ممبر قومی اسمبلی حضرت مولانا عبدالحق ؒ کا قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر جرح کے لیے اٹھائے گئے سوالات

قادیانی مسئلہ کے موقع پر قومی اسمبلی پر مشتمل خصوصی کمیٹی 1974  میں مرزا ناصر احمد پر جرح کے لیے آپ نے حسب ذیل سوالات داخل کیے۔
(۱) آپ نے اپنے بیان کے صفحہ نمبر۴پر لکھا ہے کہ پاکستان کے دستور اساسی میں دفعہ نمبر ۲۰ کے تحت ہر پاکستانی کا یہ حق تسلیم کیا گیا ہے کہ جس مذہب کی طرف چاہے ہو۔ کیا آپ دستور میں یہ الفاظ دکھاسکتے ہیں؟
(۲) کیا جماعت احمدیہ کی طرف سے کبھی کسی شخص کے جماعت سے خارج ہونے کا فیصلہ نہیں کیا گیا؟ مرزا بشیرالدین صاحب نے انوار خلافت میں صفحہ نمبر۹۴پر کہا ہے:
’’خلیفہ اول حکیم نور الدین صاحب نے ایک شخص کو اس بناپر جماعت سے خارج کردیا تھا کہ اس نے غیراحمدی سے اپنی لڑکی کی شادی کردی ہے‘‘۔
اور مرزا بشیرالدین صاحب نے بھی یہ اعلان کیا تھا کہ اگر کوئی اس حکم کے خلاف کرے گا تو میں اس کو جماعت سے نکال دوں گا۔ کیا آپ کے نزدیک یہ فیصلہ درست ہے؟
(۳) کیا آپ ہر کلمہ گو لا لہ لا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والے کو مسلمان سمجھتے ہیں؟
(۴) آپ نے اپنے بیان کے صفحہ نمبر۹پر لکھا ہے کہ بہتر فرقوں میں سے نجات یافتہ فرقہ نہ کثرت میں ہوگا، نہ اپنی کثرت کو اپنے برحق ہونے کی دلیل ٹھہرائے گا۔ کیا آپ کی نگاہ میں وہ فرقہ اس کا مصداق ہوگا جس کی تعداد سب سے کم ہو؟
(۵) آپ ان غیراحمدیوں کو کافر کہتے ہیں یا نہیں جو مرزا غلام احمد صاحب کے دعوؤں کو  جھٹلاتے ہیں؟
(۶) منیر کمیشن کے سوالات کے جواب میں جماعت احمدیہ ربوہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ مرزا غلام احمد کے ایک فتوی کی وجہ سے جو حال ہی میں دستیاب ہوا ہے، ہم ان غیراحمدیوں کی نماز جنازہ پڑھنے لگے ہیں جو مرزا صاحب کو جھوٹا یا کافر نہ کہتے ہوں۔ اس بارے میں چند سوالات:
(الف) یہ فتوی دستیاب کب ہوا تھا اور اس پر عمل شروع ہوا؟
(ب) کیا مرزا غلام احمد کو یہ مقام دیتے ہیں کہ جس کو وہ کافر کہہ دیں وہ کافر اور جس کو وہ مسلمان کہہ دیں وہ مسلمان ہے؟
(ج) کیا اس فتوی کی وجہ سے مرزا غلام احمد، حکیم نور الدین اور مرزا بشیرالدین کے سابقہ فتوے منسوخ قرار دیئے گئے ہیں؟
(د) کیا اب اس مسئلے میں آپ کا جماعت لاہور کا مسلک ایک ہوگیا ہے؟
(۷) اگر آج کوئی شخص جھوٹا دعویٰ نبوت کرے اور قطعی دلائل سے اس کا جھوٹا ہونا ثابت ہوجائے تو وہ اور اس کے پیروکار آپ کے نزدیک مسلمان ہوں گے یا کافر؟
(۸) مسیلمہ کذاب آپ کے نزدیک کافر تھا یا مسلمان؟
(۹) آپ نے اپنے بیان میں صفحہ نمبر۸۲پر مرزا غلام احمد کی کتاب ’’حقیقت الوحی‘‘سے یہ عبارت نقل کی ہے: ’’آپ (یعنی آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم)کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ روحانی نبی تراش ہے‘‘۔
(۱۰) اگر اب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ روحانی نے سوائے مرزا غلام احمد کے کسی اور کو نبی نہیں بنایا تو کیا خاتم النبیین کا مطلب مرزا صاحب کے مذکورہ قول کے مطابق یہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہرنبوت سے صرف ایک مرزا صاحب کو نبی بنایا جائے۔
(۱۱) آپ کی نظر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کس درجہ پیروی سے انسان نبی بن سکتا ہے؟
(۱۳) کیا آپ کی نظر میں انسان کو اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اتباع محمدی کے اس درجے کو پالے جو اسے نبی بناسکے۔
(۱۳) حقیقت الوحی کے صفحہ نمبر۸۲و صفحہ نمبر ۸۳پر مرزا صاحب کا یہ قول مذکور ہے: علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل بھی حدیث میں آیا ہے۔ اگرچہ محدثین کو اس پر جرح ہے مگر ہمارا نور قلب اس حدیث کو صحیح قرار دیتا ہے اور ہم بلاچوں و چراں اس کو تسلیم کرتے ہیں‘‘۔
تو کیا آپ کے نزدیک مرزا صاحب کو یہ مقام حاصل ہے کہ وہ جس حدیث کو چاہیں اپنے نور قلب سے صحیح اور جسے چاہیں غلط قرار دیں۔
(۱۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کچھ لوگ تشریعی نبوت کے مدعی ہوگئے، جیسے صالح بن ظریف اور بہاء الحق بابی اور بعض نے غیرتشریعی نبوت کے دعوے کیے جیسے ابوعیسی وغیرہ، ان سب کے جھوٹا ہونے کی کیا دلیل ہے جب کہ وہ بھی ظلی، بروزی اور مجازی نبی وغیرہ کی تاویلات کرچکے ہوں یا کرسکتے تھے؟
(۱۵) نبوت غیر مستقلہ کے ملنے کا معیار اور ضابطہ کیا ہے؟
(۱۶) کیا صحابہ کرام ؓمیں سے کوئی بھی اس معیار پر پورا نہ اترسکا، جس کی وجہ سے باوجود افضل الامۃ ہونے کے تمام صحابہؓ نبوت غیرمستقلہ کے شرف سے محروم رہے۔
(۱۷) کیا اس چودہ سو برس کے طویل عرصہ میں صحابہ کرام ؓ، تابعین اور مجددین میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں گزرا جو مرزا غلام احمد کے ہم پلہ ہوتا اور نبوت غیرمستقلہ پاتا۔
(قومی اسمبلی میں اسلام کا معرکہ: ص ۳۹۳)

