مسلمان معلمین عصری علوم کیسے پڑھائیں؟ ۔۔۔آخری قسط
ڈاکٹر اسعد زمان
وائس چانسلر انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس اسلام آباد
سائنس حسنِ تخلیق تو دکھلاتی ہے مگر خالق کی بات نہیں کرتے، سائنس کا طریقہ تدریس اس وقت گمراہ کن بن جاتا ہے جب وہ کائنات کے حسنِ تخلیق کو تو دکھاتا ہے مگر اس کے پسِ منظر میں موجود نظمِ الٰہی پر خاموش رہتا ہے، ہمارا مقصد طلبہ کو مذہبی مناظرے میں الجھانا نہیں بلکہ انہیں سائنس کے دعوں اور اس کی خاموشیوں، دونوں پر غور کرنا سکھانا ہے، جدید سائنس کی بہت سی دریافتیں ایسی ہیں جو کائنات کے خالق کی طرف اشارہ کرتی ہیں، چونکہ خالق کی بات سائنس کی حدود سے باہر ہے، اس لئے بہت سے سائنس دان ان موضوعات پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، اس قسم کی تین مثالیں پیش ہیں، ہم انہیں طلبہ کے سامنے غور و فکر کی دعوت کے ساتھ رکھ سکتے ہیں اللہ تعالی کے وجود کے ثبوت کے طور پر نہیں بلکہ تفکر کے مواقع کے طور پر جب طالبِ علم خود سوچے گا تو وہ زیادہ مضبوط ایمان کی طرف پہنچے گا۔
پہلی مثال: ہزاروں سال سے فلاسفہ کا اتفاق رہا کہ ہماری کائنات ازلی ہے یعنی ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔
بیسویں صدی میں دوربینوں میں نمایاں ترقی کے باعث ستاروں کی مواقع اور رفتار کی بہتر پیمائش ممکن ہوئی تو سورہ واقعہ کی آیت فلا قسِم بِمواقِعِ النجومِ کا ایک نیا مفہوم سامنے آیا، سائنسدان یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ستاروں کی حرکت گواہی دے رہی ہے کہ ساری کائنات ایک ہی نقطے سے شروع ہوئی ہے اور ایک ایسا وقت بھی تھا جب کائنات وجود میں نہیں تھی، اس دریافت سے ایک فطری سوال جنم لیتا ہے، اس کائنات کو عدم سے وجود میں کس نے لایا؟ سائنس اس سوال کا کوئی جواب نہیں دے سکتی؛ اس معاملے میں صرف اسلامی تعلیمات ہی ہمیں رہ نمائی فراہم کرتی ہیں۔
دوسری مثال: ہماری کائنات میں حیرت انگیز توازن ہے، درجنوں قوانینِ قدرت ایسے ہیں کہ اگر ان میں ذرے برابر کا فرق آ جائے تو انسانی زندگی ناممکن ہو جائے، اس طرح یہ کائنات ایک انتہائی
باکمال کاریگر کی طرف اشارہ کرتی ہے تبارک اﷲ حسن الخالِقِین اس تخلیقی معجزے سے ایک فطری سوال اٹھتا ہے۔
یہ سب کچھ خود بخود کیسے ہو سکتا ہے؟ اس بارے میں سائنسدانوں نے رائے زنی تو کی ہے مگر اس کا کوئی مدلل جواب آج تک نہیں دے سکے-
تیسری مثال: جب ہم خود اپنے وجود پر غور کرتے ہیں اپنی جسمانی ساخت، نفسیاتی پیچیدگی اور روحانی گہرائی پر تو یہ احساس ہوتا ہے کہ انسان خود ایک مکمل کائنات ہے، سوال یہ ہے کہ انسان وجود میں کیسے آیا؟ ڈارون کا نظریہ ارتقا (Theory of Evolution) یہ دعوی کرتا ہے کہ انسان کم درجے کے جانداروں سے تدریجا ترقی کر کے موجودہ شکل میں پہنچا مگر آج خود بہت سے سائنسدان، حتی کہ ملحد سائنس دان بھی، اس نظریے میں کئی سنگین سقم کی نشان دہی کر چکے ہیں، مثال کے طور پر زندگی کی بنیادی اکائی یعنی خلیہ (Cell) جس سے ہر جاندار بنا ہے ناقابلِ تصور حد تک پیچیدہ ہے، اس کا تنظیمی ڈھانچہ نیو یارک جیسے بڑے شہر سے بھی زیادہ منظم ہے اور اس کے اندر موجود معلومات دنیا کی سب سے بڑی لائبریریوں کی تمام کتابوں سے زیادہ ہیں، سائنس کے پاس آج تک اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کہ پہلا خلیہ جو ارتقائی عمل کے آغاز کیلئے ضروری تھا کیسے وجود میں آیا؟ یہ سوال، جو سادہ مگر گہرا ہے، خود ایک دعوتِ فکر ہے، جب زندگی کی پہلی چنگاری کسی سائنسی قانون کے بغیر بھڑکی تو کیا یہ ممکن نہیں کہ اس کے پیچھے کسی حکمت اور ارادے کا عمل دخل ہو؟ سائنس اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی کیونکہ یہ اس کے دائرے سے باہر ہے مگر عقلِ سلیم، وجدان اور وحی ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ سب کچھ کسی مدبر و خالق کے ارادے کے بغیر ممکن نہیں، جدید سائنسی معلومات اس آیت کی تشریح کرتی ہیں اور ہمیں سائنسی مضامین کو اسلامی تعلیمات کے تناظر میں پیش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّھَارِ لَاٰیٰتِ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ (ال عمران:۱۹۰)
سائنس کا علم، خیر اور شر، دونوں کیلئے استعمال ہو سکتا ہے
سائنس بذاتِ خود تحقیق کا ایک طریقہ ہے لیکن جب اسے ضمیر اور مقصد سے الگ کر دیا جائے تو یہی علم انسانیت کیلئے خطرہ بن جاتا ہے، وہی علم جو شفا دیتا ہے، تباہی بھی پھیلا سکتا ہے؛ وہی ٹیکنالوجی جو روشنی لاتی ہے، اندھیرا بھی پھیلا سکتی ہے، مغربی دنیا سائنس کی کامیابیوں پر فخر کرتی ہے مگر کبھی یہ سوال نہیں اٹھاتی کہ ان کامیابیوں کی قیمت کیا تھی؟ ہم موبائل فون، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت کے کرشموں سے محظوظ ہیں مگر تحقیق بتاتی ہے کہ انہی آلات نے انسان کی توجہ، تنہائی اور تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا ہے، ہم پہلے سے زیادہ جڑے ہوئے ہیں مگر پہلے سے زیادہ تنہا اور منتشر بھی، گہری سوچ اور پائیدار رشتے جو انسانی خوشی اور دانش کیلئے ناگزیر ہیں دونوں متاثر ہو چکے ہیں، اسی طرح جدید طب نے لاکھوں جانیں بچائیں مگر وہی سائنسی ترقی دونوں عالمی جنگوں میں کروڑوں انسانوں کی ہلاکت کا سبب بھی بنی، ایٹم بم، کیمیائی ہتھیار اور صنعتی پیمانے پر قتل یہ سب سائنسی ترقی ہی کے ثمر تھے۔
پچھلی صدی انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ خونریز صدی تھی لہٰذا سائنس کی تعریف کرتے وقت ہمیں اس کے اخلاقی توازن پر بھی غور کرنا چاہیے، سوال یہ نہیں کہ سائنس برا ہے بلکہ یہ کہ جب علم کو اخلاق سے جدا کر دیا جائے تو نفع بخش علم بھی مہلک بن جاتا ہے، جب اخلاقی تعلیم ختم ہوگئی تو جدید تعلیمی اداروں نے ایسے ذہن پیدا کئے جو انسانوں کی اجتماعی ہلاکت کیلئے نت نئے ہتھیار ایجاد کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں، مسلم استاد کا فریضہ یہ ہے کہ وہ ان سوالات کو سائنس کی تدریس میں دوبارہ زندہ کرے کہ یہ علم کس کے فائدے میں استعمال ہو رہا ہے؟ کون اس سے نقصان اٹھا رہا ہے؟ اور یہ طاقت ہمیں کس اخلاقی ذمہ داری کی یاد دہانی کراتی ہے؟ جب ہم اخلاقی تربیت کو سائنسی تعلیم کے ساتھ جوڑ دیں گے تو یہ علم انسانیت کیلئے نفع بخش بن جائے گا ۔
