قادیانی سربراہ مرزا طاہر احمدکا مولانا سمیع الحق کو دعوت مباہلہ

مرزا طاہر احمد کے مباہلے کا چیلنج جناب مدیر ’’الحق‘‘ مولانا سمیع الحق کے نام موصول ہوا۔ لکھا ہے کہ آپ (مولانا سمیع الحق)کا شمار بھی ان معاندین احمدیت میں ہوتا ہے جو بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ اور آپکی جماعت کیخلاف سراسر جھوٹے اور شرانگیز پروپیگنڈے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں اور بلا خوف خدا جماعت کی تکفیر اور تکذیب پر کمربستہ ہیں اور آپ بدستور اپنے معاندانہ موقف پر قائم ہیں لہٰذا آپ کو بھی دعوت مباہلہ ہے۔حضرت مولانا سمیع الحق صاحب سفر حج پر تشریف لے جاچکے ہیں۔ ’’الحق‘‘ کے خصوصی وقائع نگار جناب رستم علی چوہدری مرزا طاہر کے مباہلہ کی حقیقت بے نقاب کرتے ہیں اور جمعیت علمائے اسلام کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی مرزا طاہر کے نام مکتوب مباہلہ کے جواب میں (جولائی ۱۹۸۸) کھلا خط لکھ کر مرزائیت کے ناپاک عزائم، انکے دعوت مباہلہ کا تاریخی پس منظر، مکر و فریب کے نئے سیاسی چالوں اور اب کے مذموم مقاصد سے پردہ اٹھاتے ہیں (مولانا عبدالقیوم حقانی )
______________________________

جناب مرزا طاہر احمد صاحب، سربراہ قادیانی جماعت

السلام علی من اتبع الہدی
جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور ماہنامہ ’’الحق‘‘ کے مدیر (مولانا) سمیع الحق اور ہفت روزہ ’’ترجمان اسلام‘‘ لاہور کے ایڈیٹر مولانا زاہدالراشدی کے نام لندن سے رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعہ آپ کی طرف سے مباہلہ کے اس مطبوعہ چیلنج کی ایک کاپی موصول ہوئی ہے جو پاکستان کے متعدد دیگر حضرات کو بھی بھجوائی گئی ہے، اس مطبوعہ دعوت مباہلہ کا عنوان یہ ہے:’’جماعت احمدیہ عالمگیر کی طرف سے دنیا بھر کے معاندین اور مفکرین کو مباہلہ کا کھلا کھلا چیلنج‘‘اس کے ساتھ قادیانی جماعت کی برطانیہ شاخ کے پریس سیکرٹری رشید احمد چودہری کے دستخط کے ساتھ ایک الگ چٹھی بھی ملفوف ہے جس میں مباہلہ کے اس چیلنج کے پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے یہ لکھا گیا ہے کہ’’اگر آپ بدستور اپنے معاندانہ موقف پر قائم ہیں تو آپ کو جماعت احمدیہ کی طرف سے باقاعدہ دعوت دی جاتی ہے کہ آپ اس چیلنج کو بغور پڑھ کر پوری جرأت کے ساتھ اس کو قبول کرنے کا اعلان عام کریں اور ہر ممکنہ ذریعہ سے اس کی تشہیر کریں‘‘۔
یہ دعوت مباہلہ سرکردہ حضرات کو بھجوانے کے علاوہ آپ کی جماعت نے پاکستان کے مختلف شہروں میں اس کی عام تقسیم کا بھی اہتمام کیا ہے۔ اس لیے ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اس کھلے خط کے ذریعے آپ کی دعوت مباہلہ کا جواب دیا جائے؛ تاکہ عام مسلمان بھی جن تک اس مباہلہ کی کاپیاں مختلف ذرائع سے پہنچائی گئی ہیں، اس کی حقیقت سے آگاہ ہوسکیں۔ہمارے نزدیک اس مہم کا اصل پس منظر یہ ہے کہ سیالکوٹ کے مبلغ ختم نبوت مولانا محمد اسلم قریشی کے اغوا کے بعد ان کے اغوا کے کیس میں آپ کو شامل تفتیش کرنے کے عوامی مطالبہ کے باعث آپ نے پاکستان چھوڑ کر لندن چلے جانے میں عافیت سمجھی اور اسی وجہ سے ابھی تک وہیں قیام پذیر ہیں۔

