دارالعلوم حقانیہ حیرت و آزادی کی تحریکوں کا سنگ میل جہاد افغانستان کے ہر محاذ پر نبرد آزمافضلا حقانیہ
جناب عرفان صدیقیؒ
دارالعلوم حقانیہ حیرت و آزادی کی تحریکوں کا سنگ میلجہاد افغانستان کے ہر محاذ پر نبرد آزمافضلا حقانیہجناب عرفان صدیقیؒ
ملک کے معروف ادیب جناب عرفان صدیقی مرحوم کا دارالعلوم حقانیہ اور حضرت مولانا عبدالحق ؒاور حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ کے حوالے سے ایک خوبصورت اور یادگار مضمون نذرقارئین کیا جارہا ہے:
_________________
۱۹۴۷ء کے رمضان المبارک کا ذکر ہے، برصغیر کی عظیم درس گاہ ، دارالعلوم دیو بند کے جواں سال اور جوان فکر مدرس، مولانا عبدالحق چھٹی گزارنے اکوڑہ خٹک کے قریب اپنے آبائی گائوں تشریف لائے اور پھر ان کے لیے واپسی کے راستے بند ہو گئے۲۷ رمضان المبارک کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سورج طلوع ہوا، نئی ہوائیں، نئی رتوں کی خوشبو، لائیں ا ور اکوڑہ خٹک کے چھوٹے سے گائوں میں بیٹھے مولانا عبدالحق نے محسوس کیا کہ بیت جانے والے موسموں کو خیر باد کہہ کر نئے عہد کے نئے تقاضوں کو خوش آمدید کہا جائے۔ ان کی نگاہ دوربین نے دیکھ لیا تھا کہ برصغیر کے بطن سے پھوٹنے والی یہ نئی مملکت اپنی تخلیق میں وہ جوہر رکھتی ہے جو اسے نئے زمانوں کا نقیب بنا سکتا ہے۔ دیو بند کے جواں سال صاحبِ فکر معلم نے اپنے گائوں کی چھوٹی سی مسجد میں ایک مکتب کی بنیاد ڈالی۔ انہوں نے ۲۳ ستمبر۱۹۴۷ء کے دن گنتی کے چند بچوں کو پہلا درس دیا۔ کئی سال تک صحنِ مسجد ہی دانشگاہ بنا رہا۔ مولانا عبدالحق کے علم و عرفان کا شہرہ عام ہو اور گرد و نواح سے بیسیوں طالب علم بھی یہاں پہنچنا شروع ہو گئے۔ مولانا کا گھر ہی ان کا ہاسٹل تھا۔ وہی اخراجات کے کفیل بھی تھے۔ مولانا کی والدہ، ان کی اہلیہ اور دیگر اہل خانہ خود ہی بیسیوں طلبا کے لیے کھانا پکاتے اور ان کی دیکھ بھال کرتے، کبھی چند ے کے لیے ہاتھ نہیں پھیلایا، اہلِ خیر خود ان کی مخلصانہ کاوشوں کے اعجاز سے کھنچے آتے۔ یہاں تک کہ مدرسہ راولپنڈی سے پشاور جانے والی شاہراہ پر اسلام آباد سے کوئی ۱۲۰ کلومیٹر دور اکوڑہ خٹک کے مقام پر اپنی نو تعمیر مختصر سی عمارت میں منتقل ہو گیا۔
جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک آج پاکستان ہی نہیں برصغیر پاک و ہند بلکہ عالم اسلام میں ایک معروف اور محترم نام ہے اور اسے پاکستان کا دیو بند کہا جاتا ہے۔ شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ کی فروزاں کی ہوئی شمع کا نور برصغیر جنوبی ایشیا کے طول وعرض میں پھیل چکا ہے۔ افغانستان کے دور دراز علاقوں سے آنے والے ہزاروں طلبا اسی سرچشمہ علم و حکمت سے فیض یاب ہوئے۔ ایسے سات ہزار فاضلین کی مصدقہ فہرست جامعہ میں موجود ہے جو جہاد افغانستان کے مختلف محاذوں پر اس صدی کے فرعون سے نبرد آزما ہے۔ اکوڑہ خٹک کے فارغ التحصیل افغان طلبا کسی ایک تنظیم، کسی ایک جماعت اور کسی ایک گروہ تک محدود نہیں۔ اسلام کی لامحدود اور ارفع تعلیمات کی طرح ان کا افق بھی لامحدود اور ان کی جراتوں کی داستانیں بھی محاذ در محاذ بکھری پڑی ہیں۔ مولوی محمد یونس خالص اور کمانڈر جلال الدین حقانی اسی مکتب کے فیض یافتہ ہیں۔ اکوڑہ خٹک کا چھوٹا سا قصبہ ہمیشہ حریت و آزادی کی تحریکوں کا سنگ میل رہا۔ برسوں قبل ریشمی رومال کی تحریک کے جنوں خیز پیا مبر اسی کے حجروں میں دم لے کر گزرے تھے۔ شاہ اسماعیل شہید کے مجاہدین نے اسی مقام پر ایک ایمان پرور معرکہ لڑا تھا۔ شہیدوں کے لہو سے لالہ زار بن جانے والے میدان میں آج جامعہ حقانیہ کی عظیم عمارت کھڑی ہے۔ اس قصبے کی ہوائوں میں خوشحال خان خٹک کے جرات آموز شعروں کی گونج، جری شہسواروں کے گھوڑوںکی ٹاپ، تلواروں کی جھنکار، نعروں کی باز گشت اور شہیدوں کے لہو کی مہک رچی بسی ہے۔یہ مکتب کی کرامت سے بھی کہیں زیادہ ایک مردِ درویش کا فیضان نظر تھا جس نے آتش بجاں کہستانی افغانوں کو زندگی کا ہنر بھی سکھایا اور جان سے گزر جانے کا قرینہ بھی۔ مولانا عبدالحق عزیز جہاں بنتے چلے گئے۔ اکوڑہ خٹک اور گردونوح کے لیے ان کی ذات وجہ افتخار بھی ٹھہری اور باعثِ امتیاز بھی ۱۹۷۰ء میں نیشنل عوامی پارٹی کے جنرل سیکریٹری اجمل خٹک اور پی پی پی کے رہنما نصراللہ خٹک کو شکست دے کر قومی اسمبلی میں پہنچے اور بھٹو کے ’’نقار خانے‘‘میں اذان دیتے رہے۱۹۷۷ء میں پی پی پی طوفانِ بلا خیز بن چکی تھی۔ بڑے بڑے جہاں دیدہ لیڈر اس کے سامنے ڈھیر ہو گئے یا ڈھیر کر دیئے گئے۔ مولانا عبدالحقؒ روایتی سیاستدان نہ تھے۔ وہ انتخابی گہما گہمی سے بہت دور اپنے مدرسے میں ہی گوشہ نشین رہتے۔ جلسے جلوس، نعرے، پوسٹر، تصویریں، بینرزیہ سب کچھ ان کی کتابِ سیاست سے خارج تھا۔ ان کا مقابلہ ایک بار پھر پی پی پی کے نصراللہ خٹک سے آپڑا تھا جواب سرحد کے وزیر اعلیٰ بھی تھے۔ انہوں نے سرکار کی چھتری تان کو طوفانی مہم چلائی لیکن اس درویش خدامست کے سامنے ان کا چراغ نہ جل سکا، اپنی شکست پر بہترین تبصرہ خود نصراللہ خٹک ہی کا تھا۔ میں کیا کرتا؟ میرا مقابلہ تو ایک’’پیغمبر‘‘ سے آن پڑا تھا، شیخ الحدیث ۱۹۸۵ء میں تیسری مرتبہ قومی اسمبلی کے ایوان میں پہنچے، شریعت محمدی کے نفاذکے لیے مولانا کی آواز توانا بھی تھی اور پرسوز بھی۔ اسی احساسِ مشترک کے طفیل ان کے اور صدر ضیا الحق شہید کے درمیان باہمی اعتماد و احترام کا گہرا تعلق قائم رہا۔۱۷؍اگست ۱۹۸۸ء کو سانحہ بہاولپور پیش آیا ۲۱ دن بعد ۷ ستمبر ۱۹۸۸ء کو یہ بطلِ جلیل بھی اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔
آج ۲۳ ستمبر۱۹۴۷ء والا جامعہ دارالعلوم حقانیہ کئی منزلیں زر کر چکا ہے۔ یہاں زیر تعلیم ملکی و غیر ملکی طلبا کی تعداد دو ہزار سے زائد ہے۔ تعلیم القرآن حقانیہ ہائی سکول میں ایک ہزار کے لگ بھگ بچے پڑھ رہے ہیں،اس ادارے کا سنگ بنیاد ۱۹۳۷ء میں مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ نے رکھا تھا، طلبا کے قیام و طعام کے لیے دس ہاسٹل چلائے جا رہے ہیں، ایک عظیم الشان مسجد تعمیر کی گئی ہے جس کی بنیاد شیخ الحدیث مولانا عبدالحق ؒ،مولانا عبدالغفور عباسی مہاجر مدنیؒ، مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا قاری محمد طیبؒ (مہتمم دارالعلوم دیو بند) اور مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ جیسے اکابرین نے رکھی تھی، ایک وسیع لائبریری ادارۃ العلم و التحقیق، شعبہ دعوت و تبلیغ، موتمر المصنفین، ماہنامہ ’’الحق‘‘، شعبہ افتائ، شعبہ حفظ قرآن و تجوید اور شعبہ علوم دینیہ عربیہ ، جامعہ کے اہم شعبے ہیں، تقریبا چار کروڑ روپے کی لاگت سے ایک عظیم الشان آڈیٹوریم، اساتذہ کی کالونی اور طلبا کی اقامت گاہیں زیر تعمیر ہیں جن کا بیشتر کام مکمل ہو چکا ہے۔
شیخ الحدیث مولانا عبدالحق مرحوم کے صاحبزادے مولانا سمیع الحق جامعہ کے مہتمم اعلیٰ ہیں، ان کے ہمراہ میں دیرتک دارالعلوم کے مختلف شعبے دیکھتا رہا۔ مولانا مجھے ایک اقامت گاہ میں لے گئے جہاں دکتی پیشانیوں اور دہکتے چہروں والے نوخیز اور نو عمر لڑکوں نے ہمارا استقبال کیا مولانا نے بتایا کہ سو کے لگ بھگ بچے وسط ایشیا کی ان ریاستوں سے آئے ہیں جو روسی چنگل سے آزاد ہوئی ہیں۔ مجھے ان بچوں کی آنکھوں میں آنے والے کتنے ہی خوش رنگ موسموں کی شمعیں فروزاں دکھائی دیں،کئی سال قبل جب شیخ الحدیث مولانا عبدالحق مرحوم انہی کمروں میں بخاری شریف کا درس دیا کرتے تھے تو شاید انہوں نے کبھی یہ نہ سوچا ہو کہ ان کے سامنے بیٹھے طلبا ایک دن اپنے لہو سے اس صدی کے سب سے بڑے جہاد کی آبیاری کریں گے اور روس کو ایسی عبرتناک شکست دیں گے کہ سمر قند بخارا کی زنجیریں بھی کٹ جائیں گی۔ آج امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری کے وطن سے آئے ہوئے نوجوان اکوڑہ خٹک سے کسبِ فیض کر رہے ہیں اور تاریخ دم سادھے زمانوں کے الٹ پھیرا کا مشاہدہ کر رہی ہے، میرا جی چاہا کہ میں مولانا سمیع الحق سے کہوں کہ وہ عہدِ حاضر کی حیا باختہ سیاست کو تماشاگروں اور تماش بینوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیں اور ساری توجہ، سارا وقت اپنے عظیم والد کی اس گرانما یہ میراث کو دیں جو تقدیریں پلٹ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سیاست کے شجر بے ثمر کی آبیاری کرنے کے بجائے اس درخت کو اپنی توانائیوں سے سینچیں جس کی چھائوں بہت گھنی اور جس کا ثمر بے حد شیریں ہے۔ میں مولانا سے کچھ بھی نہ کہہ سکا لیکن میرے ذہن کے نگار خانے میں رنگارنگ منظر ابھرتے رہے ڈوبتے رہے…سرنگا پٹم، ۱۸۵۷ء کے خونیں مناظر، ریشمی رومال، بالاکوٹ، واہگہ کی سرحد پر لہو میں نہائے کارواں، افغانستان کے کوہ و بیاباں میں سربکف مجاہدین، موجِ نیل بن جانے والی دریائے آمو کی لہریں، ان لہروں میں غرق ہوتی ایک فرعونی قوت سمر قندو بخارا کی مسجدوں کے بلند مینار اور ان میناروں سے قوسِ قزح بن کر ابھرتی اذانوں کے مشک بو گونج…اللہ اکبر،اللہ اکبر! ( ہفت روزہ’’تکبیر‘‘ ۱۰؍فروری ۱۹۹۴ء )