سائنسی علم ظنی ہے، حتمی نہیں
سائنس کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ یہ یقینی اور قطعی علم فراہم کرتی ہے یعنی جو کچھ سائنس کہتی ہے، وہ آخری اور کامل سچائی ہے، یہ تصور دراصل ایک تاریخی غلط فہمی کی پیداوار ہے، صدیوں کی مذہبی جنگوں کے نتیجے میں ایک طبقے نے دین کو ہٹا کر، سائنسی بنیادوں پر معاشرے کی تشکیل کرنا چاہی، سائنس اور دین کی اس کشمکش میں سائنس کو یقینی بنا کر پیش کیا گیا، سائنس کی دین پر فتح کے بعد سائنس پر یہ اعتقاد راسخ ہوگیا، ابتدائی سائنسی کامیابیوں نے اس غلط فہمی کو اور مضبوط کیا، نیوٹن کے قوانین نے کائنات کے مظاہر کو حیرت انگیز درستگی سے بیان کیا یہاں تک کہ یورپ میں یہ یقین عام ہوگیا کہ اب علمِ مطلق دریافت ہو چکا ہے اور انسان نے قدرت کے تمام راز پا لیے ہیں مگر بیسویں صدی کے آغاز میں آئن اسٹائن نے یہ بھرم توڑ دیا، اس نے دکھایا کہ نیوٹن کے قوانین صرف ایک خاص حد تک درست ہیں وہ رفتارِ نور کے قریب یا ایٹمی سطح پر ناکام ہوجاتے ہیں، یوں جو علم یقینی سمجھا جاتا تھا، وہ محض تخمینہ نکلا، اس کے بعد کوانٹم تھیوری نے آئن اسٹائن کے بھی تصورات چیلنج کر دیے، یہ نظریہ اتنا عجیب اور خلافِ فطرت محسوس ہوا کہ خود آئن اسٹائن نے اپنی وفات تک اسے مکمل طور پر تسلیم نہ کیا، یہی وہ تاریخی شواہد ہیں جو بتاتے ہیں کہ سائنس ہمیں حتمی اور یقینی علم فراہم نہیں کرتی، گو کہ عوام میں یہ بات مشہور نہیں مگر مغربی فلسفہ علم میں اب اس پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے، سائنس اندازوں اور مفروضوں کا ایک مسلسل سفر ہے، جو ہر نئی دریافت کے ساتھ اپنی پرانی باتوں کو بدل دیتا ہے، اس کے باوجود موجودہ سائنسی تعلیم، سائنسی معلومات کو یقینی بنا کر پیش کرتی ہے، چناںچہ مسلم معلم کیلئے اصل کام یہ ہے کہ وہ سائنس کو اس کی صحیح جگہ پر رکھے، بطورِ ایک مفید مگر محدود علم، جو ہماری آنکھوں کو روشن تو کرتا ہے مگر دل کے اندھیروں کو نہیں مٹا سکتا ۔
اختتامی پیغام برائے استادِ سائنس
سائنس کے مسلمان معلم کیلئے سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ طلبہ کے ذہنوں میں جمی اس خاموش عقیدت کو پہچانے کہ سائنس ہی سب سے اعلی اور یقینی علم ہے، یہ یقین محض علمی مغالطہ نہیں بلکہ تہذیبی تجربے کی پیداوار ہے، طلبہ روزانہ اپنی آنکھوں سے سائنس کی قوت دیکھتے ہیں، دوائیں جو جانیں بچاتی ہیں، مشینیں جو فاصلے مٹا دیتی ہیں اور ٹیکنالوجی جو زندگی کو آسان بناتی ہے، وہ مغربی اقوام