اسلم قریشی کی اچانک رہائی اور دعوت مباہلہ

لیکن آئندہ سال قادیانی جماعت کے صد سالہ جشن کو اپنے عزائم اور خواہشات کے مطابق منانے کے لیے پاکستان واپسی کو آپ ناگزیر سمجھ رہے ہیں اور اسی واپسی کی راہ ہموار کرنے کی غرض سے مولانا محمد اسلم قریشی کی اچانک برآمدگی کا ڈرامہ رچانے کے علاوہ دعوت مباہلہ کی وسیع پیمانے پر تقسیم و اشاعت کی جارہی ہے جس کا مقصد تحریک ختم نبوت کے قائدین کے خلاف نفرت پھیلاکر پاکستان کی رائے عامہ کو تذبذب اور بے یقینی کا شکار بنانا ہے تاکہ وطن واپسی کی صورت میں آپ کو اس ردعمل سے دوچار نہ ہونا پڑے جس کا خوف آپ کو ابھی تک لندن میں روکے ہوئے ہے ورنہ اس مرحلہ میں مباہلہ کے نئے چیلنج اور اس کی اس پیمانے پر تشہیر و تقسیم کی کوئی اور وجہ نظر نہیں آتی۔
جہاں تک مباہلے کی دعوت کا تعلق ہے، اس بات کو آپ بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ اس عنوان کا مقصد عام لوگوں کو فکری تذبذب اور انتشار کا شکار بنانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے، ورنہ مناظروں اور مباہلوں کے مراحل سے آپ کی جماعت کئی بار گذری ہے اور انہی کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے اس سے پہلے بھی آپ کی جماعت نے مناظرہ اور مباہلہ کے میدان میں نہ آنے کی پالیسی ایک عرصہ سے اختیار کررکھی تھی۔

مولانا ثناء اللہ امرتسری کا فیصلہ کن مباہلہ

مباہلہ کا چیلنج آپ کے آنجہانی دادا مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی زندگی میں کئی حضرات کو دیا تھا اور ہربار ناکامی ان کے حصہ میں آئی۔ ان میں آخری اور فیصلہ کن مباہلہ کا حوالہ دینا ضروری معلوم ہوتا ہے جس کا چیلنج مرزا غلام احمد قادیانی نے ۱۹۰۷ ء میں تحریک ختم نبوت کے ممتاز رہنما اور معروف اہل حدیث عالم دین مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کو دیا تھا۔ یہ چیلنج ۱۵؍ اپریل ۱۹۰۷کو ایک مطبوعہ اشتہار کے ذریعے دیا گیا، جس کا عنوان تھا:’’مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘ اور اس میں مرزا صاحب آنجہانی نے مولانا ثناء اللہ امرتسری سے مخاطب ہوکر لکھا تھا کہ:’’اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ اکثر اوقات اپنے ہر پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہلاک ہوجاؤں گا مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے، حق پر نہیں تو عاجزی میں تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ کے امراض مہلکہ سے‘‘۔
یہ مباہلہ کا آخری چیلنج تھا جو مرزا غلام احمد قادیانی نے دیا اور اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا صاحب اس سے صرف ایک سال بعد ہیضہ کی بیماری سے انتقال کرگئے، جبکہ مولانا ثناء اللہ امرتسری اس کے بعد کم و بیش چالیس سال تک بقید حیات رہے اور قادیانیت کے خلاف مسلسل مصروف عمل رہے۔
ممکن ہے کہ آنجناب اس سلسلہ میں اپنی جماعت کی اس گھسی پٹی دلیل کا سہارا لیں کہ مرزا قادیانی آنجہانی کی ہیضہ کی بیماری سے وفات کی بات درست نہیں ہے، اس لیے مرزا صاحب آنجہانی کے خسر میرنواب ناصر کی خود نوشت سوانح حیات سے یہ اقتباس نقل کرنا ضروری خیال کرتا ہوں جس میں نواب ناصر نے مرزا صاحب کی وفات سے پہلے کا حال ان الفاظ میں ذکر کیا ہے:
حضرت صاحب جس رات کو بیمار ہوئے، اس رات کو میں اپنے مقام پر جاکر سوچکا تھا، جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا، جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا: ’’میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے‘‘۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی، یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے آپ کا انتقال ہوگیا۔
اس فیصلہ کن مباہلہ کے بعد اب مزید کسی مباہلہ کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی جماعت نے اس کے بعد مباہلہ کے میدان سے ہی کنارہ کشی اختیار کرلی، حتی کہ تحریک ختم نبوت کے ایک ممتاز رہنما مولانا منظور احمد چینوٹی کی طرف سے مباہلہ کا چیلنج ابھی تک آپ کی جماعت کے ذمہ قرض چلا آرہا ہے جو انہوں نے آپ کے آنجہانی والد مرزا بشیرالدین محمود کو ان کی سربراہی کے دور میں دیا تھااور یہ چیلنج انفرادی حیثیت سے نہیں تھا، بلکہ ملک کی چار اہم دینی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام پاکستان، مجلس تحفظ ختم نبوت، جمعیت اشاعت التوحید و السنہ پاکستان اور تنظیم اہل سنت پاکستان کے قائدین حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی، حضرت مولانا محمد علی جالندھری، حضرت مولانا غلام اللہ خان اور حضرت مولانا دوست محمد قریشی نے مولانا چینوٹی کو اپنی جماعتوں کا نمائندہ قرار دے کر ان کی فتح و شکست کو اپنی فتح و شکست تسلیم کرنے کا تحریری اعلان کیا تھا۔

