ردِ قادیانیت کے سلسلے میں مولانا عبدالحق ؒکا کردار

قومی اسمبلی میں مولانا عبدالحقؒ کی قادیانیت کے تعاقب کی پارلیمانی دستاویزی روئیداد

قادیانیوں کو یہ غلط فہمی رہی کہ چونکہ انگریز سرکار کی سرپرستی انہیں حاصل ہے اور پاکستان کے ارباب اقتدار پر ان کو تسلط حاصل ہے، فوج میں ان کا گہرا اثر و رسوخ ہے، ملک کے کلیدی مناصب پر ان کا قبضہ ہے۔ پاکستان کا وزیرخارجہ ظفراللہ قادیانی ہے، اسلئے پاکستان میں مرزا غلام احمد کی جھوٹی نبوت کا جعلی سکہ رائج کرنے میں انہیں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی اور ادھر احرار اسلام اور علمائے حق کا قافلہ حکومت کا معتوب تھا۔ قادیانیوں کو یہ غرہ تھاکہ اب حریم نبوت کی پاسبانی اور قادیان کی جعلی قبائے نبوت کے بخیے ادھیڑنے کی ہمت کسی کو نہ ہوگی جو بھی اس کی جرأ ت کرے گا، اسے شرپسند اور باغی کہہ کر آسانی سے تختہ دار پر لٹکادیا جائے گا یا کم از کم پس دیوار زنداں بھیج دیا جائیگا، لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ حفاظت دین اور تحفظ ختم نبوت کا کام انسان نہیں کرتے خدا خود کرتا ہے اور اس کیلئے بھی رجال کار بھی پیدا کردیتا ہے چنانچہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ، علامہ انور شاہ کشمیری، قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا سید محمد یوسف بنوری، مولانا مفتی محمود اور شیخ الحدیث مولانا عبدالحق ؒکی مساعی، کردار اور قادیانیت کا تعاقب قدرت ہی کی نیرنگیوں اور حفاظت دین کے سلسلہ میں تکوینی امور کی کڑیاں ہیں، شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒکا قادیانیت کے سلسلہ میں کردار کیا رہا، اس کے لئے تو دفتر بے پایاں چاہیے، ذیل میں ہم صرف قومی اسمبلی میں قادیانیت کے تعاقب میں ان کے کردار کا اجمالی خاکہ پیش کررہے ہیں۔ (مولوی محمد ہارون مجتبیٰ)

