ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

حقانی مشائخ کا تذکرہ حضرت مولانا عبدالقیوم حقانی

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس صاحب مدظلہٗ

حقانی مشائخ کا تذکرہ حضرت مولانا عبدالقیوم حقانی

  مہتمم جامعہ ابوہریرہ خالق آباد نوشہرہ
اُم المدارس جامعہ دارالعلوم حقانیہ سب سے بڑی قومی، ملی، مذہبی، سیاسی، علمی اور تعلیمی تحریک ہے جس نے پاکستان افغانستان اور ملکوں ملکوں مسلمانوں کے مذہبی، دینی او رتعلیمی شناخت کو ایک مستحکم پہچان اور اسلامی و علمی شناخت عنایت فرمائی۔ قرآن و سنت کے انوارات و برکات اور نقد ثمرات کو پاکستان وافغانستان بالخصوص قرب و جوار کے تمام قصبات، قریات اور اطرافِ عالَم تک پہنچایا جو رسم ورواج، قدیم ہندوانہ تہذیب، بدعات، جاہلانہ رواجات اور جہالت کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اکوڑہ خٹک جیسے ایک غیر معروف اور چھوٹے سے گاؤں سے جو علم کا نور پھیلا، قرآن و سنت کی روشنی پھوٹی تو صوبہ خیبرپختونخواہ سمیت پورے پاکستان افغانستان اور دنیا کے بڑے بڑے شہروں بلکہ ملکوں کو روشنی دی۔ یہ جامعہ دارالعلوم حقانیہ کی علمی اور تعلیمی تحریک ہی کا اثر ہے کہ یہاں حقانیہ کے سرچشمۂ علم و عرفان سے صرف برصغیر ہی نہیں بلکہ دنیا کے بہت سے خطوں نے فیض حاصل کیا۔
اکوڑہ خٹک کے محلہ ککے زئی کی چھوٹی سی مسجد میں جس مدرسہ اور تعلیمی سلسلہ (جامعہ دارالعلوم حقانیہ) کا آغاز ہوا، اس کا دائرۂ اثر اتنا وسیع ہوا کہ پاکستان سمیت پورے برصغیر میں اس چھوٹے سے مرکز علم کی روشن کرنیں پھیلنے لگیں۔جامعہ دارالعلوم حقانیہ نے احیاء و تجدید دین کے ساتھ ساتھ علمی، تدریسی، دعوتی ، تبلیغی اور علمی میدان میں جو کارہائے نمایاں خدمات انجام دیے وہ تاریخ کے صفحات میں سنہرے حروف سے درج ہیں۔فضلاء ابتداء سے جہاں بھی گئے، علم کا نور بانٹتے گئے، زندگی کا کون سا ایسا شعبہ ہے جسے حقانی فضلاء نے تشنہ چھوڑا ہو۔
علوم و فنون اور درس وتدریس کے میدان میں جو امتیازی نقوش حقانیین نے قائم کئے ہیں انکی نظیر نہیں ملتی، معقولات، منقولات، ادبیات، لسانیات، فلکیات، تصوف، تفسیر، تاریخ، تقابل ادیان، ہر میدان میں حقانی فضلاء نے عمدہ اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جو قابلِ صد رشک ہے۔
یہی وجہ ہے کہ برصغیر میں ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ کے بعد جامعہ دارالعلوم حقانیہ کو دوسری آزاد اسلامی یونیورسٹی قرار دیا جاتا ہے۔ دارالعلوم حقانیہ نے دارالعلوم دیوبند کا کردار ادا کرتے ہوئے برصغیر ہی نہیںپوری دنیا میں علمی عظمت کا پرچم لہرایا ہے۔
   ہماری گفتگو کا موضوع ’’ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں‘‘ آج کے عنوان کے تحت محدثِ جلیل، شیخ الحدیث، حقانی مشائخ اور حقانی فضلاء کے گلِ سرسبد، استاذ العلماء حضرت مولانا محمد ادیس فاضل حقانیہ ہیں
فریب نظر ہے سکون ثبات
تڑپتا ہے ہر ذرۂ کائنات
سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی
فقط ذوقِ پرواز ہے زندگی
اُن کی آنکھوں میں جمال وجلال، ذہانت و کمال، چہرے میں رونق و متانت، ہونٹوں پر کھلتی ہوئی فطری مسکراہٹ، ان کی ہمہ جہت ادائیں،بڑوں کی اطاعت، اصاغر پہ شفقت، ان کے زندگی کے تمام رویوں اور اطوار میں تواضع وشرافت، ان کی مطالعاتی وسعت، علمی بے پناہی، تفسیر و حدیث اور فقہ و فتویٰ میں اجتہاد کے درجے کی ان کی صلاحیت، جمیع علوم و معارف کا استحضار، بروقت حاضر دماغی اور قائدانہ لیاقت اور سب سے بڑھ کر درس وتدریس، فروغِ علم اور مطالعہ کے سمندر میں ان کی غواصی، ان کے علمی وفکری سوچ کے کارخانے میں ڈھلنے والے آبدار موتی، زبان کی حلاوت، خطابت کی سلاست، عالمانہ فراست کی انفرادیت، ان کی ہمہ جہتی خداداد لیاقت مختصر یہ کہ انہوں نے ایک سے زائد میدانوں میں اپنی عبقریت کی دھوم مچا دی۔
اپنی مادرِ علمی جامعہ دارالعلوم حقانیہ میں جب سے مدرس کی حیثیت سے آئے۔ اپنے منفرد و دل نشین مؤثر طریقہ کار کے ذریعے اپنے مخصوص طرزِ بیان،تدریسی منہج اور جماعتی نظام میں جو خصوصیات اہداف متعین کئے۔ وہ منہجِ تعلیم وتربیت کے حوالے سے عصریت، جدیدیت، روایت پسندی وجدت کاری کی کشمکش سے ہوش مندانہ طور پرنمٹنے کے لئے آسان سودمند اور زوداثر نسخہ مرتب اور نافذ کیا۔ اس کی مثال ان کی اپنی ذات ہے جس کے لئے انہوں نے زبان و بیان اور درس و تدریس، قلم و تصنیف اور علمی ومطالعاتی صلاحیتیوں سے کام لیا وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔
شہید ناموسِ رسالت حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ حیات تھے، میں دفتر اہتمام میں داخل ہوا، اُستاذجی کی مجھ پر نظر پڑی، فوری اشارہ کرکے مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیا اور ارشاد فرمایا کہ جامعہ حقانیہ میں دورۂ حدیث کی تدریس کے لئے مولانا محمد ادریس صاحب کی تقرری کردی گئی ہے۔ میں نے عرض کیا: حضرت! یہ تو بڑا خوب انتخاب ہے۔ گویا انگوٹھی کو نگینہ مل گیا اور نگینہ کو انگوٹھی مل گئی ہے۔ مولانا سمیع الحق صاحب شہیدؒ میرے اس مختصر تبصرے سے بہت خوش ہوئے اور فون میرے ہاتھ دے کر فوراً مولانا محمد ادریس مدظلہٗ کو میرے یہی الفاظ سنانے کا حکم دیا۔ میں نے جو کہا تھا وہ اُن کو سنا دیا۔ مولانا سمیع الحق شہیدؒ نے میرے اس چند حرفی تبصرے کو بہت سراہا۔ مہمان بھی آرہے تھے اور میرے اس جملے سے بہت محظوظ ہوئے اور آنے والے نوواردین کو بھی سناتے رہے۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس صاحب مدظلہٗ بلند پایہ خطیب بھی ہیں ان کے اندر سوز وسازِ رومی بھی ہے اور پیچ وتابِ رازی بھی ۔ وہ جب تقریر فرماتے ہیں تو مجمع پر سکوت طاری ہوجاتا ہے ایک سناٹے کا عالَم ہوتا ہے ہر شخص کی نگاہیں ان کے چہرے پر اور ان کی گُل افشانئی گفتار پر ہوتی ہیں وہ جب بولتے ہیں تو ان کی زبان سے پھول جھڑتے ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے ہونٹوں سے اوس کی بوندیں گر رہی ہوں، حضرت الشیخ کی شیریں گفتاری کے قائل وہ لوگ بھی ہیں جو ان کے مخالفین شمار ہوتے ہیں ۔حضرت الشیخ درس وتدریس ، خطابت اور دعوت وتبلیغ کی مساعی جمیلہ کے پس منظر میں یوں مترشح ہوتا ہے کہ وہ چودہ سو سالہ تاریخ کو نئے عصری تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور آج کے عہد میں اس کی معنویت کو آشکارا کررہے ہیں اور اپنے خطاب ، فصاحتِ لسانی اور بلاغت بیانی سے ایک طلسماتی کیفیت پیدا کردیتے ہیں ان کے بیان سنئے اور خطبات کا انداز دیکھئے اندازہ ہوجائے گا کہ علم کا دریا موجیں مار رہا ہے اور ادراک وعرفان کی لہریں رواں دواں ہیں ۔
حضرت الشیخ مولانا محمد ادریس صاحب کے خطبات میں بار بار سامعین بہ کثرت یہ سنتے رہتے ہیں کہ :
’’ اے لوگو! آج تم اور تمام عالَم سن رہا ہے جدید میڈیا کی ہمہ جہتی کردار میں مستغرق ہے یہ بعینہٖ اسی میڈیا کی ترقی یافتہ صورت ہے جو امریکہ ، برطانیہ ، انگلینڈ اور یورپ میں نظر آتی ہے ، یہ ہرگز کوئی نئی بات نہیں اور کوئی اچھوتا نظام اور کوئی دلچسپ نافع کام نہیں اور نہ کوئی نئی ایجاد اور باعثِ فرحت وانبساط کام ہے ، یہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ ’’ ابو لہب ‘‘ کا وہ میڈیا ناکام ہوا ، حضور اقدسؐ کی لائی ہوئی سچائیوں اور حقیقتوں کے سامنے یہ میڈیا کارگر نہ ہوسکا ۔
سچائی بہر حال! اپنا وجود رکھتی ہے ، حقائق بھی اپنا وجود رکھتے ہیں جن کے پاس حقیقت ہوگی ان کو میڈیا سے گھبرانا نہیں چاہئے یہ معرکہ تو روزِ اول سے بپا ہے…

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز     چراغِ مصطفوی سے شرارِ بو لہبی

حضرت الشیخ مولانا محمد ادریس صاحب نے جو کچھ فرمایا لاریب ! وہ اتنا ہی برحق ہے جتنا کہ شمس وقمر کی روشنی برحق ہے ۔
ابو لہب کی نعرہ بازیاں ، جھوٹی نشر واشاعت اور جھوٹی پبلسٹی ، جناب امام الانبیائؐ کی خاموش مگر حقیقت پر مبنی دعوت کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکی ، انتہائی درجہ معتدل ، ردّ عمل سے بچتے ہوئے ، چوٹ سہتے اور حکمت عملی کے ساتھ قدم آگے بڑھاتے ہوئے، کبھی چچا سے جھگڑا نہیں کیا ، کبھی ابو لہب کی بات کا جواب تک نہیں دیا ، اپنا کام کرتے رہے اور یہ حقیقت ہے کہ سچائیاں غالب ہوکر رہتی ہیں ۔
وَقُلْ جَآئَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا  (سورۃ الاسراء : ۸۱)
’’ اور آپ کہہ دیجئے کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل کو مٹنا ہی تھا‘‘
قارئین ذی وقار ! کیا حضور اقدس ؐ کا یہ عمل ہمارے اور تمہارے سوچنے کیلئے نہیں ہے ، آج علم ودانش کے نام پر، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے نام پر، بڑے بڑے دماغوں کی پلاننگ کی بنیاد پر ، اسلام اور رسول ؐ کی تصویر کو بگاڑنے کی جو بھی سازش کرتے رہیں ناکامی ہی ان کا مقدر ہے سچائیاں اور حقائق غالب ہوکر رہتے ہیں ہمیں ہمت ہارنے اور مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، اگر ابو لہب کا چراغ بجھ سکتا ہے اور مصطفی ؐ کا چراغ چمک سکتا ہے اور سراج منیر بن کر پوری کائنات کو ضَوفشاں کرسکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ آج بھی وہی چراغ مصطفوی روشن نہ رہے اور کائنات کو اپنی کرنوں کا امیر نہ بنالے۔
حضرت الشیخ مولانا محمد ادریس صاحب مدظلہٗ جہاں دیدہ ہیں، عالمی تہذیبی روایات اور بدلتے ہوئے ثقافتی منظرنامے سے وہ آشنا ہیں ان کے ذہن پر نہ کوئی دھند ہے نہ تشکیک اور نہ تشویش، وہ ہر ایک تہذیبی روایت پر ویسی ہی نظر ڈالتے ہیں جو ایک بلندپایہ نظر کا تقاضہ ہوتی ہے۔ اسلامی اور مغربی تہذیب کے فاصلوں سے وہ بخوبی واقف ہیں، اس حوالے سے اُن کے ارشادات، بیانات، تدریسی تحقیقات اور مختلف تہذیبی روایات کے عالمی اثرات پرگہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ مغرب، یورپ، امریکہ اور برطانیہ کی تہذیبوں میں کوئی خوبی نہیں ہے، اس کی بعض اخلاقی خوبیوں اور انسانی قدروں کے معترف ہیں۔ معذوروں کی خدمت کا جذبہ اور یہ بات کہ ان کے یہاں کوئی شخص بے کار نہیں رہ سکتا، کوئی بھوکوں نہیں مرسکتا، سوشل سکیورٹی ان کو ضرور کھلاتی ہے۔