مرزا بشیر الدین کو چیلنج

یہ چیلنج مرزا بشیرالدین محمود کو رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعہ متعدد بار بھجوانے کے علاوہ مذکورہ بالا رہنماؤں کی تائید و توثیق کے ساتھ مطبوعہ صورت میں بھی مسلسل تقسیم اور شائع ہوتا رہا ہے مگر آپ کے آنجہانی والد نے آخر دم تک اس چیلنج کو قبول نہیں کیا۔ اس کے بعد یہ چیلنج ان کے جانشین اور آپ کے  بڑے بھائی مرزا ناصر احمد کو بھجوایا گیا، انہوں نے بھی قبول نہیں کیا۔ اسکے بعد آپ کے سربراہ بننے کے بعد آپ کو تسلسل کے ساتھ بھجوایا جارہا ہے، مگر آپ نے بھی اسے قبول کرنے کی بجائے اپنی طرف سے مباہلہ کا نیا چیلنج دیا ہے، جو اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ اصل مقصد مباہلہ نہیں، بلکہ اسکے پردے میں کچھ اور مقاصد کا حصول ہے۔
جناب مرزا طاہر احمد صاحب! اگر آپ کا مقصد صرف مباہلہ ہوتا تو اس کے لیے اس قدر تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ محض یہ عنوان کافی تھا کہ قادیانی مذہب کے حق و باطل ہونے پر مباہلہ کیا جائے۔ باقی تمام تفصیلات اس اصولی بات کے ضمن میں خود بخود آجاتی ہیں مگر آپ نے دعوت مباہلہ کے حوالہ سے بہت سی ایسی باتوں کو الزامات قرار دے کر انہیں متنازعہ اور مشکوک ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے، جن کا حقیقت اور واقعہ ہونا کئی بار ناقابل تردید دلائل کے ساتھ ثابت ہوچکا ہے۔
آپ کی دعوت مباہلہ میں جن امور کو الزامات قرار دے کر ان کی صداقت کو مشکوک ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے ان سب کی نوعیت یکساں ہے مگر ان میں سے بطور نمونہ چند امور کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں تاکہ ان کے ’’الزام‘‘ یا حقیقت ہونے کی بات پوری طرح واضح ہوسکے۔