کی سائنسی ترقی کو ان کی عالمی برتری کا راز سمجھتے ہیں، ایسے ماحول میں جب ہم سائنس کی حدود یا اس کے اخلاقی پہلو پر بات کرتے ہیں تو طلبہ فورا دفاعی ہو جاتے ہیں، اس لئے ہمیں تنقید نہیں بلکہ توازن سکھانے کی ضرورت ہے، استاد کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ طلبہ کے سائنسی اشتیاق اور حیرت کو سراہے کیونکہ یہی حیرت تفکر اور ایمان دونوں کی بنیاد ہے، پھر بتدریج یہ نکتہ واضح کرے کہ سائنس کا دائرہ محدود ہے، وہ ہمیں یہ تو بتاتی ہے کہ چیزیں کیسے کام کرتی ہیں مگر یہ نہیں بتاتی کہ انہیں کیوں اور کس مقصد کیلئے استعمال کرنا چاہیے، یہ سوالات صرف عقل نہیں بلکہ ضمیر اور وحی سے جواب پاتے ہیں، اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو ایسی گفتگو میں شریک کریں جو ان کے تجربات سے جڑی ہو جیسے ماحولیاتی تباہی، سماجی تنہائی یا اخلاقی زوال اور انہیں دکھائیں کہ یہ مسائل سائنسی ترقی کے باوجود حل نہیں ہوسکے، جب طلبہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ علم کی روشنی کے باوجود انسانیت اندھیرے میں بھٹک رہی ہے تو وہ فطری طور پر ان سوالات کی طرف لوٹتے ہیں جن کے جواب صرف ایمان فراہم کر سکتا ہے، اس طرز سے سائنس کی تعلیم طلبہ کو الحاد کے بجائے ایمان اور اخلاق کی طرف لے جا سکتی ہے۔
معاشرتی علوم کی تدریس کا اسلامی طریق کار
قدرتی علوم میں مسلمان اساتذہ کا اصل کام یہ ہے کہ وہ سائنسی علم کی حدود کو پہچانیں اور اسے اخلاق اور ایمان کے ساتھ دوبارہ جوڑیں لیکن معاشرتی علوم کے معاملے میں صورتحال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، یہاں خود علوم کی بنیادیں ایسی فرضیات پر قائم ہیں جو اسلامی تصورِ انسان، تصورِ علم اور تصورِ معاشرہ سے براہِ راست متصادم ہیں، ان مضامین کی ذمہ دارانہ تدریس کیلئے ضروری ہے کہ مسلمان معلم ان میں پوشیدہ فکری زاویے اور نظریہ حیات کو بے نقاب کریں اور طلبہ کی رہنمائی کریں تاکہ وہ ان نظریات کی قوت اور اخلاقی کمزوری، دونوں کو سمجھ سکیں
معاشرتی علوم کی ظاہری سائنسی حیثیت کا فریب
لفظ سائنس اپنے ساتھ یقین، قطعیت اور آفاقیت کا تاثر لاتا ہے، جب معاشرتی علوم کو سوشل سائنسز کہا گیا تو یہ مفہوم خود بخود پیدا ہوا کہ یہ بھی فطری علوم کی طرح ناقابلِ خطا، تجربے اور مشاہدے پر مبنی یقینی علم ہیں، درحقیقت یہ ایک فریب ہے، اس فریب کو سمجھنے کیلئے اس کی تاریخی ابتدا سمجھنے کی ضرورت ہے، یورپ نے طویل عرصے تک انسانی معاشروں کا مطالعہ تاریخ، فلسفہ اور اخلاق کی روشنی میں کیا تھا مگر دو عظیم جنگوں نے اس قدیم طریقہ فکر کی ساکھ کو تباہ کر دیا، ان جنگوں نے یہ وہم توڑ دیا کہ عقلِ انسانی اور روشن خیالی (Enlightenment) پر مبنی معاشرتی نظام دنیا میں امن قائم کر سکے گا، اسی دوران سائنسی ایجادات طیاروں، توپوں اور ایٹمی ہتھیاروں نے یورپ کو غیر معمولی مادی طاقت بھی دی اور ساتھ ہی سائنس کو بے پناہ عزت بھی عطا کر دی، چنانچہ معاشرتی علوم کے علما نے اپنے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنے کیلئے تاریخ اور اخلاق پر مبنی پرانے طریقے چھوڑ دیے اور فطری سائنسز کے اسلوب کو اپنانے کی کوشش کی، یوں مشاہدہ، پیمائش اور اعداد وشمار انسانی رویوں پر مسلط کر دیے گئے، انسان اور معاشرے کو ریاضی کے قواعد کا پابند کرنے سے بے شمار نقصانات پیدا ہوئے ہیں، گو کہ مفکرین نے ان نقصانات کی نشاندہی کی ہے مگر جمہور کی فکر بدلنا ایک مشکل کام ہے، مسلمان اساتذہ کیلئے یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ انسان آزاد ہے اور اسے پیچیدہ ریاضیات اور شماریات کے قواعد کا پابند سمجھنا علم نہیں بلکہ علم کا فریب ہے، جب ہماری آنکھیں مغربی معاشرتی علوم کی چمک دمک سے دھوکا نہ کھائیں تو پھر ہی ہماری علمی میراث کی قیمت واضح ہوتی ہے، یہ میراث ہمیں بہترین انسان اور معاشرے کی تشکیل کے طریقے بتاتی ہے، جو مغربی تصورات کے دائرے سے باہر ہیں، مغربی معاشرتی علوم کے فریب کی ایک اور اہم وجہ ہے، یورپ نے اپنے آپ کو دنیا کی سب سے ترقی یافتہ تہذیب سمجھا اور یہ نظریہ پھیلایا کہ باقی اقوام بھی اسی کے نقشِ قدم پر چل کر ترقی حاصل کر سکتی ہیں، یوں مغرب کے اپنے تاریخی تجربات کو سائنس کا درجہ دے کر آفاقی سچائی کا لبادہ اوڑھا دیا گیا، اس طرح سوشل سائنس دراصل یورپ کی تاریخ کا بیان بن گئی، جسے پوری انسانیت پر منطبق کر دیا گیا، اس سوچ کا سب سے بڑا اثر اسلامی دنیا پر پڑا، جب مسلمان مفکرین اور تعلیمی اداروں نے مغربی معاشرتی علوم کو بلا تنقید قبول کیا تو ہم نے اپنے معاشروں کو انہی اداروں اور اصولوں کی طرز پر ڈھالنے کی کوشش کی، ہم نے یہ سمجھ لیا کہ مغربی طرزِ حکومت، معیشت اور تعلیم ہی انسانی ترقی کا معیار ہیں حالانکہ یہ تمام ادارے ایک ایسے فکری پس منظر سے پیدا ہوئے جس میں خدا، وحی اور آخرت کے تصورات کو خارج کر دیا گیا تھا
معاشرتی علوم میں پوشیدہ اخلاقی اقدار
انسانی معاشرے کا ہر مطالعہ دراصل ایک تصورِ مثالی معاشرہ پر مبنی ہوتا ہے یعنی یہ خیال کہ معاشرہ کیسا ہونا چاہیے اور موجودہ حالت اس مثالی معیار سے کس قدر دور ہے مگر جب انسانی معاشرے کے مطالعے کو سائنس کا نام دیا گیا تو اقدار کو ظاہر کرنا ناممکن ہوگیا، چنانچہ سائنس کے دعوے کے ساتھ اخلاقی اقدار کو چھپانا اور غیر جانبداری کا تاثر دینا ضروری سمجھا گیا، یوں دو بڑے فریب وجود میں آئے ایک یہ کہ سماجی علم سائنسی ہے اور اس لئے قطعیت رکھتا ہے اور دوسرا یہ کہ مثالی معاشرہ دراصل مغربی تہذیب ہے کیونکہ وہ عقل و ترقی کی معراج سمجھی جاتی ہے، یہی وہ پوشیدہ مفروضہ ہے جس نے مغربی معاشرتی علوم کے اخلاقی ڈھانچے کو تشکیل دیا، جب عقل کو وحی پر اور انسان کو خالق پر برتری دی گئی تو قدروں کا سر چشمہ خدا نہیں بلکہ خود انسان قرار پایا، یوں خدا کو علم اور اخلاق دونوں سے خارج کر دیا گیا، جب خالق کا انکار ہوگیا تو انسان محض ایک جانور کی قسم رہ گیا، جو جبلت اور مقابلے کے جذبے سے چلتا ہے، ایسی دنیا میں معاشرہ ایک جنگل بن جاتا ہے، جہاں واحد قانون طاقت ور کی بقا ہے، اسی نظریہ حیات کے تحت خود غرضی کو عقل مندی اور نفع پرستی کو ترقی قرار دیا گیا، معیشت نے حرص کو self-interest کے نام سے نیکی بنا دیا، سیاست نے طاقت کے حصول کو حقیقت پسندی کا درجہ دیا اور عمرانیات نے مذہب اور اخلاق کو محض سماجی معاہدے (social constructions )قرار دے کر ان کی الوہی حقیقت سے انکار کر دیا، یوں سائنس کے نام پر ایک اخلاقی فلسفہ چھپ گیا ایسا فلسفہ جو یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی ایک مسلسل کشمکش ہے، کامیابی صرف طاقت وروں کا حق ہے اور اخلاقی اصول محض خوش فہمی ہیں، مسلم معلم کیلئے یہ اخلاقی فرق واضح کرنا نہایت ضروری ہے مگر یہ کام وعظ ونصیحت سے نہیں بلکہ فکری مکالمے سے انجام پاتا ہے، استاد کو چاہیے کہ وہ طلبہ کے ساتھ ان نظریات کے پسِ منظر پر غور کرے کہ یہ خیالات کہاں سے آئے، کن تاریخی تجربات سے پیدا ہوئے اور کن اخلاقی نتائج تک پہنچاتے ہیں، جب یہ بحث علم کے دائرے میں رہے اور الزام کے بجائے تفکر پر مبنی ہو تو طلبہ خود محسوس کرتے ہیں کہ سائنس کے نام پر پیش کیا جانے والا علم دراصل ایک پوشیدہ اخلاقی فلسفہ ہے، تب وہ اسے ایک اعلیٰ الٰہی معیار کی روشنی میں پرکھنا سیکھ جاتے ہیں اور کلاس روم میں تفکر ایمان کا دروازہ کھل جاتا ہے ۔
معاشرتی علوم کی اسلامی بنیادوں کی بازیافت
گزشتہ نصف صدی میں کئی مسلم اہلِ علم نے مغربی فکر کے اِن پوشیدہ اخلاقی اور فلسفیانہ تعصبات کو پہچان لیا، اِس کے جواب میں انہوں نے ایک فکری تحریک شروع کی اسلامائزیشن آف نالج (اسلامی تشکیلِ علم)جس کا مقصد جدید علوم کو اسلامی بنیادوں پر ازسرِنو تعمیر کرنا تھا، یہ تحریک ۱۹۷۰ء کی دہائی میں ابھری اور آج مختلف علوم میں ایک وافر علمی سرمایہ فراہم کر چکی ہے، جو معلمین کیلئے قیمتی رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے، اس جدو جہد کی سب سے اہم کامیابیوں میں سے ایک اسلامی نفسیات Islamic Psychology کا ظہور ہے، جو انسان کو ایک چار بعدی (four-dimensional) وجود کے طور پر بیان کرتی ہے نفس، قلب، عقل اور روح، یہ جامع تصور اس روحانی اور اخلاقی پہلو کو بحال کرتا ہے جسے مغربی نفسیات نے نظر انداز کر دیا تھا، اب انسان کے رویے کو صرف حیاتیاتی یا ماحولیاتی عوامل سے نہیں بلکہ اخلاقی انتخاب اور تزکیہ نفس کے زاویے سے بھی سمجھا جا سکتا ہے، جب انسان کے اِس ہمہ جہت تصور کو مرکزِ علم بنایا جائے تو تمام معاشرتی علوم کی از سرِ نو تشکیل کا راستہ کھل جاتا ہے۔
اسلامی معیشت: انصاف، اعتدال اور رحمت پر مبنی خوش حالی کا نیا تصور پیش کرتی ہے اور استحصال و حرص کو رد کرتی ہے۔
اسلامی عمرانیات: معاشرے کو باہمی ذمہ داریوں کے جال کے طور پر دیکھتی ہے، نہ کہ طبقاتی کشمکش کے میدان کے طور پر۔