ربوہ میں قادیانیوں کے سالانہ اجتماع پر تحریک التوا

دسمبر کے آخر میں ربوہ میں بڑے پیمانے پر قادیانیوں کے عالمی اجتماع کی خبریں آچکی تھیں۔ قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت دیے جانے کے بعد ظاہر ہے کہ ایسے اجتماع میں کیا کیا تدبیریں اور ملک و ملت کے خلاف سازشیں زیرغور آئیں گی۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالحق صاحب نے ۱۸؍دسمبر۷۴ء کو قومی اسمبلی میں اس مسئلہ کو تحریک التوا کے ذریعہ زیربحث لانا چاہا۔ اقلیتی امور کے وزیرمملکت ملک محمد جعفر نے تحریک کے نفس مضمون سنانے کی بھی مخالفت کی اور اسے زیربحث لانا بھی مفاد عامہ کے خلاف قرار دیا۔ اسپیکر نے دوسرے دن پر اپنا فیصلہ ملتوی کردیا۔ دوسرے دن ۱۹؍دسمبر کو سپیکر نے کہا کہ گو وزیر موصوف تو تحریک پیش کردینے کے بھی خلاف ہیں مگر مجھے اس سے اتفاق نہیں، محرک مولانا (مدظلہ)اسے پیش تو کرسکتے ہیں، البتہ اسے زیر بحث نہ لایا جائے۔ مولانا عبدالحق صاحب نے تحریک پیش کردی، جس کا متن یہ تھا کہ:
’’ماہ رواں کے آخری ہفتہ میں قادیانیوں کا وسیع پیمانہ پر سالانہ اجتماع کے انعقاد کی خبریں آچکی ہیں اور یہ بھی اس اجتماع میں بھارت سمیت باہر ممالک سے بھی وفود شرکت کررہے ہیں۔ چونکہ یہ اجتماع اسلام اور مسلمانوں کے نام پر ایک ایسا گروہ کررہا ہے جسے آئین میں غیرمسلم اقلیت قرار دیا جاچکا ہے اور خطرہ ہے کہ اجتماع اور اس کی تقاریر سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوگی بلکہ ملک کی سا   لمیت کے خلاف بھی سکیمیں زیرغور لائی جائیں گی، اس لیے اس اہم ترین مسئلہ پر قومی اسمبلی غور کرے گی۔‘‘
تحریک کے بعد سپیکر کے روکنے کے باوجود مولانا نے کہا کہ آئینی ترمیم میں عقیدہ ختم نبوت کے خلاف تبلیغ کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ اس اجتماع میں کھلم کھلا ختم نبوت کے خلاف پرچار کیا جائے گا، اس لیے ایسا اجتماع آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ سپیکر نے کہا کہ چونکہ اس مسئلہ پر تین ماہ مسلسل غور ہوچکا ہے، ہر روز اسے اٹھایا نہیں جاسکتا اور یہ کہ اب بطور اقلیت انہیں شہری حقوق دینے ہوں گے، مولانا مدظلہ نے جواب دیا کہ شہری حقوق وہی ہونے چاہیے،جو آئین کے خلاف نہ ہوں مگر سپیکر نے تحریک مسترد کردی۔ (قومی اسمبلی میں اسلام کا معرکہ: ص نمبر۲۵۲)

قوم بیدار ہے مرزائی مسئلہ میں ہم قوم کی آنکھوں میں مٹی نہیں ڈال سکتے

آپ کو معلوم ہے کہ مجلس عمل میں علماء کی جماعت نے اعلان کیا کہ جمعہ کو کراچی سے پشاور تک پرامن ہڑتال ہوگی اور انہوں نے یہ فرمایا کہ ہماری اپنی حکومت ہے، وہ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ ملک میں بدامنی پیدا ہو یا کوئی نقصان ہو نہ ہی کسی قادیانی کی خون ریزی ہو اور نہ ہی کسی قادیانی کی دوکان کو جلایا جائے لیکن میں اپنی حکومت کو یہ احساس دلانا چاہتا ہوں کہ یہ پاکستان کے باشندے تھے۔ چاہے ریڑی والے تھے، چاہے وہ تعلیم یافتہ تھے، وہ جس خاندان اور جس صوبے سے تعلق رکھتے ہوں، اس پر متفق ہیں کہ ان مرزائیوں کی اس ملک میں سرگرمیاں ملک و ملت کے خلاف ہیں، یہ لوگ دشمن کی جاسوسی کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو ان میں کلیدی مناصب پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں اور ہم جس تباہی کی طرف جارہے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟
ان باتوں کے بارہ میں اب ہماری قوم بیدار ہوچکی ہے۔ ہم ان کی آنکھوں میں مٹی نہیں ڈال سکتے۔ایک صاحب دوسرے کو کہہ رہے تھے کہ یہ مولوی ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں۔اس سلسلے میں میں عرض کروں گا کہ یہ صرف مولویوں نے نہیں کہا ہے بلکہ ہمارے وزیراعظم صاحب نے کہہ دیا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی اور نبی نہیں مانیں گے۔ یہ تو وزیراعظم نے کہا کہ یہی میرا عقیدہ ہے۔میں کہتا ہوں کہ اس ملک کے کل باشندے جہاد کو اپنا فرض سمجھتے ہیں اور ہندوستان کے ساتھ جو کہ کافر ہے اسلام کے نام پر لڑنے کے لیے اور اس کی حفاظت کے لیے اور ملک کی حفاظت کے لیے اپنی جان و مال قربان کردینے کے لیے تیار ہیں۔   (قومی اسمبلی میں اسلام کا معرکہ صفحہ نمبر۲۶۹)