مرزا قادیانی کا دعوی خدائی

آپ نے مباہلہ کے چیلنج میں لکھا ہے کہ یہ بات قادیانی جماعت پر الزم ہے کہ مرزا قادیانی نے خدائی کا دعویٰ کیا ہے مگر یہ الزام نہیں۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی عبارت کا خلاصہ ہے جو انہوں نے یوں تحریر کی ہے کہ ’’میں نے اپنے تئیں خدا کے طور پر دیکھا اور میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میں وہی جس نے آسمان تخلیق کیا‘‘۔ (آئینہ کمالات نمبر ۵۶۴)

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہونے کا دعویٰ

آپ نے اس بات کو بھی الزامات میں شمار کیا ہے کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کا رتبہ (معاذ اللہ) جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہے، مگرجناب یہ بھی الزام نہیں حقیقت ہے اور آپ کے اخبار ’’پیغام صلح‘‘ ۱۴ مارچ ۱۹۱۶ء کی اشاعت میں شائع ہونے والے یہ اشعار اس کی گواہی دیتے ہیں کہ…
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

ختم نبوت کا انکار

آپ نے اس حقیقت کو الزام قرار دینے کی کوشش کی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے سے انکار کیا ہے اور خود نبوت کا دعویٰ کرتے ہوئے عقیدہء ختم نبوت کی نفی کی ہے، مگر آپ کے آنجہانی دادا مرزا غلام احمد قادیانی نے خود اس کے بارے میں کیا لکھاہے۔ صرف تین حوالے ملاحظہ کرلیں:
(۱) ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ (اخبار بدر ۵ بدر ۱۹۰۸ء)
(۲) جو شخص مجھ پر ایمان نہیں رکھتا وہ کافر ہے۔  (حقیقۃ الوحی : ص: ۱۶۳)
(۳) مجھے وحی میں محمد رسول اللہ قرار دیا گیا۔ (ایک غلطی کا ازالہ)

انگریزی کے کہنے پر جہاد کی مخالفت

جناب مرزا طاہر احمد صاحب! آپ نے اس حقیقت کو بھی الزام کا عنوان قرار دے کر دھندلا کرنی کی کوشش کی ہے کہ مرزا غلام احمد نے فرنگی حکمرانوں کے اشارے پر جہاد کی مخالفت کی تھی اور اور باشندگان وطن کو فرنگی سامراج کے خلاف جہاد اور تحریک آزادی سے روکنے کی مہم چلائی تھی مگر یہ بھی الزام نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کا اعتراف مرزا صاحب آنجہانی نے اپنی تحریروں میں جابجا کیا ہے۔ مثلاً ایک جگہ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ:’’میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گذرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزوں کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھرسکتی ہیں۔ ‘‘(تریاق القلوب ص:۵۲)
ایک اور جگہ مرزا صاحب یوں اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ:بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں؟ سو یاد رہے کہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے؛ کیوں کہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض ار واجب ہے اس سے جہاد کیسا؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ (شہادۃ القرآن :ص۳)
جبکہ پنجاب کے انگریز گورنر کے نام ایک درخواست میں مرزا صاحب رقمطراز ہیں:’’صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار، جان نثار خاندان ثابت کرچکا ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیرخواہ اور خدمت گذار ہیں، اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے۔‘‘(تبلیغ رسالت ج ۷ ص۹۱)

پاکستان کے خلاف

آپ نے اس امر واقعہ پر بھی ’’الزام‘‘ کے عنوان سے پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ قادیانی جماعت نے پاکستان بننے کے بعد بھی اسے قبول نہیں کیا اور اس خداداد مملکت کو ختم کرکے دوبارہ متحدہ بھارت کا قیام اس جماعت کے مقاصد میں شامل ہے، مگر آپ کے آنجہانی والد مرزا بشیرالدین محمود کا یہ اعلان آپ ہی کے جماعتی اخبار ’’الفضل‘‘ کے ریکارڈ کا آج بھی حصہ ہے کہ:
یہ اور بات ہے کہ ہم ہندوستان کی تقسم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح متحد ہوجائیں۔ (الفضل ۷۱ مئی ۷۴ء)

