اکابرین ختم نبوتؐ کامولانا سمیع الحق ؒکو خراج تحسین
۳۸سال تک پارلیمنٹ میں مولانا سمیع الحقؒ کا قادیانی طاغوت کے تعاقب کا دورانیہ تین ادوار پر مشتمل ہے۔
قومی اسمبلی
مولانا سمیع الحق ۱۹۷۰ء سے ۱۹۷۷ء تک اپنے والد محدث کبیر شیخ الحدیث مولانا عبدالحق ؒ کے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد پس پردہ رہ کر حضرت شیخ الحدیثؒ کے نام پر قادیانیت کی شرانگیزیوں پر ایوان کو توجہ دلاتے رہے۔ اس دور کی تفصیل اس دور کی رپورٹ ’’قومی اسمبلی میں اسلام کا معرکہ‘‘چار سو صفحات میں موجود ہے۔
وفاقی مجلس شوری
۱۹۸۰ء سے ۱۹۸۵ء تک مولانا سمیع الحقؒ نے وفاقی مجلس شوری پارلیمنٹ میں مسلسل قادیانیت پر گہری نظر رکھی اور ملک و بیرون ملک ان کی سرگرمیوں پر اٹھائے گئے سوالات، تحریک التوا اور قراردادوں کے ذریعے ان کا تعاقب جاری رکھا۔ ۱۹۸۴ء میں بالآخر قومی اسمبلی کے آئینی ترامیم کے عملی تنفیذ کے لیے اس ترمیم کی روشنی میں قانون سازی کرانے میں کامیاب ہوگئے اور صدر ضیاء الحق کے ذریعہ ’’امتناعِ قادیانیت آرڈیننس‘‘ جاری کرایا۔ اس کی تفصیلات مولانا کے وفاقی مجلسِ شوریٰ کی روئیداد میں موجود ہیں جو مولانا ہی کے مرتب کردہ ’’فوجی سنگینوں کے سایہ میں اسلام کی جنگ‘‘کے نام سے شائع ہوچکا ہے اور آپ کی تحریک اور جد وجہد پر اس وقت کے وزیر اطلاعات راجہ ظفر الحق نے یہ بل اسمبلی میں پیش کیا جس کی تفصیل ’’قادیانیت اور ملت اسلامیہ کا موقف‘‘ شائع کردہ مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہ کے آخر میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ یہ کوشش اتنی دیرپا اور مسلسل رہی کہ مرکزی تحفظ مجلس ختم نبوت کے اکابر مولانا خان محمد کندیاں، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا محمد شریف جالندھری اور مولانا اللہ وسایا مدظلہ وغیرہ نے وقتا فوقتا اظہار تشکر کے خط لکھے، قراردادیں پاس کیں اور دعائیں دیتے رہے۔ بعض خطوط ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔
سینٹ
۱۹۸۵ء سے ۲۰۰۸ء تک بیس پچیس سال کے قریب عرصہ میں آپ ہر اہم موقع پر قادیانیت کا احتساب کرتے رہے۔ اڑتیس سال میں وقفوں یا مسلسل قادیانیت سمیت ہر دین دشمن، ملت فروش شخصیات اور تحریکوں سے پارلیمانی جنگ لڑی۔ یہ سعادت بہت ہی کم کسی کو نصیب ہوئی۔
حضرت خواجہ خان محمدؒ صدر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحسینات و تبریکات
خانقاہِ سراجیہ کندیاں شریف کے مسند نشین اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ قادیانیت کے خلاف جہاد کے امین بھی تھے اور تحریک کے امیر بھی اور قادیانیت کے خلاف اکابر علمائے دیوبند کے صدی سے زیادہ عرصہ کی جدوجہد اور محنتوں کے وارث بھی۔ انہوں نے مولانا سمیع الحقؒ کی رد قادیانیت کے سلسلے میں کی گئی محنت کو سراہا۔ حضرت خواجہ خان محمدؒ لکھتے ہیں:
آئینی ترمیم کی بحالی کی کوششوں، ’’قادیانیت اور ملت اسلامیہ کے موقف‘‘ کی تیاری
۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے خدمات کا اعتراف
۲۳ رجب۱۴۰۲ ھ، ۱۹۸۲ء