مرزائی مسئلہ پر ریفرنڈم ہوچکا ہے

جناب سپیکر صاحب!میں یہ عرض کررہا تھا کہ ایک دبی ہوئی آواز پر کراچی سے لے کر چترال تک سارے ملک نے لبیک کہا۔ آج ہمارے ریڈیو اور ٹیلی ویژن نے اپنی پالیسی نشر کی۔ میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ ہمارے ملک کی عوام نے قادیانیوں کے بارہ میں ریفرنڈم کرلیا ہے، ووٹ دے دیے اور دیکھئے کہ جمعہ کو ہڑتال ہوگئی،پھر پرامن ہڑتال ہوئی۔ اس میں یقینا ایسے لوگ بھی ہوں گے جو غنڈے بھی تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے ملک کی حفاظت کے لیے اپنی حکومت اور بھٹو صاحب کی اپیل پر کراچی سے لے کر پشاور تک کوئی ایسا واقعہ نہیں ہونے دیا۔ ایک دو واقعات جو پیش آئے، وہ مجھے معلوم ہے کہ اس میں پولیس کی زیادتی تھی۔ لوگ نماز پڑھ کر مسجد سے آرہے تھے تو وہاں پولیس نے لاٹھی چارج کیا، میں آپ سے عرض کردوں کہ یہ بات قابل غور ہے کہ ۷۱۔۱۹۷۰ء میں اتحاد کا نعرہ بلند کرنے والے علماء تھے اور اس جمعہ کے دن علماء ہی تھے جنہوں نے اشتعال نہیں دلایا۔ پنڈی میں خدا کے فضل و کرم سے کوئی لڑائی نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی واقعہ پیش آیا اور نہ ہی کوئی اور چیز ہوئی۔  (قومی اسمبلی میں اسلام کا معرکہ: ص۲۷۰)

اسمبلی میں داخل کردہ اہم مسائل پر داخل کردہ سوالات

ربوہ ایک مرزائی سٹیٹ
بنام وزیر داخلہ پاکستان۔  مورخہ۳۱؍ اگست ۱۹۷۲؍ ایس۔ کیو۔ ڈی ۱۶
(۱) کیا وزیر داخلہ صاحب وضاحت فرمائیں گے کہ کیا یہ صحیح ہے کہ ربوہ کا پولیس اسٹیشن اور پوسٹ آفس وغیرہ قادیانیوں کی خطرناک تنظیم محکمہ امور عامہ کے کنٹرول میں ہے؟
(۲)  کیا متعلقہ وزیر صاحب بتائیں گے کہ کیا یہ اطلاعات صحیح ہیں کہ خلیفہ ربوہ اپنی پرائیویٹ مجالس میں یہ تاثر دے رہا ہے کہ موجودہ حکومت میرے زیراثر ہے؟ اگر یہ صحیح ہے تو اس کے محرکات کیا ہیں؟

چینی سفیر کا دورہ ربوہ

بنام وزیر داخلہ۔۱۴؍ ستمبر ۱۹۷۲  ایس ۔ کیو۔ ڈی ۱۷
کیا وزیر داخلہ ارشاد فرمائیں گے کہ چینی سفیر متعینہ پاکستان کے دورہ ربوہ اور وہاں پر دو دن قیام کی بہم خبروں سے ملک میں سنسی پھیل گئی ہے۔ کیا وزیر داخلہ اس دورہ کی تفصیلات بتاسکیں گے اور اس دورہ کے عوامل پر روشنی ڈالیں گے؟  (قومی اسمبلی میں اسلام کا معرکہ: ص ۳۰۶)