اسرائیل کے ساتھ تعلقات

آپ نے اسرائیل کے ساتھ اپنی جماعت کے تعلقات اور اسرائیل میں قادیانی مشن کی موجودگی کو بھی ’’الزام‘‘ قرار دیا ہے مگر دیگر شواہد سے قطع نظر پاکستان کے مؤقر اخبار روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۶۱ جنوری ۶۸ء کے اخبار میں اسرائیل کے صدر کے ساتھ قادیانی جماعت کی اسرائیل شاخ کے سابق صدر شیخ محمد شریف کی تصویر شائع کرکے اس حقیقت کو واشگاف کردیا ہے جس میں شیخ محمد شریف اسرائیل میں قادیانی مرکز کے نئے سربراہ شیخ حمید کا تعارف کرارہے ہیں۔

اسلم قریشی کا اغوا کیس

جناب مرزا طاہر احمد صاحب! آپ نے اس مطبوعہ دعوت مباہلہ کے ذریعہ مولانا محمد اسلم قریشی کے اغوا کے الزام سے بھی دامن چھڑانا چاہا ہے اور اسی مقصد کے لیے مباہلہ کے چیلنج کے ساتھ ساتھ مولانا اسلم قریشی کی اچانک برآمدگی کا ڈرامہ بھی رچایا گیا ہے مگر آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ تیر جو آپ کی کمان سے نکل چکا ہے اپنے ہدف کی صلاحیت، چمک اور حرارت کی تاب نہ لاکر آپ ہی کی طرف واپس آگیا ہے کیونکہ مولانا محمد اسلم قریشی نے برآمدگی کے بعد ۳۰؍ جولائی کو سیالکوٹ کے مجسٹریٹ کی عدالت میں یہ بیان دے کر سارے ڈرامے کا بھانڈا چوراہے میں پھوڑ دیا ہے کہ:
’’مجھے مرزا طاہر احمد نے اغوا کرایا تھا اور میں مسلسل قادیانیوں کی حراست میں رہا ہوں، مجھ پر تشدد کیا جاتا رہا ہے، مجھے تہہ خانوں میں رکھا گیا ہے،ان میں اسلحہ کے ذخیرے موجود ہیں، مجھ سے آئی جی پولیس کی پریس کانفرنس میں جو بیان دلوایا گیا ہے، وہ میرا نہیں بلکہ پولیس کا بیان ہے اور میں اپنی رہائی اور مرزا طاہر احمد کی گرفتاری کے بعد سارے حقائق سے پردہ اٹھاؤں گا۔ (روزنامہ جنگ لاہور ۳۱ جولائی۸۸ء)
آپ کے ذکرکردہ الزامات میں سے چند کا بطور نمونہ حوالہ دینے کے بعد اب دعوت مباہلہ کی طرف آتے ہیں، جسے پاکستان کے متعدد علماء اور رہنماؤں نے قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں سے مندرجہ ذیل دو حضرات بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
(۱) مولانا منظور احمد چینوٹی سیکرٹری اطلاعات جمعیت علمائے اسلام پاکستان
(۲) مولانا عزیز الرحمن جالندھری سیکرٹری جنرل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
اگر چہ آپ کی دعوت مباہلہ کے مخاطبین میں ہمارا شمار بھی ہوتا ہے، مگر اسے قبول کرنے میں علیحدہ حیثیت اختیار کرنے کی بجائے جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما مولانا منظوراحمد چینوٹی اورمولانا عزیزالرحمن جالندھری پر مکمل اعتماد کے اظہار کے ساتھ آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ ان دونوں ذمہ دار مذہبی رہنماؤں یا ان میں سے کسی ایک کو جوابی دعوت کو آپ قبول کرنے کا اعلان کریں۔ آپ ان میں سے جس بزرگ کے ساتھ مباہلہ کے لیے آمادگی کا اظہار کریں گے ہمیں ان کی رفاقت کے لیے موجود پائیں گے۔  (ماہنامہ ’’الحق‘‘ ذیقعدہ ۱۴۰۸ھ؍اگست ۱۹۸۸ء ،ج۲۳، ش۱۱)

مولانا محمد اسرار مدنی

سربراہ انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور