پہنچ رہا ہے۔ اول یہ کہ ۱۹۸۰ء سے اب تک اس پرت کی موٹائی میں عمومی اعتبار سے فی دہائی چار فیصد کی تخفیف آرہی ہے۔ دوسرا یہ کہ اس پرت میں بعض جگہوں پر بے انتہاء تخفیف کی وجہ سے اس میں بڑے سوراخ نمودار ہونا شروع ہوگئے ہیں اگرچہ کہ ان سوراخوں کی نوعیت وقتی اور موسمی ہے یعنی کہ یہ ستمبر تا دسمبر رونما ہوتے ہیں۔ جیسے کہ قطب جنوبی میں انٹارٹکا کا اوزونی سوراخ۔
لہٰذا یہ اوزون پرت جو سورج سے خارج مہلک بالائے بنفشجی شعاعوں کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اس کی اس کمزوری کی وجہ سے یہ مہلک شعاعیںکرئہ فضا (atmosphere) کے اندر داخل ہوکر نباتات اور حیوانات کے نفس وجود کے لئے بہت بڑا خطرہ بن جاتی ہیں، اس سے ایک طرف انسان کو سنگین قسم کے امراضِ کینسر لاحق ہوں گے تو دوسری طرف فضا میں ان خطرناک اشعاعات کی وجہ سے نباتات اور فصلوں کو سنگین خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ جنوبی امریکہ کے ملک چلی Chile  کے بعض علاقے جو قطب جنوبی کے اوزونی سوراخ کے دائرے میں آتے ہیں وہاں کی فضا میں ان شعاعوں کی موجودگی کی وجہ سے پچھلے ۷ سالوں میں انسانوں میں جلد اور دوسرے کینسری امراض میں پچاس فیصد سے بھی زیادہ اضافہ درج کیا گیا ہے۔(۶)

تیزابی برساتیں

موسمی تبدیلیوں کا تیسرا مہلک اثر تیزابی بارش acid rain) (ہے۔ تیزابی بارش اس وقت واقع ہوتی ہے جب فضا میں سلفر ڈائی آکسائڈ(Sulfur Dioxide) اور نائٹروجن آکسائڈ  (Nitrogen Oxide) کے اخراج اور انکے کیمیاوی تغیر کے بعد بادل میں موجود پانی کے قطرات ان کو جذب کرلیتے ہیں، پھر یہ قطرات بارش، برف، شبنم ، اولوں وغیرہ کے ذریعہ زمین پر برستے ہیں، جن سے زمین کی تیزابیت میں اضافہ ہوتا ہے اور تالابوں، ندیوں اور سمندروں کا کیمیاوی توازن بھی متاثر ہوتا ہے لہٰذا تیزابی برساتوں سے ایک طرف تازہ پانی کی فراوانی کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ اس سے تالابوں اور ندیوں کا پانی زہر آلود ہورہا ہے تو دوسری طرف اس سے آبی جانوروں کا وجود بھی خطرہ میں پڑ گیا ہے، لہٰذا کئی جگہوں پر مچھلیوں کی مختلف انواع تیزابی بارش کی وجہ سے یکسر ختم ہوچکی ہیں۔ تیزابی بارش زمین کی زرخیزیت کے لئے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہے، جو اس کے لئے زہر کا کام کررہی ہے۔ اس سے ایک طرف جنگلات کا بڑھنا رک جائے گا تو دوسری طرف اس کے مہلک اثرات سے جنگلات کو بڑے پیمانے ہمیشہ کے لئے ختم ہوجانے کا خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ بعض سائنسدانوں کی رائے ہے کہ تیزابی بارش کے انسان اور انسانی صحت پر بلاواسطہ اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ اس کی تفصیل کے لئے کتاب کے اگلے مباحث ملاحظہ ہوں۔(۷)

عالمی تمازت میں اضافہ کے اسباب

روایتی اعتبار سے عالمی درجہء حرارت میں زیادتی کے لئے کئی اسباب وعوامل کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا رہا ہے، جن میں ساختمانی تختیوں کی حرکات، سورج کی تپش کی کمی وزیادتی، زمین کی محوری گردش کا اختلاف، اور کرئہ ارض کے آتش فشاں وغیرہ قابل ذکر ہیں مگر اقوام متحدہ کی بین الحکومتی کونسل برائے موسمی تبدیلی IPCCنے اپنے حالیہ اجلاس منعقدہ فروری ۲۰۰۷ میں پہلی بار اس کو رسمی طور تسلیم کیا کہ کرئہ ارض پر موجودہ موسمی تبدیلی اور درجہء حرارت میں زیادتی کے لئے ۹۰ فیصد سے زائد گرین ہاؤس گیسیں ذمہ دار ہیں جو انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے رونما ہوتی ہیں اور فضا میں ان گیسوں کا غیر فطری اجماع ۱۸۵۰ء کے صنعتی انقلاب کے بعد شروع ہوا۔(۸)
لہٰذا کرئہ ارض کی موجودہ موسمی تبدیلیوں کے لئے انسان کے ذریعہ کرئہ ہوا میں خارج کی جانے والی گرین ہاؤس گیسیں ہیں۔ گرین ہاؤس گیسیں ان گیسوں کو کہا جاتا ہے جو سورج کی گرمی کو سطح زمین سے منعکس ہونے کے بعد فضا ہی میں روک لیتی ہیںاور انہیں خلا میں واپس جانے نہیں دیتیں۔ لہٰذا فضا میں ان گیسوں کا وجود کرئہ ارض کے درجہء حرارت میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ ان گیسوں میںآبی بخارت، کاربن ڈائی اکسائڈ ، میتھین، نائٹرس آکسائد (Nitrous Oxide)،  اوزون، اور سی ، یف سی، (CFC) وغیرہ شامل ہیں۔ یہ گیسیں کرئہ ارض پر انسانی عمل دخل اور اس کی تمدنی اور صنعتی سرگرمیوں کی بنا پر فضا میں خارج ہوتی ہیں۔

کرئہ ارض کی تباہی کے لئے ذمہ دار کون؟

خلاصہ یہ کہ عالمی درجہء حرارت میں زیادتی اور یہاں پر بڑے پیمانے پر موسمی اور ماحولیاتی تبدیلی کے لئے کرئہ ارض پر انسان کی صنعتی وتمدنی سرگرمیاں ذمہ دار ہیں۔ اب اگر کرئہ ارض کی اس عدیم المثال تباہی کے لئے ذمہ دار ممالک کا ملک وار جائزہ لیا جائے تو اس فہرست میں سب سے آگے گنے چنے ترقی یافتہ ممالک نظر آئیں گے لہٰذا آج فضا میں ان گیسوں کے ۴؍۳ سے زائد اخراج اور اجماع کے لئے یہی ممالک ذمہ دار ہیں جن میں ریاستہائے متحدہ امریکہ، یوروپی یونین، روس (سابق سوویت یونین) اور چین کا کردار سب سے زیادہ اہم ہے لہٰذا آج صنعتی ترقی اور معاشی میدان میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے ان ممالک کی دوڑ اور جنون نے کرئہ ارض پر انسان سمیت تمام انواع حیات کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور ان کے نفس وجود وبقا پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ گوانسان کو کرئہ ارض پر مستقبل قریب میں اپنی مکمل تباہی کا منظر صاف نظر آرہا ہے، اس کے باوجود صرف اس وجہ سے کہ اگر موجودہ صنعتی ترقیات پر روک لگائی گئی تو اس سے ان نام نہاد ترقی یافتہ ممالک میں زندگی کے معیار (life style )میں فرق پڑ جائے گا کوئی بھی ملک اس سلسلے میں سنجیدہ اقدامات کرنے پر رضامند دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ اس طرح ان چند ممالک کی معاشی وصنعتی ترقی کی اتنی بڑی قیمت کرئہ ارض اور اس کے تمام مکینوں کو چکانی پڑرہی ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر اور کسی دہشت گردی کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے!