اسلامی سیاسی فکر: اقتدار کو امانت اور حکومت کو اخلاقی فریضہ سمجھتی ہے اگرچہ مغربی علوم کی اسلامی تشکیل میں ترقی ہر شعبے میں یکساں رفتار سے نہیں ہوئی مگر سمت واضح ہے، اِس کوشش کا مقصد مغربی علم کو رد کرنا نہیں بلکہ اس کی سمت درست کرنا ہے یعنی علمِ معاشرت کو اس کی اخلاقی اور روحانی جڑوں سے دوبارہ جوڑنا، جو مسلم معلم اِس روایت سے فیض اٹھاتے ہیں، وہ طلبہ کو یہ دکھا سکتے ہیں کہ ایک بامقصد، ہم آہنگ اور الہی بنیادوں پر استوار متبادل علمی نظام پہلے ہی وجود میں آ چکا ہے ایسا نظام جو وحی، عقلِ اخلاقی اور انسانی ذمہ داری پر قائم ہے۔
مسلم معلم کے تین کام
زیادہ تر جامعات میں اساتذہ کو اپنے مضمون کا نصاب ازخود بدلنے کی اجازت نہیں ہوتی، امتحانات، نصابی تقاضے اور ادارہ جاتی حدود تبدیلی کے امکانات کو محدود کر دیتے ہیں لیکن انہی حدود کے اندر رہتے ہوئے بھی مسلمان معلم اپنے تدریسی انداز میں انقلاب لاسکتا ہے مگر اس کیلئے تین طریقوں پر محنت درکار ہے۔
(۱) بیرونی تجزیہ
بہت سی وجوہات کی بنا پر مغربی علوم چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں پڑھانا ضروری ہے، اس وقت دنیا کو انہی تصورات کے تناظر میں دیکھا اور سمجھا جاتا ہے، اس لئے طلبہ کیلئے یہ سیکھنا لازم ہے کہ دنیا کے مسائل کس زبان اور فکری انداز میں بیان کئے جا رہے ہیں مگر ان مغربی نظریات کو پڑھاتے وقت عقیدت کے ساتھ نہیں بلکہ ایک بیرونی تجزیے کے طور پر پیش کیا جائے، یہ اہلِ مغرب کے نظریات ہیں، جو ان کی مخصوص تاریخی تجربات کی بنیاد پر پیدا ہوئے ہیں۔
(۲) تنقیدی جائزہ
طلبہ کو تنقیدی غور و فکر کی راہ دکھائیں، ہر نظریہ دراصل انسان کی فطرت اور اخلاقی مقصد کے بارے میں کچھ پوشیدہ مفروضے رکھتا ہے، خوش قسمتی سے اب تقریبا ہر علم میں خود مغرب کے اندر ایسے مفکر موجود ہیں جنہوں نے مرکزی نظریات کی کمزوریاں اور تضادات بے نقاب کر دیے ہیں، یہ مغربی تنقیدات مسلمان اساتذہ کیلئے مدد گار ہیں کیونکہ وہ یہ دکھاتی ہیں کہ سائنسی قطعیت پر شک اب خود مغربی علمی روایت کے اندر پیدا ہو چکا ہے۔
(۳) اسلامی متبادل
اسلامی نقطہ نظر اور ممکنہ متبادل پیش کریں، جہاں اسلامی فکری سانچے پہلے سے موجود ہیں مثلا اسلامی معیشت یا اسلامی نفسیات میں انہیں براہِ راست شامل کیا جا سکتا ہے، جہاں ابھی مکمل اسلامی متبادل نہیں بنا، وہاں معلم وحی، عقلِ اخلاقی اور انسانی ذمہ داری سے نکلنے والے سوالات اٹھا سکتا ہے ایسے سوالات جو طلبہ کو دائرہ مادیت سے آگے سوچنے پر آمادہ کریں۔