مرزائیت اور اسرائیل

بنام وزیرداخلہ۔۵؍ ستمبر ۱۹۷۲
(۱)  کیا یہ صحیح ہے کہ پاکستان کی قادیانی جماعت مسلم دشمن نام نہاد ریاست اسرائیل میں اپنے سنٹر قائم کرچکی ہے؟
(۲) کیا یہ صحیح ہے کہ اسرائیل کے علاقوں، مونٹ کرمل، کبابیر میں قادیانیوں نے مضبوط سیاسی اڈے قائم کیے ہیں؟
(۳) کیا یہ صحیح ہے کہ ایسے اڈے تبلیغی مقاصد کے ساتھ ساتھ مسلمان ممالک کے خلاف سازشوں کے مراکز بن گئے ہیں؟
(۴) کیا یہ صحیح ہے کہ افریقہ سمیت پوری اسلامی دنیا اور یورپ میں مرزائیت کے سنٹر قائم ہیں؟
(۵) کیا حکومت ایک پاکستانی جماعت کے ایسے مراکز اور سنٹروں کی تفصیل اور تعداد بتلاسکتی ہے؟
(۶) کیا یہ صحیح ہے کہ ایسے مرزائی اڈوں نے یہودیوں سے مل کر سقوط مشرقی پاکستان میں اہم کردار ادا کیا؟

قرارداد اقلیت آزاد کشمیر

(۱) کیا وزیر داخلہ وضاحت فرمائیں گے کہ کیا حکومت کو قادیانیت کو اقلیت قرار دینے کے بارہ میں آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد کا علم ہے؟
(۲) کیا یہ صحیح ہے کہ پاکستان کے عام مسلمانوں نے اس قرارداد کو سراہا اور آزاد کشمیر اسمبلی کو پرجوش تحسین اور مبارک باد پیش کی؟
(۳) کیا مرکزی حکومت پاکستان سے بھی اس طرح اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو حکومت اس بارہ میں کیا غور کررہی ہے؟
(۴) یہ اخباری افواہیں کہاں تک صحیح ہیں کہ مرکزی حکومت کے ایک وزیر نے صدر آزاد کشمیر کو یہ قرارداد واپس لینے کے مشورے دیے؟    (قومی اسمبلی میں اسلام کا معرکہ: ص ۳۲۵)

ربوہ کا سالانہ اجتماع اور سرکاری خرچ پر سوئی گیس

سوال نمبر:   ۱۶اپریل ۱۹۷۴ کیا وزیر ایندھن، بجلی و قدرتی مسائل ارشاد فرمائیں گے کہ:
آیا یہ حقیقت ہے کہ سوئی گیس کمپنی نے ہنگامی بنیاد پر احمدی فرقہ کے سالانہ اجتماع کے موقع پر ربوہ
میں پانچ ہزار فٹ لمبی پائپ لائن بچھائی جس پر تقریبا چار لاکھ روپے لاگت آئی؟
جواب محمد حنیف: جی ہاں!لیکن صرف ۸۰ہزار روپے خرچ ہوئے،چار لاکھ نہیں
(قومی اسمبلی میں اسلام کا معرکہ:ص ۳۲۶)

قادیانیوں کی رجسٹریشن

سوال نمبر۱۵: کیا وزیر داخلہ نشان دار سوال نمبر۵۹مورخہ ۱۲؍نومبر ۱۹۷۵کے جواب کے حوالے سے بیان فرمائیں گے کہ:
(الف) آیا رجسٹریشن کے اعداد و شمار پر کاروائی مکمل ہوچکی ہے؟ اگر یہ صحیح ہے تو کتنے احمدیوں نے مطلوبہ حلف نامے داخل کیے ہیں؟
(ب) نیز حکومت کی طرف سے ایسے احمدیوں کے بارے میں کیا انتظامات کیے جارہے ہیں جنہوں نے حلف نامے داخل نہیں کیے؟
جواب:  ۱۲۔۶۔۷۶ جناب عبدالقیوم خان وزیرداخلہ ریاستیں و سرحدی علاقہ جات
(الف) جی نہیں، رجسٹریشن کے اعداد و شمار کی بابت کاروائی ابھی شروع نہیں ہوئی ہے تاہم تقریباً آٹھ ہزار احمدیوں نے مردم شماری و رجسٹریشن ادارے میں یہ حلف نامے داخل کیے ہیں۔
(ب)  آخری تاریخ کا ابھی اعلان نہیں ہوا ہے کیونکہ آبادی کو ابتدائی دائرہ کار میں لانے کا کام ابھی مکمل نہیں ہوا اور جب اسے ابتدائی دائرہ کار میں لانے کا کام مکمل ہوگا تو آخری تاریخ جس میں حلف نامے بھیجنے کی تاریخ شامل کیا جائے گا اور اس میں احمدی زمرہ بھی آجائے گا۔
(قومی اسمبلی میں اسلام کا معرکہ :ص ۳۲۶)

