اداریہ برائے مولانا حامد الحق شہیدؒ (خصوصی ’’الحق‘‘نمبر)
اداریہ برائے مولانا حامد الحق شہیدؒ (خصوصی ’’الحق‘‘نمبر)مولانا راشد الحق سمیع
برادرِ مکرم اور جان سے عزیز دوست
حضرت مولانا حامدالحق شہیدؒ کی جدائی
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے
دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک حضرت مولانا سید احمد شہیدؒ اور حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ کی عظیم الشان تحریک، سیاسی جدوجہد اور انکے کاروانِ حریت وہ قافلہ دعوت و عزیمت میں شامل اُن غازیوں اور شہیدفوجیوں کا پڑاؤ اور مشہدمبارک ہے۔ مفکر اسلام حضرت مولاناسید ابوالحسن علی ندویؒ نے اس سرزمین کے بارے میں فرمایا ہے :’’ اکوڑہ خٹک کا نام بھی میرے لیے بہت کشش رکھتاہے، میں متعدد مرتبہ یہاں حاضر ہوا ہوں،یہاںسے ہماری روح اورقلب کا تعلق ہے ، یہاں سے ایک ایسے مبارک سلسلہ کا آغاز ہواتھا جسکے نتیجہ میں درحقیقت مدت مدید کے بعد یہ مملکت عطاہوئی۔خداکرے اب علم وقلم کے ذریعہ ان مقاصد کی تکمیل ہواوراس جسد میں صحیح روح پیدا ہو اورحقانیہ سے نکلنے والے حقانیت کے علمبردار ہوں گے۔‘‘ الحمدللہ مفکر اسلام حضرت علی میاں ؒ کی یہ عظیم پیشنگوئی حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ، حضرت مولانا حامد الحق شہیدؒ اور دیگر ہزاروں حقانی شہداء کی صورت میں حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی ۔(مدیراعلیٰ)
آہ!کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو بھرنے کے بجائے وقت کے ساتھ اور گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں، حالات کے جبر اور غم کی آندھیوں نے مسلسل اپنے گرداب میں پھنسائے رکھا ہے،پہلے والدِ ماجد حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ کی المناک جدائی کا صدمہ سہنا پڑا ابھی اس صدمے کے اثر اور کرب سے باہر نہ نکل پایا تھا کہ دشمنوں نے ایک اور بزدلانہ و سفاکانہ وار کر دیا۔میرے بڑے بھائی، مربی، رفیق اور سب سے بڑھ کر دوست حضرت مولانا حامدالحق شہیدؒ کو بھی دشمن نے بے رحمانہ نشانہ بنا کر ہم سے جدا کر دیا، آج قلم ہاتھ میں ہے مگر لرزاں، عقل ساتھ ہے مگر ششدر زبان پر بے شمار باتیں ہیں مگر لفظ ساتھ نہیں دیتے، برادرم مولانا حامدالحق کو مرحوم یا رحمہ اللہ لکھتے ہوئے ہاتھ ُرک جاتا ہے اور قلب ِ حزیں ان الفاظ کو دل سے قبول نہیں کررہا ، وہ مشفق شخصیت جس کا وجود میرے لئے والد ماجد کی جدائی کے بعد ایک بڑا اور مضبوط سہارا اور ڈھال کی مانند تھا،وہ میرا حوصلہ اور ان کا سایہ میرا تحفظ تھا ہائے افسوس آج وہ محض یادوں میں رہ گئے ہیں …
فَقَدْتُ أَخِی وَہُوَ دِرْعِی وَمَأْمَنِی
’’میں نے اپنے بھائی کو کھو دیا جو میری ڈھال اور پناہ تھا‘‘
وَمَا بَقِیَ فِی الْحَیَاۃِ سِوَی الْخَوْفِ وَالْأَلَمِ
’’اب زندگی میں صرف خوف اور درد باقی رہ گیا ہے‘‘
