ایران اورمشرق وسطی جنگ کے شعلوں میں
امریکہ ،اسرائیل کی دوبارہ جارحیت
نقش آغاز :مولانا راشد الحق سمیع
بدقسمت ایشیا میں مشرق وسطی کا خطہ کئی دہائیوں سے مسلسل جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہے، اس کے ایک نہ ایک حصے میں ہر وقت آگ و خون کا خونی کھیل جاری رہتا ہے،مشرقِ وسطی کا یہ بدقسمت خطہ جو کبھی علم و حکمت کا مرکز تھا، عالمی طاقتوں کی کش مکش، وسائل کی ہوس اور سیاسی سازشوں کے باعث ایک ایسے المیے میں بدل چکا ہے جہاں ہر نئی صبح ایک تازہ زخم لے کر آتی ہے۔غزہ کی داستان اَلم و بربادی نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینا چاہیے تھا لیکن ایسا نہ ہوا، بائیس لاکھ انسانوں پر آتش و آہن کی وہ بارش ہوئی کہ شہر کا شہر ملبے کا ڈھیر بن گیا، اسپتال، اسکول، رہائشی علاقے سب ایک ہی صفحے پر درج ہو گئے، بچوں کے جسموں سے لپٹی دھول، ماؤں کی سسکیاں اور گھروں کے اجڑنے کی چیخیں پوری دنیا نے دیکھیں اور یہاں کے گنجان آباد شہروں کو ویران کرکے کھنڈر میں تبدیل کردیا،انسانی حقوق کی دھجیاں ظالم صیہونی فوجوں نے وہاں پر اڑا دیں مگر طاقتور ریاستوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی، انسانی حقوق، جنگی قوانین اورعالمی اخلاقیات یہ سب صرف کتابوں میں درج رہ گئے یا وقتی تقاریر میں استعمال ہوتے رہے مگر مظلوموں کے حق میں استعمال نہ ہو سکے ۔
ابھی غزہ کی تباہی و بربادی کا گرد و غبار بیٹھا بھی نہ تھا کہ پاکستان کے ہمسایہ ملک ایران کو ایک بار پھر امریکہ و اسرائیل نے نشانہ بنا کر خطے میں ایک اور آگ بھڑکا دی گئی، اس سے پہلے انہی کے اشاروں پرصیہونی اسرائیل غزہ کے لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا اور خطے کو تاراج کیا،گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے ان دونوں جارح ممالک نے مل کر ایران کے خلاف یورش بپا کررکھی ہے اور ایران کے مختلف عوامی مقامات اور حتیٰ کہ ایک بچیوں کے سکول پر حملے کرکے عالمی جنگی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوچکا ہے ،امریکہ طاقت کے گھمنڈ میں ہر حد کوپھلانگ رہا ہے ۔موجودہ امریکی قیادت کا اندازِ گفتگو اس خطرناک رویے کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں اخلاقی حدود کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے اور عالمی فیصلے غیض و غضب اور سیاسی ضد کے زیرِ اثر کیے جا رہے ہیں۔ طاقت کے نشے میں مست حکمران جب زبان و بیان کا وقار کھو بیٹھیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ معاملات اب سیاسی نہیں رہے بلکہ ضد اور بے عقلی کا رنگ اختیار کر چکے ہیں،جیسا کہ صدر ٹرمپ کے احمقانہ بیانات ہم سب کے سامنے ہیں، انہوںنے سیاسی اورمفادات کی جنگ کو مذہبی جنگ قرار دے دیا ہے۔ امریکی وزیردفاع اور صدر ٹرمپ بار بار اس جنگ کو مذہبی طور پر پیش کررہے ہیں، ٹرمپ نعوذ باللہ اپنے آپ کو خدا کا منتخب لیڈر بلکہ یسوع مسیح کے درجے پر پیش کررہا ہے جس پر خود امریکی سیاستدان اور کانگریس کے ممبران سخت تنقید کررہے ہیں۔دوسری طرف ایران اپنی داخلی و خارجی مشکلات کے باوجود، اس وقت وہ واحد مسلم ملک ہے جو کھلے عام امریکی و اسرائیلی جارحیت کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ایران نے فلسطین کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا اور خطے میں جارحیت کے سامنے وہ مزاحمت دکھائی جو زیادہ بڑے، زیادہ مضبوط اور زیادہ وسائل رکھنے والے ممالک بھی نہ دکھا سکے۔ یہ تنہا کھڑا ملک آج پوری مسلم دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے کہ استعمار کے سامنے خاموش رہنا اخلاقی کمزوری بھی ہے اور تاریخی جرم بھی،چونکہ ایرانی عوام بحیثیت مجموعی ایک نڈراورمتحد قوم ہے جو گزشتہ کئی عشروں پر محیط بین الاقوامی پابندیوں کا جفاکشی کے ساتھ سامنے کررہے ہیں اسی طرح ان کے لیڈر بھی قوم اور اپنے وطن کے ساتھ مخلص ہیں اور اپنے نظریات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے مفادات کے لئے کوئی سودا کرتے ہیں،اسی لئے انہوںنے عوام کے دل جیت لئے ہیں اورانہوںنے بھی اس جنگ میں بڑی شخصیات کی قربانیاں بھی دی ہیں جن میں ان کے سپریم لیڈر بھی شامل ہیں ۔
