قادیانیت کے متعلق حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ کے مکاتیب’’بنام مولاناسمیع الحق ؒ‘‘ سے چنداقتباسات
قادیانی فیصلہ خلاف توقع جامع مانع قوانین کی منظوری،قلب و روح کی گہرائیوں سے جذبات مسرت
۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا اس سارے پارلیمانی ایکسر سائز میں ہم دونوں اکابر کے حکم پر شریک رہے ،اکٹھے اسلام آباد میں بیٹھ کر قادیانیوں کے بارہ میں ’’قادیانیت ملت اسلامیہ کا موقف ‘‘مرتب کیا جسے مولانا مفتی محمودؒ نے قومی اسمبلی میں پیش کیا اور بحمد اللہ اس بیان نے حکومت کے لبرل روشن خیال اراکین اور اس وقت کے وزیر قانون عبدالحفیظ پیر زاد ہ جیسے لوگوں کے ذہن کو بدل دیا۔ مکتوب نگار اور مکتوب الیہ دونوں کا اس جہاد عظیم میں جو تھوڑا سا حصہ تھا اس کے بار آور ہو جانے پر دونوں کی حیرت انگیز خوشی طبعی امر تھی ،کیا عجب بارگاہ ایزدی سے اس کا صلہ محشر میں سرخروئی اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے شکل میں مل جائے۔(سمیع الحق) (حاشیہ از مکتوبات مشاہیر :ج ۳ ،ص ۵۸۷)
________________(۱)__________________
۲۳؍شعبان المعظم۱۳۹۴ھ، ۱۱ستمبر ۱۹۷۴ء: محب مکرم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
سمجھ میںنہیںآتا کہ کن الفاظ میںآپ کومبارکبادپیش کروں؟ سالہاسال کے بعد دل ان جذبات مسرت سے لبریز ہے جوقلب وروح کی گہرائیوں سے پیدا ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہم سب پراتنا بڑاانعام فرمایا ہے کہ اس پرشکر ادا نہیں ہوسکتا۔ذاتی طورپراگرچہ مجھے توقع تھی کہ ان شاء اللہ یہ مسئلہ اس بارحل ہوجائے گا لیکن جس بہترین طریقے سے حل ہوا ہے اور اس سلسلے میں جو جامع ومانع قوانین منظورہوئے ہیں اس کی پہلے سے توقع نہیں تھی۔ بہرکیف! اس پُرمسرت واقعے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکبادقبول فرمائیے اورحضرت والدصاحب مدظلہم کی خدمت میں بھی سلام کے بعد ہدیہ تبریک پیش فرمادیجئے ،اللہ تعالیٰ اس واقعے کوآئندہ کے لئے ملک وملت کی فلاح کا مقدمہ بنائے اور اس کی برکت سے ملک میںاسلامی قوانین کے نفاذ کی راہ ہموارفرمادے۔ آمین
محمد تقی
________________(۲)__________________
قادیانیت پر اداریہ اور سنسر کی پابندی
جون ۱۹۶۸ء: برادرمکرم، قرّت بکم العیون دائماًابداً، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جی ہاں! اداریے کا بھی بڑاعجیب قصہ ہوا امتحانات کی گہما گہمی ہی میں میں نے یہ اداریہ جوں توں کرکے لکھا تھا مگراسے حسن اتفاق کہئے یا سوء اتفاق کہ موضوع گفتگو قومی اسمبلی کی وہ بحث تھی جوقادیانیوں کو زرمبادلہ جاری کرنے کے سلسلے میں ہوئی تھی اور جس میںان کے مسلم یاغیرمسلم ہونے کا مسئلہ بھی زیربحث آیاتھا اداریہ کا اصل موضوع تو یہی تھا اور اتفاق سے اس میں کچھ دکھتی ہوئی رگوں کو چھیڑ دیاگیاتھا پھراس پرطرّہ یہ کہ اس کے ساتھ ایک مختصر سادم چھلاّ خاندانی منصوبہ بندی کے موضوع پر بھی تھا۔ نتیجہ آپ نے ملاحظہ فرمالیا۔یاران طریقت کو یہ بات کھل گئی ۔ہمارے اوپر دوہری مہربانی یہ ہوئی ہے کہ ایک نوٹس تو براہ راست ہمیں بھیجا گیا ہے کہ ہر ’’فرقہ وارانہ تحریرچھپنے سے پہلے دکھاؤ‘‘ دوسری طرف پریس کو تو عام ہدایات ہیں ہی کہ کوئی تحریربغیر سنسر کے نہ چھپے چنانچہ پریس والااس وقت تک ایک سطر نہیںچھاپتا جب تک وہ اسے انفارمیشن لے جا کردکھائے نہیں خواہ وہ سطر’توحید‘‘ ہی کے موضوع پر کیوں نہ ہو اور نہ وہ اس بات پر راضی ہے کہ ’’اسٹاپ پریس‘‘ کے بجائے سادہ صفحات پر کوئی اطلاع’’نذرسنسر‘‘ وغیرہ کے عنوان ہی سے لکھ دی جائے اب تک تو یہ مصیبت صرف تین ماہ کیلئے تھی آئندہ سنا ہے کہ پریس میں مستقل احکام آگئے ہیں مگرابھی ہمارے پاس کوئی نوٹس نہیں آیا اس معاملے میں مشورہ دیجئے کہ کیاکرنا چاہیے؟ … والسلام : آپ کا تقی
________________(۳)__________________
قادیانیت کی قرار داد کا انگریزی متن اور مئوتمر المصنفین کی تیسری پیشکش
(۱۱؍رمضان ۱۳۹۶ھ) حبی ومحبی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، عرصہ درازسے میںآپ کی طرف سے خط لکھنے کے معاملے میں اتنی پھرتی اور چستی کی توقع نہیںرکھتا کیونکہ توقع رکھنے میںتکلیف زیادہ ہوتی ہے لیکن اس مرتبہ توآپ نے کمال ہی کردیا نہ صرف یہ کے پے درپے دوخطوط تحریرفرمائے بلکہ قادیانیت کی قراردادبھی حاصل کرکے بھیج دی اوراشتہارکی فلم بھی بنواکربھیج دی۔ اللہ تعالیٰ اس قوت کارکردگی میںبیش ازبیش ترقی عطافرمائے، (آمین) رمضان کے مہینے میںبالخصوص جبکہ بارشوں کی وجہ سے شہر کے راستے آدھے کٹے ہوئے ہیں شہرجانا مشکل ہے مجھے توقرارداد کے انگریزی متن کی ضرورت تھی، ارکان اسمبلی کے دستخطوں کو بطور تبرک رکھنا مقصودنہیں اسلئے قرارداد کی کاپیاںیہیںٹائپ کراکر اصل فوٹواسٹیٹ کاپی واپس کر رہا ہوں۔ امیدہے کہ مؤتمرالمصنفین کی تیسری پیشکش کو منظرعام پرلانے میںبھی آپ اسی پھرتی سے کام لیں گے۔ والسلام محمد تقی
________________(۴)__________________
اسلام آباد ہنگامہ خیزپر لطف رفاقت کی یاد خوشبوئے زلف یار کی طرح دل و دماغ پر محیط ہے، سوالات ربوہ اور یادداشت
(۸؍اگست ۱۹۷۴ء) محب مکرم! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ سے رخصت ہوکربحمداللہ بعافیت تمام گھرپہنچ گیا۔ اس مرتبہ کا قیام(۱) اگرچہ بڑا ھنگامہ خیزرہا مگرپرلطف رفاقت کے لمحات کی یاد خوشبوئے زلف یارکی طرح دل ودماغ پر محیط ہے۔ ہرمرتبہ کی طرح اس بار بھی آپ کو ستانے اور ستاتے رہنے کا احساس رہتاہے لیکن کیاکروں کہ ع وقدیوذی من المقۃ الحبیب
سوالات ربوہ کے سلسلہ میں ایک یادداشت جلدی میں مرتب کرکے بھیجی تھی امیدہے کہ مل گئی ہوگی۔
والسلام احقر محمد تقی
________________(۵)__________________
قومی اسمبلی کی کاروائی دستور سازی کی رپورٹنگ کا محنت طلب کام سر بستہ راز منکشف ہوں گے آئین کی منظوری غنیمت ہے ، نفاذ اسلام کیلئے آخری سانس تک جنگ
صدیق مکرم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! گرامی نامہ باعث تسکین قلب ونظر ہوا آپکوشعرلکھنے کی ضرورت ہی کیاہے؟ آپکے خط کا بذات خود یہ حال ہے کہ ع حاجت مشّاطہ نیست روئے دلآرام را
تازہ’’الحق‘‘ نظرنوازہواجتنی محنت آپ نے اسمبلی میں کی اس شمارے کی ترتیب میں یقینا اس سے کم محنت نہیںاٹھائی ہوگی اللہ تعالیٰ اس ہمت اورحوصلے کوسداجوان رکھے بلاشبہ اس کارروائی کے منظرعام پرآنے سے بہت سے سربستہ راز منکشف ہوںگے اور لوگوںکوصحیح حالات کا علم ہوگا( جزاک اللہ خیراً)
’’آئین‘‘ پرخوشی اس بات کی نہیںہے کہ وہ مکمل طورپراسلامی ہے البتہ خوشی اس کی ضرور ہے کہ یہ’’ علی شرف السقوط‘‘ ملک تباہی کے کم از کم ایک اہم سبب سے بچ گیا۔یوںاسلام کے نفاذ کاجہاں تک تعلق ہے اس کے لئے تو زندگی کے آخری سانس تک لڑتے رہناہی پڑے گا۔
___________________________
(۱) یعنی قادیاینوںکے خلاف تحریک کے سلسلہ میں ’’قادیانیت اور ملت اسلامیہ کا موقف ‘‘ نامی تاریخی کتاب کی تیاری کے سلسلہ میں اسلام آباد میں ہمارا طویل قیام مراد ہے۔
مولانا عبدالقیوم حقانی
مہتمم جامعہ ابوہریرہ خالق آباد