قادیانی مسئلہ میں لاہوری پارٹی پر جرح

قومی اسمبلی پر مشتمل خصوصی کمیٹی نے قادیانی مسئلہ پر غور کے دوران قادیانیوں کے دونوں دھڑوں (لاہوری اور ربوائی)کے سربراہوں کو اسمبلی میں طلب کیا اور اٹارنی جنرل کے توسط سے ان پر جرح کی گئی۔ شیخ الحدیث قدس سرہ نے بھی دونوں سربراہوں پر جرح کے نوٹس دیے تھے، جن میں اکثر قبول کیے گئے اور ان سے استفادہ کیا گیا۔ لاہوری جماعت کے سربراہ مرزا صدرالدین کے لیے آپ نے حسب ذیل سوالات کا نوٹس دیا تھا۔
(۱) کیا آپ اور آپ کی جماعت مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام دعوں پر ایمان رکھتی ہے؟
(۲) کیا آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو وہی مسیح موعود مانتے ہیں جن کے آنے کی خبر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی؟
(۳) کیا آپ یہ مانتے ہیں کہ مرزا غلام احمد نے اپنی تصانیف میں جو کچھ لکھا ہے، وہ اسلام کے مطابق اور صحیح ہے؟
(۴) کیا آپ کے نزدیک مرزا صاحب بحیثیت مسیح موعود حضرت مسیح ؑ یا کسی اور نبی سے افضل تھے؟
(۵) آپ نے اپنے بیان میں کہا ہے:’’مرزا صاحب دوسرے مسلمانوں کی طرح شروع میں حیات مسیح  ؑہی کے قائل تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی وحی نے آپ کو توجہ دلائی کہ قرآن و حدیث سے وفات مسیح ؑثابت ہے‘‘۔
نیز آگے لکھا ہے: ’’اب بھی اللہ تعالی نے حضرت مرزا صاحب کو وحی سے علم دیا کہ مسیح جو دوبارہ آنا تھا، وہ اصل مسیح نہیں، بلکہ اس کے مثل ایک روحانی ہستی نے آنا تھا‘‘
اس میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا آپ کے نزدیک مرزا صاحب پر نازل ہونے والی وحی ان کے اور ان کے متبعین کے لیے واجب الاتباع ہے؟
(۶) آپ نے مرزا صاحب کی ایک عبارت مجموعہ اشتہارات جلد نمبر۱ صفحہ نمبر۹۷سے نقل کی ہے جس میں مرزا صاحب نے تمام مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’اگر وہ ان الفاظ سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں میں یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے نبی کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں؛ کیوں کہ کسی طرح مجھے مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے‘‘۔
(الف) کیا مرزا صاحب نے اپنی اس تحریر کے بعد اپنے لیے لفظ ’’نبی‘‘ لکھنا چھوڑ دیا؟
(ب) کیا اس تحریر کے بعد مرزا صاحب نے اپنی سابقہ کتابوں میں لفظ ’’نبی‘‘کو بد ل کر’محدث‘‘ لکھ دیا تھا؟
(۷) کیا آپ کی جماعت کے امیر اول محمد علی لاہوری صاحب اور ان کے رفقاء نے مرزا صاحب کے لیے کبھی لفظ ’’نبی‘‘استعمال کیا ہے؟