یہ بظاہر ایک معمولی تبدیلی ہے مگر اس کا اثر بہت گہرا ہے، جب نظریات کو عقیدت سے نہیں بلکہ تفکر سے پڑھایا جائے، جب طلبہ کو یاد کرنے کے بجائے سوال کرنے کی ترغیب دی جائے تو تعلیم خود تجدیدِ فکر کا عمل بن جاتی ہے، یہ تبدیلی ایک دن میں نہیں آئے گی مگر جو بھی استاد شعور، انکسار اور ایمان کے ساتھ معاشرتی علوم پڑھاتا ہے، وہ اسلامی فکری روایت کی دوبارہ تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے، یوں ہماری درس گاہیں ایک بار پھر وہ مقامات بن سکتی ہیں جہاں علم، ایمان اور اخلاقی ذمہ داری ایک دوسرے سے جا ملتے ہیں اور جہاں اسلامی معاشرتی علوم کی حقیقی تعمیر کا سفر شروع ہوتا ہے۔طالبِ علم بطورِ خلیفہ تعلیم کا مقصدِ تجدیدہر نظامِ تعلیم بالآخر ایک سوال کا جواب دیتا ہے، ہم کس قسم کا انسان پیدا کرنا چاہتے ہیں؟ جدید مغربی تعلیم ذہین دماغ تو تیار کرتی ہے مگر زندہ دل نہیں، یہ کامیابی کو دولت، عہدے اور شہرت سے ناپتی ہے، دانش اور رحمت سے نہیں، نتیجہ یہ ہے کہ انسان دنیا پر قابو پانے کے قابل تو ہو جاتا ہے مگر اپنے نفس پر قابو نہیں پاتا، اسلامی تعلیم کا ہدف اس سے بلند تر ہے وہ خلفا اللہ تیار کرنا چاہتی ہے، ایسے انسان جو اپنے خالق کو پہچانیں، مخلوق کیلئے جواب دہی کا احساس رکھیں اور اپنی زندگی کو اخلاقی مقصد کے ساتھ بسر کریں، اسلامی تصورِ علم میں علم اللہ کی طرف سے دیا جانے والا ایک بیش قیمت خزانہ ہے، جو ہمیں مشاہدات کے پردے میں چھپی ہوئی حقیقتوں تک پہنچا دیتا ہے، یہی الٰہی علم تھا جو ایک کتاب اور ایک معلم کے ذریعے نازل ہوا جس نے ایک ان پڑھ قوم کو دنیا کی قیادت تک پہنچا دیا، اسی علم میں آج بھی انسانیت کی تجدید کی قوت پوشیدہ ہے مگر ہم مغربی علوم کی برتری کے فریب میں آکر اسی وحی کو چھوڑ بیٹھے ہیں جو ہماری اصل طاقت تھی، تجدید کا پہلا قدم یہ یقین پیدا کرنا ہے کہ حقیقی علم وہی ہے جو خدائی ہدایت سے جڑا ہو اور جو انسان کو اخلاق، انصاف اور بندگی کی راہ دکھائے، قرآن اعلان کرتا ہے کہ انسان کو احسنِ تقویم میں پیدا کیا گیا ہے، اللہ کی نظر میں ہر جان پوری انسانیت کے برابر قدر رکھتی ہے، جب اس صلاحیت کو ایمان اور فہم کے ذریعے پروان چڑھایا جائے تو یہی انسان سب سے بڑی سماجی تبدیلی کا محرک بن جاتا ہے، اسی لئے درس گاہ محض روزگار کی تیاری کا مقام نہیں بلکہ روحوں کی تربیت کا باغ ہے جہاں عقل اور ضمیر اکٹھے پروان چڑھتے ہیں، چاہے ہم اسلامی جامعات میں پڑھائیں یا سیکولر اداروں میں، مسلمانوں کو سکھائیں یا غیر مسلموں کو ہمارا مقصد یہی ہے کہ طلبہ کے دلوں میں زندگی کے مقصد پر غور و فکر کی خواہش جاگ اٹھے، اہلِ مغرب نے دین اور دنیا کو الگ کر دیا، جب کہ اسلام ہمیں دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی تعلیم دیتا ہے،
اس مضمون میں ہم نے یہ دیکھا ہے کہ اسلامی تعلیمات کو موجودہ زمانے کے مغربی علوم کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے، اس طرح ہم اسلام کو اپنی درس گاہوں میں واپس لا کر اپنی وہ ذمہ داریاں ادا کر سکتے ہیں جو معلمین پر پیغمبروں کی وراثت کی وجہ سے عائد ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائیں کہ ہم اس ذمہ داری کو بہترین طریقے سے ادا کر کے اپنی درس گاہوں کو علم کے نور کے پھیلنے کا ذریعہ بنا سکیں (آمین)