کئی مواقع پر ہم دونوں نے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر وقت کے تھپیڑوں کا سامنا کیا، آپ مسکراتے تھے تو دل مطمئن ہو جاتا تھا اور جب آپ دل گرفتہ یا رنجیدہ نظر آتے تو ہمارے حوصلے بھی مرجھا جاتے،حضرت والد ماجد ؒ کی شہادت کے عظیم سانحہ کے موقع پر ہم ایک دوسرے کو تسلی ودلاسہ دیتے تو کچھ نہ کچھ دل کو سکون ملتا،ہم باہمی مشاورت سے اپنے ادارے ودیگر اہم مسائل کو حل کرتے،ان کی رفاقت میں ایک عجیب سی دل آویزی تھی،وہ جس راستے اور جس مشن پر گامزن تھے وہ آسان نہ تھا، ذمہ داریوں کا بڑا بوجھ انہوں نے اپنے سراٹھایا تھا،ایک عظیم ادارے اور جماعت کی سربراہی محض اعزاز یا وراثت نہیں ہوتی بلکہ ایک طرح آزمائش اور قربانی بھی مانگتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ اہل عزیمت اور حق کے علمبرداروں کے راستے کانٹوں سے بھرے ہوتے ہیں۔مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ نے اکوڑہ خٹک کے متعلق یہ تاریخی کلمات فرمائے تھے : ’’جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک سید احمد شہیدؒ کی شہادت کا ثمر ہے، ان کے مقدس لہو کی بازگشت ہے۔ ‘‘ اسی لہو رنگ مردم خیز سرزمین اکوڑہ خٹک پرحضرت مولانا سید احمد شہیدؒ نے دوسو سال قبل تاریخی جہاد کیا اور دارالعلوم حقانیہ اور مضافات کے میدانوں میں اُس جہاد میں تقریباً ۷۰کے لگ بھگ ہندوستانی مجاہدین نے شہادت پائی،پھر تقریباً سوبرس بعد یہاں دارالعلوم حقانیہ کی صورت میں اُن شہداء کے خون سے یہ گلشن علم و معرفت پھیلا اور افغانستان کے سابق مجاہدین کیلئے یہ نہ صرف ایک تعلیمی ادارہ بلکہ روحانی و ایمانی تربیت گاہ بن گئی جنہوں نے یہاں سے فراغت کے بعد اپنے دیس افغانستان میں روسی استعماریت پر مبنی کمیونزم کے بت کو نہ صرف پاش پاش کیا بلکہ امریکی سامری اور اسکے حواریوں کو بھی شکست فاش سے دوچار کیا۔پھر یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ شہداء اور حریت کے پروانوں کے اساتذہ اور مربی اس سعادت عظمیٰ سے قدرت کیونکر محروم رکھتی اس لئے اکوڑہ خٹک کی سرزمین صدیوں سے خوشحال خان خٹک جیسے عظیم مرد حریت ،سپہ سالار ،عظیم شاعر اور ادیب کی جائے پیدائش بھی تھی پھر حضرت مولانا سید احمد شہید ؒاور حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ کے ساتھیوں کی یہ مشہدگاہ بھی ٹھہری، اسی باعث حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ اور حضرت مولانا حامد الحق شہیدؒ کی گُھٹی میں قدرت نے حریت ، جرأ ت اور جذبہء شوق شہادت ڈال رکھاتھا،یہ لہو رنگ سرزمین کا اثر بھی تھا اور مکتب شاہ اسماعیل کے آداب فرزندگی کی تربیت بھی تھی کہ عمربھر ظالم حکمرانوں، استبدادی قوتوں، استعماری ایجنڈوں کے خلاف ان دونوں بہادر جرنیلوں نے اپنے پیشروؤ ںکی طرح کلمہ حق ہرحال میں بلند رکھا، انہیں کوئی خوف،دھمکی اور لومۃ لائم کی پرواہ نہ تھی،عظیم باپ کی شہادت کے بعد بھی مولانا حامد صاحب ؒ بھی نہ جھکے، نہ دبے اور نہ دشمنوں کی دھمکیوں کی کوئی پرواہ کی اور حقانیہ کے منبر ومحراب سے آپ ہمیشہ باطل پر گرجتے رہتے،آخر کار اسی مسجد ومحراب میں اپنی جان جانِ آفریں پروار گئے …
بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را