قادیانیت۔ ربوہ

سوال نمبر۱۴۹:  ۳۰؍اگست ۱۹۷۲ء
کیا وزیر تعلیم یہ بیان فرمائیں گے کہ عوام میں تاثر پایا جاتا ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی کے باوجود ربوہ میں سکول اور کالج کو حکومت اپنی تحویل میں نہیں لے رہی ہے اور انہیں اس سے مستثنی کر دیا گیا ہے؟
جواب:  عبدالحفیظ پیرزادہ:  جی نہیں۔  (قومی اسمبلی میں اسلام کا معرکہ: ص ۲۹۶)

قادیانی اوقاف

سوال نمبر۱۸۷:  ۳۱ اگست ۱۹۷۲ء
کیا وزیر حج و اوقاف از راہ کرم ارشاد فرمائیں گے کہ:
الف) کیا اوقاف اور حج کے شعبہ کے دائرہ کار میں قادیانی جماعت کے اوقاف نہیں آتے؟
(ب) کیا حکومت کے پاس اس سلسلے میں کوئی اقدامات کرنے کی تجویز ہے؟
جواب: کوثر نیازی:
(الف) مرکزی وزارت اوقاف کے پاس کوئی وقف نہیں ہے۔ تمام اوقاف صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں ہیں۔(ب) مندرجہ بالا جواب کی روشنی میں یہ سوال مرکزی حکومت سے غیرمتعلق ہے۔(قومی اسمبلی میں اسلام کا معرکہ ،ص ۲۹۶)

مسترد شدہ سوالات

ظفر اللہ اور بنگلہ دیش
کیا متعلقہ وزیر ارشاد فرمائیں گے کہ:
(۱)  کیا یہ صحیح ہے کہ پاکستان نے سرظفراللہ کو عالمی عدالت میں بنگلہ دیش کے قیدیوں میں ایڈہاک جج مقرر کیا ہے؟
(۲)  کیا سر ظفراللہ پاکستان کے مسلمانوں کی غیرپسندیدہ شخصیت نہیں؟
(۳) بنگلہ دیش کے قیام میں سر ظفراللہ کی جماعت کے کردار کے بارہ میں افواہوں اور چہ مگوئیوں کا حکومت کو علم ہے؟
(۴) کیا یہ صحیح ہے کہ مشرقی پاکستان کے عوام ظفراللہ کی جماعت کو دونوں حصوں میں نفرت پیدا کرنے کا بنیادی سبب سمجھتے ہیں؟
(۵) کیا ظفراللہ جیسی متنازعہ شخصیت کی متبادل کوئی معتمد شخصیت ایسے نازک مقدمہ کے لیے نہیں مل سکتی تھی؟  (قومی اسمبلی میں اسلام کا معرکہ :ص ۳۲۵)

