جامعہ عثمانیہ بی ایس سٹوڈنٹس کے پہلے کانوکیشن کی تقریب : دینی مدارس کی بڑی کامیابی
جامعہ عثمانیہ بی ایس سٹوڈنٹس کے پہلے کانوکیشن کی تقریب : دینی مدارس کی بڑی کامیابی
پاکستان اور صوبہ خیبرپختونخوا کا مایہ ناز دینی تعلیمی ادارہ جامعہ عثمانیہ پشاور الحمدللہ ترقی کے اعلی مدارج طے کرتے ہوئے خوب ترقی کررہا ہے۔ ادارے کا معیاری نظام تعلیم و تربیت اور بہترین ڈسپلن قابل ستائش ہے۔استاد محترم حضرت مولانا مفتی غلام الرحمن صاحب مدظلہ کو اللہ تعالیٰ نے متعدد صفات سے نوازا ہے، آپ کی شبانہ روز کوششیں اور مجتہدانہ بصیرت کے باعث تھوڑے ہی عرصے میں آپ نے اپنے تعلیمی میدان میں اپنا لوہا عصری تعلیمی اداروں سے بھی منوا لیا ہے، آپ نے مدرسے کے ساتھ ساتھ ابتدائی طور پر’’العصر‘‘سکول سے یہ سلسلہ شروع کیا جو اب یونیورسٹی کی سطح بی ایس پروگرام تک پہنچ گیا ہے ۔۱۸نومبر کو اس کی پہلی کانوکیشن تقریب تھی جس میں پشاور یونیورسٹی اور دیگر عصری اداروں کے وائس چانسلر ، ذمہ داران اور ماہر تعلیم حضرات نے اس بات کا کھل کر اظہار کیا کہ جامعہ عثمانیہ کے طلبائے کرام کا تعلیمی معیار بہت اونچا ہے اور ان حضرات نے علمائ، طلبا ،اساتذہ اور خصوصا مفتی غلام الرحمن صاحب کو بھرپور انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔ ماشاء اللہ دینی مدارس کے طلبا، سکول ،کالجوںکے علاوہ اب یونیورسٹیز کی سطح پر گولڈ میڈل اور نمایاں نمبرات حاصل کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے علماء طلباء کو بہت ساری صلاحیتیوں سے نوازا ہے ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی مدارس اپنے قابل فضلا کو مروجہ عصری علوم کی تعلیم سے بھی روشنا س کرائیں تاکہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنی خدمات بہتر طور پر سرانجام دے سکیں، جب تک معاشرے کے ہر شعبے میں علماء ،طلبا اور دینی مزاج کے حامل افراد شامل نہیں ہوں گے تواس وقت تک بنیادی ریاستی نظام مثلا مققنہ ، انتظامیہ اور اصلاحی و سیاسی معاشرہ پر مبنی امور و ایجنڈے کامیاب نہیں ہوسکتے۔ انہی عصری تقاضوں کو بھانپتے ہوئے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق ؒنے پاکستان بننے سے پہلے۱۹۳۷ء میں اکوڑہ خٹک میں ’’تعلیم القرآن سکول‘‘قائم کیا تھاجس سے ۱۹۴۷ء میں پھر دارالعلوم حقانیہ کا عظیم الشان دینی و تعلیمی ادارہ وجود میں آیا ، بعد میں الحمدللہ اس ناچیز طالب علم کی کاوش سے اب یہ سکول کالج بن گیا ہے اور مستقبل میں اگر حالات نے اجازت دی تو یہاں بھی ان شاء اللہ بی ایس وغیرہ کے پروگرام شروع کرنے کا دیرینہ خواب و ارادہ ہے اور یہی حضرت والد ماجد مولانا سمیع الحق شہیدؒ کی آرزو تھی کہ دینی مدارس کو ضرور عصری علوم و فنون ، جدید ذرائع ابلاغ اور عالمی زبانوں پر کام کرنا چاہیے ۔اس وقت جامعہ عثمانیہ عصری و دینی تعلیم کا حسین نمونہ و امتزاج ہے اور یہی وقت اور عصر حاضر کے چینلجز کا تقاضا بھی ہے۔ حضرت مولانا مفتی غلام الرحمن صاحب مدظلہ دارالعلوم حقانیہ کے قابل فخر فارغ التحصیل استاد حدیث اور سابق ناظم تعلیمات او رحضرت والد ماجد مولانا سمیع الحق شہیدؒ کے خصوصی مشاور اور قابل اعتماد دست راست تھے۔ دارالعلوم حقانیہ کے لئے حضرت مفتی صاحب مدظلہ کی شخصیت اور ان کے قائم کردہ ادارہ جامعہ عثمانیہ اور حضرت مفتی صاحب مدظلہ کے لائق فائق اور باصلاحیت صاحبزادے اور جامعہ عثمانیہ کے قابل اساتذہ باعث فخر ہیں۔ راقم اور دارالعلوم حقانیہ اس اہم کامیابی اور سنگ میل کو عبور کرنے پر جامعہ کے تمام اساتذہ، ذمہ داران اور خصوصا وہاں کے فارغ التحصیل طلبا کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں مزید دن دگنی رات چوگنی ترقی نصیب فرمائے(آمین)