سائنسدان مستقبل کی موسمی تبدیلی کی حقیقی تباہ کاریوں سے ناواقف

عالمی درجہء حرارت میں زیادتی کے اثرات کا یہ محض ایک سرسری جائزہ ہے، اس کی تفصیلات اور گوناگوں اثرات اتنے زیادہ اور ہمہ گیر ہیں کہ ان تمام کا استقصا یہاں ممکن نہیں ہے۔ یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ موسمی تبدیلی کے یہ اثرات کرئہ ارض کے درجہء حرارت میں محض ابتدائی تبدیلیوں (۸ئ۰) کا شاخسانہ ہیں۔ اب اگر اس کی شرح تجاوز کرکے ۴، ۵، ۶ یا اس سے زائد ڈگری کو پہنچ جائے جیسا کہ اقوام متحدہ کے ادارے برائے موسمی تبدیلی کے اس سلسلے میں اندازہ ہے تو پھر ہمارے کرئہ ارض پر کس قسم کی تباہی رونما ہوسکتی ہے؟ اس کا اندازہ لگانا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔

موسمی تبدیلی کے صحیح اعداد وشمار متنازعہ فیہ

کرئہ ارض پر واقع ہورہی اس عالمی تباہی اور اس کی ہمہ جہت تاثیرات کی وجہ سے اس کے بیشتر صحیح اعداد وشمار کو حکومتوں نے متنازعہ فیہ بنا کر رکھ دیا ہے لہٰذا موسمی تبدیلی اور کرئہ ارض پر واقع ہورہے اس کے اثرات کا مطالعہ کررہے سائنسدانوں کی جماعتوں کو بارہا اس کی شکایات رہی ہیں کہ ان کی تحقیقات اور ان کے اعداد وشمار کو حکومتیں اور حکومتی اور عالمی ادارے منظر عام پر آنے سے یا تو روک لیتی ہیں یا ان کو متنازعہ فیہ بنا دیا جاتا ہے(۹) کیونکہ حکومتوں کو اس سلسلے میں عوامی بغاوتوں اور سیاسی وسماجی انتشار وخلفشار کا خطرہ لاحق ہے۔
اس کا ایک بین ثبوت یہی ہے کہ موسمی تبدیلی کے سلسلے میں بیان کی جارہی پیشین گوئیاں آئے دن غلط ثابت ہورہی ہیں، کیونکہ روز بروز موسمی تبدیلی کے اثرات کرئہ ارض پر اتنی تیزی سے مرتب ہوتے جارہے ہیں کہ اس سلسلے میں سائنسدانوں کے ہر پچھلے اندازوں کی پیشین گوئیاں غلط ثابت ہورہی ہیں اور ان کے تخمینوں سے بڑھ کر زیادہ تیزی سے حالات دگرگوں ہوتے جارہے ہیں، اس کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ آئے دن سائنسدانوں کی پیشین گوئیاں اور اندازے اور تخمینوں میں تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیںیعنی کہ آج سائنسدان جن اعداد وشمار کی پیشین گوئی کرتے ہیں ان میں وہ خود آگے چل کررد وبدل کردیتے ہیں جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ موسمی تبدیلی سے واقع ہورہی تباہ کاریاں ان سائنسدانوں کی پیش قیاسیوں سے کہیں زیادہ فائق ہیں، جن کو حکومتیں اور حکومتی ادارے عوامی رد عمل کے خوف صحیح اور درست طور پر پیش نہیں کرتے۔(۱۰)
________________
 حواشی
(۱)    Climate Change – Impact at 2°C and 3°C, Why We Need to take Action Now, WWF
(۲) Oceanography: Inagmanson & Wallace, P. 86.
(۳)  دیکھئے: ویکیپیڈیا۔
(۴)   See, IPCC, TAR.
(۵) Global Catastrophes, Bill McGuire, P. 30 & 37.
(۶)     WMO Antartic Ozone Bulletin # 7/2004: http://www.wmo.ch/web/arep/04/bulletin_7_2004.pdf
(۷)    ملاحظہ ہو: US EPA: Effects of Acid Rain – Forest ، بحوالہ وکیپیڈیا۔
(۸)  ملاحظہ ہو: IPCC WGI Fourth Assessment Report, P. 2. ۔
(۹) ٹائمز آف انڈیا۔
(۱۰) Global Catastrophes, P. 23.
____________________