مرزائیوں کے رجسٹریشن اور شناختی کارڈ کا مسئلہ

قومی اسمبلی کے اجلاس موسم سرما میں حزب اختلاف کے بائیکاٹ سے قبل ۱۲؍نومبر۱۹۷۵ء کے وقفہ سوالات میں ۵بج کر۱۰منٹ پر مرزائیوں کی رجسٹریشن کا مسئلہ زیربحث آیا تو حضرت شیخ الحدیث نے اس ضمن میں مرزائیوں کی رجسٹریشن کے سلسلہ میں ایک اہم خامی پر ایوان کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:
مولانا عبدالحق: جناب والا! رجسٹریشن اس لیے کی گئی تھی تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ یہ مسلمان ہے یا غیرمسلم؟ مگر شناختی کارڈ پر جب مذہب کا خانہ ہی نہیں تو کیسے معلوم ہوسکتا ہے؟ جن ممالک نے مثلاً سعودی عرب نے حج کے موقع پر قادیانیوں کے داخلہ پر پابندی لگائی ہے تو میرے خیال میں شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ ہونا چاہیے۔
جناب سپیکر نے وزیر داخلہ کو اس سوال کے بارہ میں توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ : خان صاحب! مولانا صاحب دریافت کرتے ہیں کہ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں ہے؟
وزیر داخلہ خان عبدالقیوم خان نے انگریزی میں جواب دیا جس کا خلاصہ یہ تھا:
’’حلف نامے کو فارم اے میں شامل کر دیا گیا ہے۔ یہ نہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اب تک رجسٹرڈ نہیں، بلکہ کارڈ حاصل کرنے والوں کو بھی بھیجا گیا ہے۔ ۲۰؍لاکھ افراد کو بھیجا گیا تھا اور تقریبا ۲۰ہزار کے فارم واپس آچکے ہیں۔ اس عمل پر کچھ وقت لگے گا‘‘۔
اسی بحث میں ایک ضمنی سوال پر پوائنٹ آف آرڈر اٹھاتے ہوئے مولانا مفتی محمود صاحب نے مرزائیوں کے لئے احمدی کا لفظ استعمال کرنے پر بھی اعتراض کیا اور اپیل کی کہ آئندہ کے لئے یہ لفظ استعمال نہ کیا جائے جس کے جواب میں سپیکر صاحب نے بھی کہا کہ آئندہ احتیاط کی جائے گی(قومی اسمبلی میں اسلام کا معرکہ :ص۳۴۸)

ہمارے ایٹمی منصوبے اور مرزائیوں کا کردار

شرط یہ ہے کہ جتنی رقم منظور ہو وہ خرد برد نہ ہو، قوم تب سستی نہیں کرے گی اور تب قربانیوں سے دریغ نہیں کرے گی بشرطیکہ اس سلسلے میں یقین ہوجائے کہ حکومت صرف باتیں کرنے والی نہیں، بلکہ عمل کرنے والی بھی ہے اور یہ کہ قوم کو یقین ہو کہ ایٹمی اور فوجی پروگرام مرزائیوں کے ہاتھوں میں نہیں دیے جائیں گے، نہ انہیں ایسے کاموں کا سربراہ بنایا جائے گا، ہم ایسے لوگوں پر بھروسہ کریں جن کے مذہبی نقطہ نظر سے سرے سے جہاد حرام ہے۔ بی بی سی بھی اعلان کرتا ہے کہ مرزائیوں کے عقیدے میں جہاد حرام ہے اور یہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے۔ (قومی اسمبلی میں اسلام کا معرکہ :ص ۲۶۸)

مرزائیت

دوپہر کے وقت ایک صاحب نے کہا کہ فلاں جماعت نے پاکستان اور قوم کے خلاف فلاں کچھ کہا، لیکن اس نے نام نہیں لیا تو قادیانیوں کا جنہوں نے پاکستان کی مخالفت کی۔ ان کے مذہبی پیشوا مرزا بشیرالدین نے وصیت لکھی ہے کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے امانت کے طور پر یہاں دفنادینا، جب قادیان متحد ہوگا، یہ پاکستان کے ساتھ ملے گا تو میری لاش یہاں سے نکال کر قادیان میں دفن کردینا۔
جناب والا!میں آپ کی خدمت میں عرض کروں گا کہ اس پاکستان میں سوائے مرزائیوں کے تمام مسلمان متفق ہیں۔ شیعہ مسلمان متفق ہیں، بریلوی مسلمان، دیوبندی مسلمان، سنی اور حنفی مسلمان متفق ہیں۔ سب ایک ہی ہیں مگر دیکھو! حقائق سے آنکھیں بند مت کرو۔ ریڈیو ہمارے پاس نہیں، اخبار ہمارے پاس نہیں، ٹیلی ویژن ہمارے پاس نہیں۔ (قومی اسمبلی میں اسلام کا معرکہ: ص نمبر ۲۶۹)

مولانا زاہد الراشدی صاحب

ڈائریکٹر ’’الشریعہ اکیڈمی‘‘گوجرانوالہ