مولانا حامدالحق شہیدؒ نے اپنے لئے یہ عزیمت کا راستہ بصیرت کے ساتھ سوچ سمجھ کر منتخب کیا تھا، انہیں اپنے انجام کا اندازہ تھا مگر خوف اور دشمنوں کی سازشوں نے نہ کبھی ان کے قدم روکے اور نہ انہیں اپنے عزائم و مقاصد سے دور کیا…
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
ان کی شہادت ہی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ حق پر ڈٹے رہے اور ڈٹ کر جینے والوں کو ہی تاریخ ہمیشہ زندہ اور یاد رکھتی ہے،ان کی شہادت نے ہمیں دوبارہ یتیم کر دیا ہے مگر ساتھ ہی ہمیں ایک امانت بھی سونپ دی ہے، ان کے مشن کی، ان کے حوصلے کی اور ان کی سچائی کی امانت۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم ان کے نقشِ قدم پر چلیں، ان کی یاد کو محض آنسوؤں تک محدود نہ رکھیں بلکہ عملی طور پر ان کے مشن کو جاری رکھیں، میرے لئے بھی بڑے بھائی ؒاور حضرت والد صاحبؒ نے جو راستہ وراثت میں چھوڑا اور دکھایا ہے ، اب اسی پر ثابت قدم رہنا ہمارے لئے ان کے خونِ شہادت کا حق ہے۔
رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ
’’اے ہمارے رب!ہمیں صبر عطا فرما ، ہمارے قدم جما دے، اور ہمیں مدد عطا فرما۔‘‘
آج دل بار بار یہی کہتا ہے کہ کاش! یہ سب ایک خواب ہوتا مگر حقیقت اپنی پوری سختی کے ساتھ سامنے کھڑی ہے پھر بھی اس حقیقت میں ایک تسلی ہے کہ مولانا حامدالحق شہیدؒ نے وہ سعادت والی موت پائی جسے حیات جاودانی کہا جاتا ہے۔اے میرے بڑے بھائی!آپ کی کمی ہر لمحہ محسوس ہو گی، آپ کی نصیحتیں، آپ کی مسکراہٹ اور آپ کی رفاقت سب دل کے نہاں خانوں میں محفوظ ہیں۔ موت نے آپ کو ہم سے بظاہر جدا کردیا مگر آپ کی محبت بھری یادیں شامل ہیںاور آپ کی ایمان افروز جذباتی تقریریں اور آپ کی مسکراہٹوں کی آوازیں اب بھی سنائی دیتی ہیں۔ ہم آپ کو مرحوم کہہ کر پکاریں یا شہید، حقیقت یہ ہے کہ آپ ہمارے لیے ہمیشہ زندہ رہیں گے، آج بھی ذہن آپ کی جدائی کے حادثے کے اثر سے باہر نہیں نکلا ،عمر بھر کا ساتھ اور رفاقتوں کی یادوں نے دل ودماغ کو گھیرا ہوا ہے۔
بَکَیْتُ أَخِی لَمَّا تَفَرَّقَ شَمْلُنَاوَصِرْتُ وَحْدِی وَالْحَوَادِثُ تَحْدُقُ
’’میں اپنے بھائی پر رویا جب ہمارا ساتھ بکھر گیا اور میں اکیلا رہ گیا جب مصائب نے گھیرے‘‘
تَغَیَّرَ بَعْدَکَ لَوْنُ الدَّہْرِ کُلُّ ہُوَأَوْحَشَنِی فِیہِ الصَّدِیقُ وَالْقَرِیبُ
’’تمہارے بعد دنیا کا رنگ بدل گیا اور دوست و رفیق سب اجنبی لگنے لگے‘‘
ویسے تو آپ ؒ کے ساتھ میری زندگی بھر کی بہت ساری یادیں وابستہ ہیں لیکن خصوصی اشاعت کے تیار ہونے کے باعث چند سطریں دل پر پتھر رکھ کر اور قلم خوں میں ڈبو کر لکھ دی ہیں۔ کاش !اپنے مجروح دل و دماغ اورسوختہ جان و تن کے مقتل میں مسلسل صدموں، حادثوں اور ہجر و فراق و رنج و الم نے جو قیامتیں ڈھائی ہیں ان داغوں کی کچھ تصویر کشی اور زخموں کی کچھ نقاب کشائی صفحہ قرطاس پر واضح طور پر پھیلا سکتا …مگر ہاتھ شل، زبان گنگ اوردماغ ماؤف ہوگیا ہے۔
مرا در دیست اندر دل اگر گویم زباں سوزد
’’میرے دل میں ایسا درد (غم) ہے کہ اگر بیان کروں تو زبان جل جائے‘‘