محترم المقام حضرت مولانا سمیع الحق صاحب زیدمجدکم!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! بعد از سلام مسنون کے مطالعہ فرمادیں کہ کل یہاں سے ایک رجسٹری بجھوانے کے بعد آپ کی رجسٹری موصول ہوئی۔ آپ کی اس کرم فرمائی کا بہت بہت شکریہ کہ اس حقیر کو اپنی شفقت و عنایت کے قابل سمجھا جزاک اﷲتعالی عنا خیر الجزاء قادیانیت کے سلسلہ میں آئینی ترمیم کی بحالی کے متعلق آپ حضرات کی مساعی کا بھی بہت بہت شکریہ (جزاکم اللہ تعالیٰ) اللہ تعالیٰ آپ حضرات کی مساعی کو قبول فرمادے اور اس دور کے فتن سے دین حقہ ، اسلام کی حفاظت و صیانت کی مزید برآں توفیق گردانے۔ (آمین)
تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں تو آپ براہ راست شریک رہے ہیں ’’قادیانیت اور ملت اسلامیہ کا موقف‘‘ کی تیاری میں بھی آپ کا بہت سا حصہ ہے، اس لیے آپ پر اس موقف کی حفاظت کی ذمہ داری بھی آپ کا اپنا فرض ہے۔ اللہ تعالی آپ کو اس فریضہ کی ادائیگی کی کماحقہ توفیق عطا فرمائے، (آمین) گذارش ہے کہ پنجاب ہائی کورٹ بار کے وکلا کی جو عرضداشت صدر صاحب کی خدمت میں پیش کی گئی تھی، اس میں دو ترمیموں کی منسوخی کو باقی رہنے دیا ہے، وہ عرضداشت ارسال خدمت ہے۔ خط کشیدہ ترمیم کی منسوخی بدستور باقی ہے، اس طرح یہ آدھا کام باقی ہے اس کی تکمیل کے لیے مسلسل محنت اور جد و جہد کی ضرورت لازمی ہے۔
پاسپورٹ وغیرہ کے بیان حلفی میں گڑبڑ پر مولانا سمیع الحق کو اطلاع
اس پہلے کام کی تکمیل کے لیے سوچ و بچار اور غور و فکر جاری تھا کہ ہم ایک اور افتاد میں مبتلاکردیے گئے ہیں اور وہ ہے بیان حلفی میں گڑبڑ جو کہ حج فارموں، پاسپورٹ فارموں اور شناختی کارڈ فارموں میں درج ہے اور ہر درخواست گزار مسلمان کو اس پر دستخط کرنے لازمی ہیں۔ اس بیان حلفی کے تیسرے پیرے کو حذف کردیاگیا ہے۔ پہلے بھی ووٹوں کے اندراج کے وقت یہ بیان حلفی تبدیل کردیا گیا تھا، اللہ تعالیٰ کروڑہا رحمتیں نازل فرمائے حضرت مفتی محمود صاحب ؒکی قبر پر ان کی مداخلت سے یہ مسئلہ حل ہوا تھا اور حکومت کو کروڑہا روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا اور کروڑوں کے فارم طبع شدہ کو ضائع کرنا پڑا اور نئے فارم صحیح بیان حلفی پر چھپوانے پڑے تھے۔ اس کے متعلق صدر صاحب کی خدمت میں فقیر نے عریضہ ارسال کیا جس کی ایک کاپی آپ کی خدمت میں پیش کی ہے۔ (مکاتیب مشاہیر: ۳؍۷۷۱ )
قادیانیوں کی کلمہ مہم، مولانا محمد اسلم قریشی کا اغوا اور مدیر ’’الحق‘‘ کو خراج تحسین
مخدو م و محترم جناب چیف ایڈیٹر الحق حضرت مولانا سمیع الحق صاحب!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!مزاج گرامی؟
۱۷؍فروری ۱۹۸۵ء کو فدائے ختم نبوت مولانا محمد اسلم قریشی کے سانحہ اغوا کو دو سال پورے ہوجائیں گے۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر کا ملک عزیز سے فرار اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ اس کیس میں مجرم ہیں، مدعی پارٹی کے نامزد کردہ مشتبہ افراد کو شامل تفتیش نہیں کیا گیا ہے، تفتیشی ٹیم کے سربراہ میجر مشتاق ڈی آئی جی فیصل آباد اس سانحہ کے وقت گوجرانوالہ میں تعینات تھے، ان کی جانب داری اور مجرمانہ ذہنیت نے کیس کو لاینحل معمہ بنادیا ہے، آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان اس صورتحال سے شدید کرب و اضطراب میں مبتلا ہے۔ مرزا طاہر کی لندن سے آمدہ کیسٹوں، تقاریر و ہدایات سے پورے ملک کے قادیانی اپنے سینوں پر کلمہ طیبہ کے بیج لگا کر اپنی عبادت گاہوں ، مکانات بالخصوص ربوہ کے در و دیوار پر کلمہ لکھ کر صدارتی آرڈیننس کی دھجیاں بکھیرنے میں شب و روز مصروف ہیں۔ قادیانی اسلام کے امتیازی نشان (کلمہ طیبہ)کو لکھ کر یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں، ہم غیرمسلم قرار دینے کا آرڈیننس پرکاہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔ الیکشن کے زمانہ میں قادیان جنون کی حد تک اس طرح تصادم پر اترآتے ہیں جس سے پورے ملک کے محب وطن مسلمان سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔ قادیانی بیرونی ہدایات پر کسی وقت بھی ملک کے امن کو تہہ و بالا کرسکتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے حکومتی ادارے خاموش تماشائی کا مجرمانہ کردار ادا کررہے ہیں۔ آپ نے ہمیشہ حق و صداقت کا ساتھ دیا۔ آپ کے رسالہ نے قومی مسائل میں ہمیشہ اسلامیان ِ پاکستان کی رہنمائی کی۔ مولانا اسلم قریشی کیس میں آپ کے رسالہ نے مثالی کردار ادا کیا۔ اس پر میں آپ کا شکرگذار ہوں۔ آپ سے درخواست ہے کہ ۱۷؍فروری کو اپنے رسالہ کے ادارتی کالم میں اس مظلومانہ عالم دین، فدائے ختم نبوت کے سانحہ پر قلم اٹھاکر مشکور فرمائیں۔
والسلام: فقیر ابوالخلیل خان محمد عفی عنہ، امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
(مکاتیب مشاہیر: ۳؍۷۷۲)
حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کی تحسین و تشجیع اور جرأت رندانہ کا اعتراف
حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی اکابر میں سے تھے۔ قادیانی لٹریچر پر ان کی گہری نگاہ تھی۔ وہ رد قادیانیت میں برہنہ تلوار تھے۔ علمی اور تحقیقی میدان میں قادیانیت کا بھرپور تعاقب کرتے رہے۔ قادیانیوں کو قومی اسمبلی سے اقلیت قرار دینے کی تحریک میں قومی اسمبلی میں پیش کرنے کیلئے ’’قادیانیت اور ملت اسلامیہ کا موقف‘‘کے نام سے مولانا سمیع الحقؒ کی تصنیف کے حوالوں کی تخریج میں بھی بھرپور تعاون فرماتے رہے۔ وہ مولانا سمیع الحق ؒکے نام خط میں اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’آپ نے گذشتہ تحریک ختم نبوت میں بڑا کام کیا۔ مولائے کریم نے قبول فرمایا۔ قادیان سے اسرائیل تک پڑھنے کے بعد مصنف کتاب ابومدثر صاحب سے ملاقات کے لیے دل چاہتا ہے۔ میں نے اس کتاب کو پڑھ کر یہ تاثر لیا کہ غلام احمد سے لے کر یہ ساری ٹولی جاسوسوں اور یہودی مذہب کی گماشتہ اور ایجنٹ تھی۔ قادیانی ٹولہ ایمان فروش ٹولہ تھا‘‘۔ (مکاتیب مشاہیر ،۴؍۱۴۲۳)
مولانا محمد شریف جالندھری ؒکا اظہار تشکر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے عظیم رہنما مولانا محمد شریف جالندھری مولانا سمیع الحق کے نام خط میں تحریر فرماتے ہیں:’’مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوری کا اجلاس ۲۵فروری۸۲ء کو حضرت الامیر مولانا خان محمد زیدمجدہم کندیاں شریف کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس نے آپ حضرات کی کوششوں پر اظہار تشکر کیا۔قادیانیوں سے متعلق دوسری آئینی ترمیم کی تنسیخ کو ختم کرنے کا آرڈیننس جاری کرکے مسلمانوں کی تشویش کو رفع کرانے میں مولانا سمیع الحق نے مسلمانوں کے جذبات کی صحیح ترجمانی کی۔ ترمیم۱۹۷۴ء کی منسوخی کے بعد اس کی بحالی میں آپ کا کام باقی حضرات سے فائق ہے۔ آپ کی جرأت رندانہ نے صدر صاحب کو بحال کرنے پر مجبور کیا۔(مکاتیب مشاہیر۴۱؍۱۱۲۶)
مولانا انعام الرحمن شانگلوی
ناظم و مدرس جامعہ تحسین القرآن