1974 میں قومی اسمبلی کی قادیانیوں کو اقلیت تسلیم کرنے کی قرارداد
قادیانی غیرمسلم اقلیت ہیں ،قومی اسمبلی کا فیصلہ ۔ حضرت مولانا عبدالحق ؒاور ان کے ساتھیوں کا ایک عظیم کارنامہ
ادارہ
یہ اس قرارداد کا متن ہے جو حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒنے اپنے دیگر ۳۶ ؍اراکین پارلیمنٹ سمیت قومی اسمبلی میں ۳۰جون ۱۹۷۴کو پیش کی۔ یہ مشترکہ قرارداد ۷ستمبر ۱۹۷۴ کو متفقہ طور پر منظور کی گئی اور قادیانی غیرمسلم اقلیت قرار پائے۔
جناب اسپیکر! قومی اسمبلی پاکستان
محترمی!ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہتے ہیں۔
ہرگاہ کہ یہ ایک مکمل مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی ہونے کا دعوی کیا-
نیز ہرگاہ کہ نبی ہونے کا اس کا جھوٹا اعلان، بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں، اسلام کے بڑے احکام کے خلاف غداری تھیں-
نیز ہر گاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا تھا ۔
نیز ہرگاہ کہ پوری امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار، چاہے وہ مرزا غلام احمد مذکور کی نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اسے مصلح یا مذہبی رہنما کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
نیز ہرگاہ ان کے پیروکار چاہے انہیں کوئی بھی نام دیا جائے، مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کرکے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
نیز ہرگاہ کہ عالمی مسلم تنظیموں کی ایک کانفرنس میںجو مکہ المکرمہ جیسے مقدس شہر میں رابطہ العالم الاسلامی کے زیر انتظام ۶اور ۱۰؍اپریل ۱۹۷۴ء کے درمیان منعقد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے ۱۴۰ مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی، متفقہ طور پر یہ رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔
اب اس اسمبلی کو یہ اعلان کرنے کی کاروائی کرنی چاہیے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار انہیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے، مسلمان نہیں اور یہ کہ قومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے؛ تاکہ اس اعلان کو مؤثر بنانے کے لیے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیرمسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں۔
محرکین قرارداد
(۱) مولانا مفتی محمود
(۲) مولانا عبدالحق (اکوڑہ خٹک)
(۳) مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی
(۴) پروفیسر غفور احمد
(۵) مولانا سید محمد علی رضوی
(۶) مولانا عبدالمصطفی الازہری
(۷) چوہدری ظہور الٰہی
(۸) سردار شیرباز خان مزاری
(۹) مولانا محمد ظفر احمد انصاری
(۱۰) جناب عبدالحمید جتوئی
(۱۱) صاحبزادہ احمد رضا قصوری
(۱۲) جناب محمود اعظم فاروق
(۱۳) مولانا صدر الشہید
(۱۴) مولانا نعمت اللہ
(۱۵) جناب عمرہ خان
(۱۶) مخدوم نور محمد
(۱۷) جناب غلام فاروق
(۱۸) سردار مولا بخش سومرو
(۱۹) سردار شوکت حیات خان
(۲۰) حاجی علی احمد تالپور
(۲۱) جناب را خورشید علی خان
(۲۲) جناب رئیس عطاء محمد خان مری
(۲) مولانا عبدالحق (اکوڑہ خٹک)
(۳) مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی
(۴) پروفیسر غفور احمد
(۵) مولانا سید محمد علی رضوی
(۶) مولانا عبدالمصطفی الازہری
(۷) چوہدری ظہور الٰہی
(۸) سردار شیرباز خان مزاری
(۹) مولانا محمد ظفر احمد انصاری
(۱۰) جناب عبدالحمید جتوئی
(۱۱) صاحبزادہ احمد رضا قصوری
(۱۲) جناب محمود اعظم فاروق
(۱۳) مولانا صدر الشہید
(۱۴) مولانا نعمت اللہ
(۱۵) جناب عمرہ خان
(۱۶) مخدوم نور محمد
(۱۷) جناب غلام فاروق
(۱۸) سردار مولا بخش سومرو
(۱۹) سردار شوکت حیات خان
(۲۰) حاجی علی احمد تالپور
(۲۱) جناب را خورشید علی خان
(۲۲) جناب رئیس عطاء محمد خان مری
بعد میں حسب ذیل ارکان نے بھی قرارداد پر دستخط کیے۔
(۲۳) نوابزادہ میاں محمد ذاکر قریشی
(۲۴)جناب غلام حسن خان دھاندلا
(۲۵) جناب کرم بخش اعوان
(۲۶) صاحبزادہ محمد نذیر سلطان
(۲۷) مہر غلام حیدر بھروانہ
(۲۸) میاں محمد ابراہیم برق
(۲۹) صاحبزادہ صفی اللہ
(۳۰) صاحبزادہ نعمت خان شنواری
(۳۱) ملک جہانگیر خان
(۳۲) جناب عبدالسبحان خان
(۳۳) جناب اکبر خان مہمند
(۳۴) میجر جنرل جمالدار
(۳۵) حاجی صالح محمد
(۳۶) جناب عبدالمالک خان
(۳۷) خواجہ جمال محمد کوریجہ
(۲۴)جناب غلام حسن خان دھاندلا
(۲۵) جناب کرم بخش اعوان
(۲۶) صاحبزادہ محمد نذیر سلطان
(۲۷) مہر غلام حیدر بھروانہ
(۲۸) میاں محمد ابراہیم برق
(۲۹) صاحبزادہ صفی اللہ
(۳۰) صاحبزادہ نعمت خان شنواری
(۳۱) ملک جہانگیر خان
(۳۲) جناب عبدالسبحان خان
(۳۳) جناب اکبر خان مہمند
(۳۴) میجر جنرل جمالدار
(۳۵) حاجی صالح محمد
(۳۶) جناب عبدالمالک خان
(۳۷) خواجہ جمال محمد کوریجہ