(۸) کیا آپ آج بھی مرزا صاحب کے لیے کسی بھی معنی کے لحاظ سے لفظ ’’نبی‘‘کا استعمال درست سمجھتے ہیں؟
(۹) جس معنی میں مرزا صاحب نے اپنے لیے لفظ ’’نبی‘‘بکثرت استعمال فرمایا ہے، اگر آج کوئی شخص اسی معنی کے لحاظ سے اسی کثرت سے لفظ ’’نبی ‘‘استعمال کرے تو کیا آپ اسے جائز سمجھیں گے؟
(۱۰) آپ نے صفحہ نمبر ۷پر لکھا ہے:  ’’جس طرح عیسائیوں نے غلو کرکے حضرت عیسی ؑ کو خدا کا حقیقی بیٹا بنالیا۔ اسی طرح مثل مسیح یعنی حضرت مرزا صاحب کو بھی آپ کے ماننے والوں کی اکثریت نے غلو کرکے مجدد کے عہدہ سے بڑھا کر نبی بنالیا‘‘(نعوذ باللہ) تو کیا جماعت ربوہ جس نے آپ کے خیال میں یہ غلو کیا ہے ایک غیرنبی کو نبی ماننے کی بنا پر کافر ہے؟
(۱۱) اگر جماعت ربوہ کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے تو کیا آپ کے نزدیک یہ مناسب ہوگا؟
(۱۲) آپ نے(اپنے پیش کردہ بیان کے صفحہ ۹پر )لکھا ہے کہ حیات مسیح ؑکے عقیدے سے نہ صرف حضرت مسیحؑ کی برتری بلکہ خدائی ثابت ہوتی ہے تو کیا جو لوگ حیات مسیح ؑکے قائل ہیں، وہ آپ ؑکی خدائی ثابت کرنے کی وجہ سے کافر ہیں؟
(۱۳) آپ نے بیان کے صفحہ ۱۱پر مرزا صاحب کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کسی کلمہ گو کو کافر کہنا خود کہنے والے پر کفر کو لوٹادیتا ہے۔ تو کیا وہ تمام لوگ جو مرزا صاحب کو کافر کہتے ہیں، آپ کے نزدیک کافر ہیں؟
(۱۴) جو شخص مرزا صاحب کو ان کے دعوں میں جھوٹا قرار دے وہ آپ کے نزدیک مسلمان ہے یا کافر؟
(۱۵) آپ نے صفحہ۱پر لکھا ہے کہ ’’شروع سے ہمارا عقیدہ یہ رہا ہے کہ ہر کلمہ گو مسلمان ہے‘‘۔ اس عقیدے کی روشنی میں اگر کوئی شخص کلمہ لالہ لا اللہ محمد رسول اللہ پڑھے اور اس پر ایمان کے اقرار کے ساتھ ساتھ نبوت کا دعوی کرے تو وہ آپ کے نزدیک مسلمان ہوگا یا نہیں؟ جب کہ خود آپ نے صفحہ ۲پر مرزا صاحب کا یہ قول نقل کیا ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو نبوت کا دعوی کرے وہ کافر، کاذب اور خارج از دائرہ اسلام ہے؟
(۱۶)(الف)آپ نے صفحہ ۱۱سے صفحہ ۱۳تک مرزا صاحب اور ان کے متبعین کے بارے میں بہت سے لوگوں کی آرا نقل کی ہیں۔ کیا آپ یقین اور ذمہ داری کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ساری نقول اور حوالے درست ہیں؟
(ب) کیا آپ کو یقین ہے کہ یہ سب لوگ ہمیشہ اسی رائے پر قائم رہے ہیں جو آپ نے انکی طرف منسوب کی ہے اور کبھی انہوں نے اپنی رائے تبدیل نہیں کی؟
(ماہنامہ ’’الحق‘‘ شیح الحدیث مولانا عبدالحق نمبر)

مولانا محمد اسلام حقانی

نائب مدیر ماہنامہ ’’الحق‘‘