حضرت الشیخ مولانا محمد ادریس صاحب نے ان میں بہت سی خوبیاں دیکھی ہیں، حضرت الشیخ مولانا محمد ادریس صاحب اوّلِ مرحلہ میں سمجھ گئے ہیں کہ ان کے یہاں یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برکتوں کا چھینٹا پہنچا ہے اور افسوس کہ برکت ہمارے سماج سے اُٹھتی جارہی ہے، ہمارا حال تو یہ ہے کہ پڑوسی بھوکا ہے، ہم عمدہ سے عمدہ غذا کھاتے ہیں، ہمارے بھائی کو کپڑا میسر نہیں، ہم اچھے سے اچھے کپڑے پہنتے ہیں، اپنے گھر میں اچھے سے اچھا فرنیچر رکھتے ہیں اور ہزاروں روپے کے قیمتی قالین اور پردے بچھاتے ہیں اور لگاتے ہیں اور ہمارے پڑوس میں ایسے غریب ونادار بھائی بھی ہوتے ہیں جن کو سر چھپانے کے لئے ایک سائبان بھی میسر نہیں او ربیسیوں افراد ہیں ٹھنڈک میں ٹھٹھر کر اپنی جان دے د یتے ہیں۔ کیا یہی اسلام کی تعلیمات ہیں اور یہی پیغمبر اسلام کے دیے ہوئے اخلاق ہیں؟
حضرت الشیخ اس حقیقت سے بھی پوری طرح آگاہ ہیں کہ مغرب کو اگر جوہر ایمان حاصل ہوجائے تو وہ انسانیت کا صحیح نمونہ بن جائے لیکن افسوس کہ مادیت کے جنون نے ان کو بدمست کر رکھا ہے۔ ان کے ہاں انسانیت صرف پیٹ اور پلیٹ کا نام ہے۔
حضرت الشیخ کا محدثانہ اور محققانہ انداز بڑا منصفانہ ہے، ان کا ایمان و یقین، سچے، امین اور مخلص جانشین کا ہے۔ حضرت الشیخ نے کبھی بھی اپنے اکابر ومشائخ اور بزرگوں کو فراموش نہیں کیا۔ ان کو اپنے دادا جان مولانا شاہ زادہ صاحب مرحوم ، اپنے شیخ و محدث اور مربی شیخ الحدیث مولانا عبدالحق رحمہ اللہ، اپنے محسن و مربی شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق شہیدؒ، محدثِ کبیر شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، محقق کبیر مولانا شمس الحق افغانی ؒ، مفتی اعظم مولانا مفتی محمد فریدؒ سے تلمذ واستفادے کی نسبتوں پر افتخار ہے اور انہیں فراموش نہیں کرتے۔ اسی لئے میرا یقین ہے کہ ان شاء اللہ نئی نسل بھی ان کو فراموش نہیں کرے گی کیونکہ ان کے خدماتِ جلیلہ ناقابل فراموش ہیں اور ان کے کارنامے عظیم ہیں۔
حضرت الشیخ اپنے اکابر، اساتذہ، علمائ، مشائخ حقانیہ اور اپنے اسلاف کے سچے امین اور جانشین ہیں، جنہوں نے پوری ملت، علمائ، طلباء اور عامۃ المسلمین کو فتنوں کے بحرانوں اور مسائل کے گرداب سے باہر نکال کر اور باہمی علمی یگانگت پر چلنے کی حکیمانہ دعوت دی۔ وہ اپنے خطاب، دعوت اور تقاریر سے ملت کی زندگی میں علم کی روح پھونک رہے ہیں بلکہ اپنے درسِ حدیث سے حقانی فضلاء اور اُمت کے زعماء کو نسخہ شفا عطا فرما رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ حضرت الشیخ ہمارے دور میں اتحادِ اُمت کے داعی، وحدتِ ملت کے علَم بردار اور مسیحا ہیں۔ اللہ معاف کرے، عالمی سطح پر گھپ اندھیرا بڑھتا جارہا ہے، گھٹاٹوپ تاریکی بڑھ رہی ہے، ایسے تاریکی کہ شمس و قمر بھی اسے دور نہیں کرسکتے، کیونکہ ان کی علمی شخصیت چاند اور سورج کی ساری ضیابار کرنوں کو وجود میں سمیٹ کر مٹی میں روپوش ہوگئی ہے اور جب کوئی عالم روئے زمین سے اُٹھتا ہے تو اللہ تعالیٰ علم سلب کر لیتا ہے …

وہ تیرگی ہے کہ اکثر خیال آتا ہے   میرے فلک پہ کوئی آفتاب ہے کہ نہیں

………………
حضرت الشیخ کا اُردو، عربی اور پشتو ادب کا مطالعہ وسیع ، ذہانتِ خداداد اور طبیعت میں جولانی اور نکتہ آفرینی، قوتِ مشاہدہ تیز، ان سب چیزوں نے جمع ہوکر انہیں ایک بالغ نظر، دقیقہ رس اور اعلیٰ درجے کا ادیب، خطیب اور نقاد بنا دیا۔ ان کی تقریر میں زبان و بیان کی صحت و شگفتگی کے ساتھ ایک خاص قسم کا بانکپن اور تیکھا پن پایا جاتا ہے سنجیدگی اور متانت کے ساتھ لطیف طنز و مزاح کی آمیزش ان کی گفتگو کو شرابِ دو آتشہ بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمائ، ادبائ، خطبائ، طلباء اور دانشور انہیں اپنا سالارِکاروان مانتے او رتسلیم کرتے ہیں۔
شیخ ادریس فطری طور پر پُرمذاق، نکتہ سنج، ظریف الطبع اور خوش مزاج واقع ہوئے ہیں، وہ دورانِ تدریس بھی اس سے کام لیتے ہیں، اس لئے طلبہ ان کی سختی، فرائض میں کوتاہی پر تادیب و انتباہ اور نقد سزا کے باوجود ان کے اسباق سے اُکتاتے ہیں نہ بے مزہ ہوتے ہیں نہ کڑھتے ہیں نہ بدذوقی کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ د ورانِ درس علمی لطائف بیان کر ہنساتے بھی ہیں اور ہنسانے کے لئے بھی کسی خارجی عامل کا سہارا نہیں لیتے بلکہ دورانِ سبق درس میں ہی جگہ جگہ ان کے وسائل از خود آموجود ہوتے ہیں۔ مباحث کو پیش کرنے کا انداز، ذہن میں اُتارنے کا سلیقہ، گفتگو کرنے کا طرز، تمثیل و تجسیم کی مختلف شکلیں، یہ اُن کی فطرت کی دَین ہیں جو بہت کم لوگوں کے ہاں ملتی ہیں۔
عموماً دیگر لوگوں کا انداز، خشک، بے مزہ، نیند انگیز، سستی دبیز اور اُکتا دینے والا ہوتا ہے۔ شیخ ادریس صاحب خشک سے خشک مضمون کو تر کردینے کے طبعی ہنر کی وجہ سے طلبہ کیلئے ثقیل الظلّ نہیں بلکہ انتہائی خفیف الظل، شوق انگیز، حوصلہ خیز، ہمت ریز، نشاط افزاء اور جائے اشتیاق بنے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں طالب علمی کے زمانے ہی سے فن ظرافت کا حامل بنایا ہے۔ طالب علمی میںتکرار کراتے تو طلبہ اسی لئے ان کے تکرار میں شریک ہوتے اور اسے بہت پسند کرتے کہ نفس مضمون اور مباحث کے سمجھانے کے علاوہ وہ ان کے لئے اپنی ہر ادا سے مسرت انگیز رہتے تھے۔
شرافت کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ آدمی اپنے بڑے سے بڑے مخالف اور دشمن کے ساتھ بھی زبان اور عمل کا کوئی غیر شریفانہ معاملہ نہ کرے یہ وصف مولانا محمد ادریس میں بدرجۂ اتم موجود ہے، بہت نرم خو اور نرم گفتگو میں خندہ جبین اور خندہ رُو ہیں۔ میں نے اِشتغال کی حالت میں بھی انہیں بلند آواز سے بولتے نہیں سنا، کبھی کوئی ناشائستہ اور نامہذب لفظ ان کی زبان سے آشنا نہیں ہوا۔ غرض ان کی کس کس خوبی کا ذکر کیا جائے؟ اس میں شک نہیں وہ اپنے کردار و عمل اور حسنِ اخلاق و فضائل کی ایسی زندہ جاوید یادگار ہیں جس کو برصغیر کا مؤرخ کبھی فراموش نہیں کرسکے گا اور آئندہ نسلیں شکرگزار اور عزت واحترام کے ساتھ انہیں یاد کریں گی  ……

اب بھی ہے تیرے تصور سے وہی سازو نیاز

اپنی بچھڑی ہوئی آغوشِ محبت کی قسم