دارالعلوم حقانیہ کا پاک افغان کشیدہ صورتحال پر پالیسی بیان 

مولانا راشد الحق سمیع صاحب

دارالعلوم حقانیہ کا پاک افغان کشیدہ صورتحال پر پالیسی بیان
گزشتہ کئی مہینوں سے پاک افغان فورسز کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور تناؤ کی صورتحال میں جامعہ دارالعلوم حقانیہ کی طرف سے میڈیا کے لئے پالیسی بیان جاری کیا گیا، دونوں برادر پڑوسی اسلامی ممالک کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپوں و کشیدگی پردارالعلوم تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ دونوں ملکوں کو افہام و تفہیم اور صبر و تحمل سے اپنے معاملات کو حل کرنا چاہیے،جنگ اور دشمنی دونوں ممالک بلکہ تمام خطے کے لئے انتہائی نقصان دہ اورخطرناک ہے۔ پاکستان، افغانستان اور امارت اسلامیہ کے لئے شروع سے نرم گوشہ رکھتا ہے اور تمام نازک اور اہم موقعوں پر پاکستان نے افغانستان کی سیاسی و اخلاقی لحاظ سے تائید و حمایت کی ہے، ماضی میں روس اور امریکہ کے حملوں اور دیگر قدرتی آفات اور داخلی انتشار کو ختم کرنے کے لئے پاکستان نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے لہٰذا افغانستان کو پاکستان کی قربانیوں کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے اسی طرح پاکستان کے حکمرانوں کو بھی ایسی پالیسیاں نہیں بنانی چاہئیں کہ امارت اسلامی افغانستان مکمل طورپر پاکستان مخالف قوتوں کے زیر اثر اور کیمپ میں نہ چلا جائے، یہی واحد پڑوسی ملک امارت اسلامی افغانستان ہے جو پروپاکستانی ہے۔
ماضی میں بھی دارالعلوم حقانیہ اور جمعیت علمائے اسلام نے ہمیشہ افغانستان ،کشمیر، فلسطین اور دیگر معصوم و مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھائی ہے، اس موقع پر بھی دارالعلوم حقانیہ، جمعیت علمائے اسلام سمیت ملک کی اہم مذہبی جماعتوں اور وفاق المدارس العربیہ ، خصوصاً قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا محمدتقی عثمانی صاحب مدظلہ کے ہمراہ اس بڑھتی ہوئی آگ کو بجھانے کے لئے اپنا موثر کردار ادا کرنے کے لئے ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہیں۔ دارالعلوم حقانیہ دونوں ممالک کے جانی نقصان پر بے حدرنجیدہ ہے۔اب چند دنوں سے دونوں ممالک کے درمیان سیز فائز ہوچکا ہے اور قطروترکی کے ثالثی کردار کی وجہ سے دونوں ممالک کے تناؤ میں کمی آگئی ہے۔دونوں ممالک کے علماء و مشائخ اتحاد و اتفاق اور باہمی رواداری کے لئے متحرک اور دعاگو ہیں ۔ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں مسلم ممالک اخوت کے تقاضو ں کو پورا کرکے باہمی بھائی چارے اور امن کے ساتھ رہیں گے۔
نامور ادیب و کالم نگار جناب عرفان صدیقی مرحوم کا سانحہ ارتحال
پاکستان کے نامور سینئر صحافی ، عظیم ادیب ،محقق ،دانشور، شاعر جناب سینیٹر عرفان صدیقی صاحب بھی گزشتہ دنوں انتقال کر گئے (انا للہ وانا الیہ راجعون) اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر فاتحہ خوانی کے لیے حاضری ہوئی ، جناب صدیقی صاحب کی صحافت اور ادب کے حوالے سے گراں قدر خدمات ہیں، آپ نے جنرل مشرف اور امریکہ کے خلاف اس وقت کلمہ حق بلند کیا جب ہر طرف خوف کے سائے تھے اور بڑے بڑے قلم کاروں کی نواہائے سروش خاموش تھیں اور آزادی اظہار رائے جرم تھا اور متاع لوح و قلم چھین لئے گئے تھے مگر صحافت کے محاذ سے آپ نے ایسی زبردست صدائے حق برپا کی اور خون دل میں ڈبوئی ہوئی انگلیوں سے مظلوموں کا ایسا منظر پیش کیا جس سے پتھر دل بھی موم ہوگئے،گویا آپ نے ظلم و جبر کے ہر حلقہ زنجیر میں مظلوموں کیلئے زبان رکھ دی تھی، جس سے اس وقت کے ظلم و بربریت کے ایوانوں میں شورِ قیامت بپا ہوا، آپ حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ کے دیرینہ ساتھی اور کئی فکری اور سیاسی ادوار میں ان کے فکری ہمنوا تھے۔ جناب نواز شریف صاحب کے دور حکومت میں طالبان سے مذاکراتی ٹیم میں حضرت والدصاحب شہیدؒ کے ہمراہ تھے،اس کے علاوہ افغانستان کی پہلی امارت اسلامی افغانستان کے سفر پر حضرت مولانا سمیع الحق شہیدانہیں اپنے ساتھ افغانستان کے سفر پر لے گئے تھے،راقم بھی ہمراہ تھا، واپسی پر آپ نے ہفت روزہ ’’تکبیر‘‘ میں ایسی روداد سفر اور امارت اسلامی افغانستان کی جھلکیاں پیش کیں کہ جس سے سارے پاکستان میں سیاسی اور صحافتی حلقوں میں وہاں کی حکومت کا ایک اچھا تاثر بن گیا،اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک خاص نوع کا سحر نگار قلم عطا کیا تھا اور اس کے ساتھ اعلیٰ دماغ بھی۔سادہ سے مضمون کو بھی آپ افسانوی رنگ سے مزین کردیتے ،  صحافیوں میں ادیبانہ طرز تحریر آپ ہی کی خصوصیت تھی، اردو اور فارسی ادب پر آپ کو کمال حاصل تھا، آپ نے جہاد افغانستان کے دوران ضرب مومن اور دیگر اخبارات میں بھی کافی عرصے تک کالمز لکھے اور دائیں بازو مذہبی حلقوں میں اسے عزت و پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا،آپ کے کالمز کے کئی مجموعے بھی شائع ہوئے ہیں جو بہت معلوماتی اور خاصے کی چیز ہیں،اللہ تعالیٰ نے آپ کو متعدد صفات اور عزتوں سے نوازا تھا۔ کاش!کوچہ سیاست میں آپ نہ آتے کیونکہ آج کے عہد میں سیاست گری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں کے مصداق بن گئی ہے۔آپ میرے پسندیدہ لکھاریوں میں سے تھے ،آپکے ادبی ذوق اور صحافتی چاشنی سے مزین کالمز اور تحریروں نے مجھے بہت متاثر کیا۔ مجھ طالب علم کے ’’الحق‘‘ کے اداریے اور سفرنامے بھی آپ کی نظر سے گزرتے اور وقتا فوقتا مجھے داد دیتے اور مشورے بھی۔آپ نے عمر بھر دارالعلوم حقانیہ، حضرت مولانا عبدالحقؒ ، حضرت والد صاحب شہیدؒ، حضرت مولانا حامد الحق شہیدؒ ،مولانا سید محمد یوسف شاہ صاحب وغیرہ کے ساتھ خصوصی تعلق قائم رکھا،اللہ تعالیٰ آپکے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے (آمین)