موجودہ ابتر صورتحال میں مسلمان ممالک کی خاموشی یا نیم دلانہ نمائشی بیانات مسلمانوں میں پھیلی مایوسی میں مزید اضافہ کررہے ہیں۔بہت سی حکومتیں اپنی داخلی سیاست، عالمی دباؤ، معاشی مجبوریوں یا سفارتی مصلحتوں کے باعث کھل کر کچھ کہنے کی ہمت نہیں کر رہیں مگر سوال یہ ہے کہ کب تک؟ کیا خاموش رہ کر یہ حکمران اپنی باری سے بچ سکتے ہیں؟ کیا اس عمل سے جنگیں رک جائیں گی؟ تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ جب ظلم کے سامنے آواز نہ اٹھائی جائے تو ظلم کی جڑیں مضبوط ہو جاتی ہیں اور اس کا دائرہ مزید وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی یہ آگ صرف ایران یا فلسطین تک محدود نہیں، یہ وہ شعلہ ہے جو اگر آج نہ بجھایا گیا تو اس کے دائرے میں پورا خطہ آسکتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی موجودہ پالیسیاں واضح اشارہ دے رہی ہیں کہ بین الاقوامی جنگی قوانین ان کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ ایسے میں عالمی اداروں کا کردار بھی سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ جب اقوامِ متحدہ اور عالمی عدالتیں بے بسی کی تصویر بن جائیں تو کمزور قوموں کے لیے دنیا ایک جنگل بن جاتی ہے جہاں طاقتور ہی کے کلہاڑے کا قانون چلتاہے۔
دوسری جانب ایران نے ڈیڑھ ماہ میں خود پر تابڑ توڑ حملوں کے باوجود استقامت اور بہادری کا مظاہرہ کیا ہے اور امریکہ واسرائیل کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،تاریخ میں ہمیشہ انہی اقوام کا نام روشن رہتا ہے جومشکل وقت میں یکجا ہوکر ظالم اورجارح کے مقابلے میں یکجا ہوجاتی ہیں، یہ معرکہ صرف سیاسی نہیں بلکہ اقدار، خود داری اور امت مسلمہ کے وقار کا معرکہ ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم دنیا اپنی تقسیم چھوڑ کر ایک صف میں کھڑی ہو، سفارتی سطح پر یک آواز ہو اور کم از کم اخلاقی وسیاسی میدان میں اپنا کردار ادا کرے لیکن اس کے ساتھ ایران کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی اور برادر اسلامی ممالک کی آزادی اور خودمختاری کا خیال رکھے اوران کی توانائی و دیگر مختلف مقامات پر حملے نہ کرے تاکہ امریکہ اور اسرائیل نے جو منصوبہ بنا رکھا ہے کہ اسلامی ممالک آپس میں دست و گریبان ہوں اس مذموم منصوبے کو ناکام بنادیں۔اس جنگ کے دوران خلیجی ممالک نے بھی تحمل کا مظاہرہ کیا کہ انہوں نے امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کوئی جوابی کارروائی نہیں کی جس سے اسلامی ممالک کے درمیان جنگ کی فضا سرد پڑ گئی۔امریکہ نے بڑی کوشش کی کہ ایران اور عرب ممالک آپس میں لڑ پڑیں مگر عربوں کی دوراندیشی وبصیرت اور زمینی حقائق سے واقفیت کی بناء پر وہ اس جنگ سے باز رہے چونکہ اب بغیر کسی معقول وجہ کے ایران اور خطے کی صورتحال کو امریکہ و اسرائیل نے خراب کردیا ہے اور ایران کے مقابل میں امریکہ واسرائیل ناکام بھی ہوچکے ہیں،امریکہ کو یقین تھا کہ اس جنگ کے آغاز ہی سے ایران میں بغاوت و یورش شروع ہو جائیگی اورعرب ممالک بھی ایران سے لڑ پڑیں گے ،دوسرا بڑا اہم کام یہ ہوا کہ نیٹو یعنی یورپ، ٹرمپ واسرائیل کی مسلط کردہ لڑائی میں اس دفعہ مکمل غیر جانبدار اور شامل نہ ہوئے، ٹرمپ نے مسلسل ان پر دباؤ ڈالا،انہیں طعنے دیئے لیکن یورپ نے دانشمندی کا فیصلہ کرتے ہوئے پرائی لڑائی لڑنے سے انکار کیا جسے مسلمان اور معتدل عالمی پلیٹ فارمز نے اسے سراہا ہے۔ پاکستان نے بھی ان سخت حالات میں بہتر پالیسی اپنائی ہے اور صلح وپائیدار امن کے لئے کوششیں شروع کی ہوئی ہیں جوکہ خوش آئند ہے۔ اللہ تعالیٰ عالم اسلام اور ایشیا میں دائمی امن اور سلامتی کی فضاء کو پھر سے قائم رکھے اور امریکی جارحیت سے ایران وعالم اسلام کو محفوظ رکھے۔ (آمین)