شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ کی شخصیت
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ کی شخصیت
مولانا سید محمود اسعدمدنی
صدر جمعیۃ علمائے ہند
۱۸؍نومبر۲۰۲۵ء کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں شیخ الاسلام سیمینار(بیاد شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ )کے موقع پر صدر جمعیۃ علماء ہند وجانشین فدائے ملت(حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ )مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب نے شرکاء سیمینار کے لیے ایک خصوصی تحریری پیغام جاری فرمایا جو نذرِ قارئین ہے۔
_____________________
نحمدہ‘ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم،أمابعد!
یہ خاکساراپنی جانب اور جمعیۃ علمائے ہند کی طرف سے اس عظیم علمی وفکری سیمینار کے منتظمین بالخصوص مدیر بزم شیخ الہند گوجرانوالہ مولانا حافظ خرم شہزاد صاحب کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہے جنہوں نے جدی محترم شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمدمدنی ؒ کی حیات و خدمات پر یہ بابرکت مجلس منعقد کی۔ یہ سیمینار دراصل اس مردِ مجاہد ، محدثِ کبیر اور رہبرِ ملت کی یادتازہ کرنے کا موقع ہے جن کی ذات میں علم وعرفان کی روشنی ، طریقت وسیاست کی حکمت اور دین وانسانیت کی خدمت کا جوہر ایک حسین امتزاج کے ساتھ جلوہ گر تھا،حضرت شیخ الاسلام مولانا مدنی ؒایک عظیم مذہبی اور روحانی شخصیت کے حامل تھے۔ آپ بیسویں صدی کے ممتاز محدث، مفسر،فقیہ،مردِمجاہد اور مرشد ِکامل تھے۔ آپ کی پوری زندگی عبادت وریاضت ، درس وتدریس ،وعظ وتبلیغ ، دعوت واصلاحِ امت اور خدمت ِانسانیت میں گزری۔آپ کا فیضانِ علم وطریقت نہ صرف برصغیر ہندو پاک بلکہ جنوب مشرقی ایشیا سے لے کر شمال مغربی ایشیا اور جنوبی افریقہ تک پھیلا ہوا ہے۔ اہل دل نے آپ کے چشمۂ فیض سے سیرابی پائی اور عزم واخلاص کے ساتھ مزید لاکھوں نئے چراغ فروزاں کیے۔
حضرت مدنیؒ کی سیرت وافکار کا ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ سیاسی ہنگاموں اور جدوجہد کے شور میں بھی آپ نے اپنے دینی وقار اور روحانی شان پر کبھی آنچ نہ آنے دی۔ آپ کی ملی زندگی میں ہر کوشش ،ہر اقدام اور ہر فیصلہ احکام الٰہی اور سیرت ِ طیبہ کے پختہ اصولوں پر استوار تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ جمعیۃ علماء ہند کے سبھی اکابر تاریخی وسیاسی بصیرت اور عقلی دلائل کے ساتھ ملک وقوم کی رہنمائی اور خدمت کے لیے ملی میدان میں اترے تھے۔ وہ تمام باعمل عالم دین تھے لیکن انھوں نے کبھی عوام وخواص کے مذہبی جذبات کا استحصال نہیں کیا۔ اگر وہ مذہبی جذبات کو اکسپلائٹ کرتے تو ان سے زیادہ کون کامیاب ہوسکتا تھا۔سیاسی مسائل میں مذہبی جذبات کے مجرد استعمال کے بجائے انہوں نے عوام وخواص کی عقل وبصیرت کو مخاطب کیاا ور اس کیلئے تاریخی شواہد، تجربات زمانہ اور سیاسی نظائرسے استدلال کیا۔
ان کی زندگی کے مطالعے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی شخصیت کی کامیابی کا یہ پیمانہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے تمام مخالفین پر غالب آگئی ہو، وہ اپنے نظریے میں کامیاب ہوگئی ہو اور اس نے یکسر انقلاب پیدا کردیا ہو،کسی شخص کی بڑائی ہمیں اس کے فکرورائے کی صحت،عمل وسعی کی راہ میں اخلاص وایثار اور حق کی راہ میں کچھ پالینے کے بجائے سب کچھ لٹا دینے کے ذوق میں تلاش کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ جدوجہد کی راہیں اور تحریکیں بعض اوقات اتنی طویل المدت ہوتی ہیں کہ ان میں نہ صرف افراد بلکہ کئی نسلوں کی عمریں بھی کم پڑ جاتی ہیں اور اکثر اوقات اولین رہنماؤں کو اپنی جدوجہد کی کامیابی دیکھنا نصیب نہیں ہوتا۔ کامیابی کی منزل سے تو وہ لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں جن کا حصہ تحریک کی بنیادیں استوار کرنے میں نہیں بلکہ اس کی توسیع اور اسے آگے بڑھانے میں ہوتا ہے، حالانکہ یہ کامیابی سب سے زیادہ اپنے اولین رہنماؤں اور تحریک کے بانیوں کی قربانیوں کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ہم نے ان اکابرؒ کی قربانیوں کا مطالعہ اس زاویے سے نہیں کیا جس سے ان کے افکار واعمال کی گہرائی اور اثر پذیری واضح ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری تحریکات کی جڑیں اتنی مستحکم نہیں ہوپاتیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان اکابر کی جدوجہد اور قربانیوں کا مطالعہ ان کے نتائج یا مادی منافع کے بجائے اُن اثرات کی نگاہ سے کریں جو انھوں نے تاریخ عالم پر چھوڑے۔ آج کے موجودہ حالات میں اس طرزِ فکر کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ہمیں اسی نقشِ قدم پر دوبارہ غور کرنے اور اسی راہ پر آگے بڑھنے میں کامیابی ملے گی کیونکہ اس امت کے آخرکی اصلاح بھی اسی نہج پرہوگی جس نہج پر اس امت کے اول کی اصلاح ہوئی تھی۔
بہرحال! موجودہ حالات میں ایسی ممتاز اور مقتدر شخصیات کی سیرت وسوانح کا تحفظ اور بھی زیادہ اہم ہے جو اپنے ذاتی اوصاف وکمالات کیساتھ کوئی خاص نصب العین اور نظریہ لے کر اٹھی ہوں اور اپنی دعوت ورہنمائی سے لوگوں کے لیے مرکز ومداوا قرار پائی ہوں۔ایسی شخصیات کی زندگی کا دنیا کے سامنے پیش کیا جانا صرف اس لیے ضروری نہیں کہ وہ زندہ رہیں ، بلکہ ان کی زندگی بخش نصب العین سے قومیں زندہ رہتی ہیں۔یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ بزم شیخ الہند، گوجرانوالہ(پاکستان) مسلسل ایسی نابغۂ روزگار شخصیات کی حیات وخدمات کو اجاگرکرنے کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ اس کی یہ کاوش لائق تحسین ہے اور دل کی گہرائیوں سے دعا نکلتی ہے، یہ خاکسار اس سیمینار کے تمام مقالہ نگاروں، محققین،منتظمین اور جملہ شرکاء کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتا ہے ،جنھوں نے حضرت شیخ الاسلام ؒ کے پیغام کو عام کرنے اور نئی نسل تک پہنچانے کے لیے ایسی بابرکت مجلس کا اہتمام کیا، اللہ تعالیٰ اس سیمینار کو باعث ِ برکت بنائے ،علم وعمل کی روشنی کو عام فرمائے اور ہم سب کو حضرت مدنی ؒ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