وگردم در کشم ترسم کہ مغز استخوان سوزد
’’اور اگر چھپاؤں تو ڈرتا ہوں کہ (اس کی تپش سے)ہڈیوں کا مغز جل جائے۔‘‘
وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَآئٌ وَّ لٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ
_________________
مولانا حامد الحق ؒکی شہادت :ایک سال بعد بھی قاتلوں کی عدم گرفتاری؟
والدی الکریم، مجاہد اسلام، بطل حریت، شیح الحدیث حضرت مولاناسمیع الحق شہیدؒکی شہادت کے المناک سانحہ دونومبر ۲۰۱۸ء کے آٹھ سال مکمل ہوگئے ہیں،مظلوم باپ کے بعد بڑے بیٹے حضرت مولانا حامد الحق حقانی ؒکو بھی بیدردی کے ساتھ شہید کردیا گیا لیکن ان کو شہید کرنے والے ظالم وسفاک قاتلوں کا سراغ آج تک نہ مل سکااور حسب سابق حکومت و ادارے مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہیں۔
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
یہ بات ہر ذی شعور پاکستانی پر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے خاندان کے بزرگ شہداء نے ہمیشہ وطن عزیز کے اسلامی نظریہ کے دفاع کی جنگ لڑی اور اس ملک کی جغرافیائی ونظریاتی سا لمیت کی بقاء کیلئے آخر دم تک یہ حضرات ہرجگہ پر کلمہ حق کہتے رہے مگر بدقسمتی سے مولانا سمیع الحق شہیدؒ کے قاتل بھی آٹھ سال گزر جانے کے باوجود نہ مل سکے اور حضرت مولانا حامد الحق شہیدؒ کے قاتل بھی ایک سال بیت جانے کے بعد نہ مل سکے۔دونوں واقعات پر ریاست کے اعلیٰ عہدیداروں اور حکمرانوں نے ہمیں صرف یہ بتایا کہ بیرونی عناصر اس میں ملوث ہیں اور ہم تفتیش کررہے ہیں مگر عملی طورپر تحقیقات کا نتیجہ آج بھی صفر بٹہ صفر ہے ،نہ اصل قاتل تلاش کئے جاسکے ،نہ سازشی عناصر کا کچھ معلوم ہوا ، اس تمام تکلیف دہ مجرمانہ صورتحال پر ہم کیا لکھیں،بعض وارداتوں پر چند گھنٹوں میں ہی ایکشن لیا جاتا ہے اور قاتل اور سازشی پکڑے جاتے ہیں مگر علمائے دیوبند اورعلمائے اکوڑہ خٹک کے قتل عام پر کیوں غفلت اور خاموشی اختیار کی جاتی ہے؟افسوس پاکستان کے علماء اور ہم سب اپنی اپنی باریوں کا انتظار کررہے ہیں،اس ظلم و بربریت کے خلاف کوئی لائحہ عمل اور کوئی مقدمہ اور کوئی آواز اٹھانے کو تیار نہیں۔ خداوند! تیرے ہی حضور اپنے خاندان کا مقدمہ اور اپنی فریاد پیش کرنا چاہتا ہوں۔
رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَھْلُھَاوَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا ’’اے ہمارے رب!ہمیں اس بستی سے نکال دے جس کے رہنے والے ظالم ہیں، اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حمایتی مقرر فرما دے اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی مددگار بنا دے۔‘‘
کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ
نہ دست و ناخن قاتل نہ آستیں پہ نشاں
نہ سرخی لب خنجر نہ رنگ نوک سناں
نہ خاک پر کوئی دھبا نہ بام پر کوئی داغ
کسی علم پہ رقم ہو کے مشتہر ہوتا
پکارتا رہا بے آسرا یتیم لہو
کسی کو بہرِ سماعت نہ وقت تھا نہ دماغ
نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خون خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا