اہلیتِ مفتی کی شرائط اور مصنوعی ذہانت

ڈاکٹر مبشر حسین رحمانی

 اہلیتِ مفتی کی شرائط اور مصنوعی ذہانت

ڈاکٹر مبشر حسین رحمانی
 لیکچررمنسٹر ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی،آئرلینڈ
عمومی طور پر تخصص کے طلباء اصول الافتاء کے لیے جن کتابوں کو سالِ اول میں پڑھتے ہیں   ان میں شرح عقود رسم المفتی (امام محمد امین ابن عابدین الشامیؒ) اوراصول الافتاء و آدابہ( حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ ) وغیرہ شامل ہیں۔ان کُتب میں اہلیت مفتی کی شرائط درج ہیں، جن   میں سے کچھ یہ ہیں:
(۱) بالغ ہونا، (۲) عاقل ہونا، (۳) عالم ہونا، (۴) تجربہ کار ہونا، (۵) عادل ہونا، (۶) علماء کا اس پر اعتماد کرنا
(حوالہ: اصول الافتاء و آدابہ : حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ کی کتاب کا آسان ترجمہ و تشریح یعنی فتویٰ: تعارف، اصول، آداب– مفتی محمد منصور احمد صاحب، ص ۷۷۱، ادارہ اسلامیات، لاہور)۔
نیز اہلیتِ مفتی کی شرائط کے تحت یہ بھی درج ہے کہ:
’’ایسے شخص کیلئے فتویٰ دینا جائز نہیں ہے جس نے ماہر اساتذہ سے علم فقہ حاصل نہ کیا ہو بلکہ از خود ہی فقہی کتابوں کا مطالعہ کیا ہو، اسی طرح اس شخص کیلئے بھی فتویٰ دینا جائز نہیں ہے جس نے علم فقہ تو اساتذہ سے پڑھا ہو، جب تک اس کو ایسا ملکہ اور صلاحیت حاصل نہ ہوجائے جس کے ذریعہ وہ احکام شریعت کے اصول و قواعد اور عِلل کو جاننے لگے اور فتویٰ میں معتبر کتابوں کو غیر معتبر کتابوں سے جدا کرسکے‘‘۔ (حوالہ: اصول الافتاء و آدابہ: حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ کی کتاب کا آسان ترجمہ و تشریح یعنی فتویٰ: تعارف، اصول، آداب، مفتی محمد منصور احمد صاحب، صفحہ ۷۷۱، ادارہ اسلامیات، لاہور)۔
قارئین غور فرمائیں کہ مصنوعی ذہانت کی مشین اہلیتِ مفتی کی شرائط میں سے کسی بھی شرط پر پورا نہیں اترتی، مثلاً مصنوعی ذہانت کی ’’مشین‘‘ عاقل، بالغ اور عالم نہیں ہوسکتی اور یہ ساری صفات کے لیے ’’انسان‘‘ ہونا ضروری ہے نیز فتویٰ نویسی کے لیے انسان ہونے کی شرط کوئی اچھنبے کی بات ہیں ہے، مثلاً دنیا کے مستند اور بڑے سائنسی تحقیقی ادارے، یونیورسٹیاں، کمپیوٹر سائنس کی تدریسی و تحقیقی سوسائیٹیز، معیاری سائنسی پبلیشرز، معیاری کانفرنسس، کمیٹی آن پبلیکشن ایتھکس یعنی کوپ، ورلڈ ایسوسی ایشن آف میڈیکل ایڈیٹرز (ویمی) اور دیگر عالمی معیار کے معتبر اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین ِ فن، سائنسدان و محققین بِالْاِتّفاق مصنوعی ذہانت کو بطور مصنف تسلیم نہیں کرتے اور مصنوعی ذہانت، جنریٹیو آئے آئی، چیٹ باٹس اور دیگر سافٹ وئیرز کے بطور مصنف تحقیقی مقالوں میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دیتے اور اس کے لیے پالیسیاں مرتب اور نافذ کرچکے ہیں۔ تفصیل کے لیے قارئین یہ حوالہ دیکھیں ’’مصنوعی ذہانت بطور مصنف؟، دارالعلوم دیوبند کا ترجمان ماہنامہ دارالعلوم، جولائی ۲۰۲۵ء ‘‘۔ہم اختصار کے لیے صرف درجِ ذیل دو مثالوں پر اکتفا کرتے ہیں۔
AI tools cannot meet the requirements for authorship as they cannot take responsibility for the submitted work. As non-legal entities, they cannot assert the presence or absence of conflicts of interest nor manage copyright and license agreements.
’’مصنوعی ذہانت کے ٹولز مصنف ہونے کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتے کیونکہ وہ جمع کرائے گئے کا م کہ ذمہ داری نہیں لے سکتے۔ بطور نان لیگل اداروں کے طور پر، وہ مفادات کے تصادم کی موجودگی یا عدم موجودگی پر زور نہیں دے سکتے اور نہ ہی کاپی رائٹ اور لائسنس کے معاہدوں کا نظم و نسق کر سکتے ہیں۔‘‘
ایسوسی ایشن فار کمپیوٹنگ مشینری (اے سی ایم) Association for ComputingMachinery  (ACM) دنیا کی سب سے بڑی سائنسی و تدریسی کمپیوٹر سوسائٹی ہے۔اے سی ایم پچاس سے زائد کمپیوٹر سائنس کے سائنسی جریدے شائع کرتی ہے جن میں دنیا کے بہترین سائنسی جرائد بھی شامل ہیں، انہی سائنسی جرائد میں سے ایک ’’اے سی ایم؍آئی ای ای ای ٹرانزیکشن آف نیٹ ورکنگ‘‘بھی شامل ہے جو کہ کمپیوٹر سائنس کا ایک نہایت اعلیٰ معیار کا عالمی سائنسی جریدہ ہے۔ٹیورنگ ایوارڈ، جسے کمپیوٹر سائنس کا نوبل پرائز بھی کہا جاتا ہے، یہ بھی ہر سال اے سی ایم ہی دیتی ہے جس کی مالیت ایک ملین امریکی ڈالر، تقریباً ستائیس کڑور پاکستانی روپے، کے برابر ہوتی ہے۔ اے سی ایم کی واضح پالیسی ہے کہ کوئی بھی جنریٹیو مصنوعی ذہانت کے ٹولز (آلات و سافٹ وئیر) کو بطور مصنف کسی بھی صورت شامل نہیں کیا جاسکتا۔ نیز، اے سی ایم واضح طور پر کہتی ہے کہ اے سی ایم کے سائنسی جرائد میں مقالے جمع کروانے والے ’’قابلِ شناخت انسان ہونے چاہییں‘‘، ’’جنہوں نے سائنسی تحقیقی مقالے میں خاطر خواہ کام انجام دیا ہو‘‘، اور ’’جو کہ شائع شدہ سائنسی تحقیقی مقالے میں شائع شدہ مواد کی مکمل ذمہ داری لیتے ہوں‘‘۔
‘‘Can a generative AI tool be listed as an author? 
No, generative AI software tools cannot be listed as authors on ACM Works under any conditions.’’
‘‘Anyone listed as author on an ACM submission must meet all the following criteria:
They are an identifiable human being. Anonymous authorship is not permitted, although pseudonyms and/or pen names are permitted provided accurate contact information is given to ACM. ACM does not currently permit collective authorship.
They have made substantial intellectual contributions to some components of the original Work described in the manuscript, such as contributing to the conception, design, and analysis of the study reported on in the Work and participating in the drafting and/or revision of the manuscript.
They take full responsibility for all content in the published Works’’.
جب پوری سائنسی دنیا مصنوعی ذہانت کو بطور مصنف تسلیم نہیں کرتے اور اس کے ’’انسان‘‘ ہونے کی شرط لازمی لگاتے ہیں تو پھر ان مصنوعی ذہانت کی مشینوں سے فتویٰ نویسی کا کام کیسے لیا جاسکتا ہے؟
اجتہادِ جدید، فتویٰ نویسی اور مصنوعی ذہانت
بعض حضرات مصنوعی ذہانت سے اجتہادِ جدید اور فتویٰ نویسی جیسے کام کروانے کی سوچ رکھتے ہیں۔ہم بس اتنی بات کرنا چاہیں گے کہ وہ مندرجہ ذیل اقتباس ملاحظہ فرمائیں اور اس کو مصنوعی ذہانت کے تناظر میں پڑھیں۔
’’بعض حضرات فقہ اسلامی کی عصری تطبیق اور تصویرِ مسئلہ کی خارجی تمثیل کو جدید مسائل کا نام دیتے ہوئے خود رائی اور اجتہادِ جدید کی طرف لپکنے لگ جاتے ہیں حالانکہ اب تک جدید کہے جانے والے تقریباً تمام مسائل کا حل فقہی فروع یا اُصول و قواعد کی صورت میں ہی بتایا گیا ہے، اس بابت یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مسائل یا احکام نئے نہیں ہوتے بلکہ ان کی صورتیں نئی ہوتی ہیں، فقہاء زمانہ کا کام ہوتا ہے جدید صورتوں کی قدیم فقہ کے ساتھ تطبیق کرنا، قدیم فقہاء کے اجتہادات کی بدولت فقہ ابداعی، تطبیقی اور تقدیری ہمارے سامنے آچکی ہے۔ہمارا اجتہاد ان کے اجتہاد سے پائیدار نہیں ہوسکتا، اس لیے بلاوجہ فقہ قدیم سے جدید مسائل کے نام پر عدول کرنا نامعقول امر ہے۔ ہاں! اگر ایسی صورت پیش آجائے جس کا فقہ قدیم کے ذخیرہ میں نصاً، اصولاً، فرعاً، اثباتاًیا نفیاً کوئی حل نہ ملتا ہو تو اس کے حل کے لیے فقہاء امت کے وضع کردہ اُصولوں کی روشنی میں متدین و متعبد علماء کی مجلسِ مشاورت منعقد کی جائے گی اور وہ مجلس ایسی مشکلات میں اُمت کی دینی رہنمائی کرے گی۔ ایسے مسائل ان کے حل کیلئے رہنما اصول اور اجتہاد کے اصول و شرائط سے متعلق حضرت علامہ محمد یوسف بنوریؒ کے چند گراں قدر مقالات جو فتاویٰ بینات کے شروع میں مقدمہ کے طور پرشامل ہیں، ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے‘‘۔(حوالہ: حضرت مفتی رفیق احمد بالاکوٹی صاحب ، فقہ اور اُصولِ فقہ کی تدریس! مسالکِ اربعہ میں ائمہ کے اختلاف کے بنیادی اجتہادی اُصول: تیسری اور آخری قسط، ماہنامہ ’’بینات‘‘ جون ۲۰۱۹ )
تفقہ فی الدین، منصب افتاء اور مصنوعی ذہانت
فتویٰ نویسی پر ہم محدث العصر علامہ سیدمحمدیوسف بنوریؒ کا ایک اقتباس نقل کرتے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ فتویٰ نویسی بچوں کا کھیل نہیں۔قارئین سے گزارش ہے کہ اس اقتباس کو ’’مصنوعی ذہانت‘‘ کے تناظر میں پڑھیں۔
’’بہرحال! تفقہ فی الدین اور ’’افتائ‘‘ کے بلند منصب پر ہر زید و عمرو کو فائز نہیں کیا جاسکتا، نہ ابوالفضل اور فیضی مزاج کے لوگوں کو اس پر براجمان کیا جاسکتا ہے، ہمارے ملک میں ہزاروں علمائ، ہزاروں مؤلف اور ہزاروں مبلغ موجود ہیں لیکن ایسے حضرات بس چند گنے چنے ہی ہوں گے جنہیں تفقہ کا منصب جلیل حاصل ہے اور امت ان کے علم و عمل پر اعتماد رکھتی ہے، فتویٰ نویسی بچوں کا کھیل نہیں کہ ہر شخص کو اس کا اہل سمجھا جائے، اگرچہ اسلامی حکومت کی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے آج کل برساتی کیڑوں کی طرح نام نہاد فتویٰ نویسوں کا سیلاب امنڈنا شروع ہو گیا ہے جس کے ہاتھ میں قلم ہے اور اس نے الٹے سیدھے چند سیاہ حروف پڑھ لئے ہیں وہ مفتی بن بیٹھا ہے اور خلق خدا کو گمراہ کرکے اپنے نامہ عمل کی سیاہی میں اضافہ کررہا ہے لیکن امت مسلمہ کے ایک عامی شخص تک میں بھی ابھی اتنا شعور موجود ہے کہ وہ واقعی مفتی اور ’’مصنوعی مفتی‘‘ کے درمیان اور صحیح عالم اور ’’عالم نما جاہل‘‘ کے درمیان تمیز کرسکے۔‘‘ (حوالہ:محدث العصر علامہ سیدمحمدیوسف بنوری ؒ، بصائروعبر:۱؍۶۱،۷۱،طبع:مکتبہ بینات، جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی)۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی قدس سرہ اکثر فرمایا کرتے تھے:
’’محض فقہی کتابوں کے جزئیات یاد کرلینے سے انسان فقیہ یا مفتی نہیں بنتا؛ میں نے ایسے بہت سے حضرات دیکھے ہیں جنہیں فقہی جزئیات ہی نہیں، ان کی عبارتیں بھی ازبر تھیں، لیکن ان میں فتویٰ کی مناسبت نظر نہیں آئی۔وجہ یہ ہے کہ درحقیقت ’’فقہ‘‘ کے معنی ’’سمجھ‘‘ کے ہیں اور فقیہ وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دین کی سمجھ عطا فرمادی ہو اور یہ سمجھ محض وسعت مطالعہ یا فقہی جزئیات یاد کرنے سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے کسی ماہر فقیہ کی صحبت اور اس سے تربیت لینے کی ضرورت ہے‘‘۔ (حوالہ حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب، میرے والد میرے شیخ، ص:۶۵، ادارۃ المعارف کراچی)۔
سوال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مشینوں میں دین کی ’’سمجھ‘‘ کہاں سے آئے گی؟ نیز ان مشینوں کو اکابر مفتیانِ کرام کی صحبت کیسے نصیب ہوگی؟ ان مشینوں میں اخلاص، للہیت، تقویٰ، اور دیگر فضائل کیسے آئیں گے؟ اسی بات کو اکبر الہ آبادی مرحوم نے بھی کہا ہے۔…
کورس تو لفظ ہی سکھاتے ہیں   آدمی، آدمی بناتے ہیں
ہمارے اکابریں صرف فقہی جزئیات کی عبارتیں ازبر کرنے اور وسعت مطالعہ سے کسی کو مفتی نہیں سمجھتے تھے۔ آج یہ پھر کیسے سمجھا جاسکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مشینیں فتویٰ نویسی کا کام کرسکتی ہیں؟ جو صاحبانِ علم مصنوعی ذہانت کو خود استعمال کررہے ہیں اور عوام الناس کو بھی اس کے استعمال کی ترغیب دے رہے ہیں کیا ان صاحبانِ علم کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ عوام الناس کو متقی باعمل مفتیانِ کرام کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب دیں اور خود بھی مصنوعی ذہانت کو فتویٰ نویسی میں استعمال کرنے سے گریز کریں؟