ملفوظاتِ امام لاہوریؒتفسیر لاہوری‘‘کی روشنی میں”(آخری قسط)مرتب: حافظ خرم شہزاد
رنگ قرآن، رنگ فروش علماء کرام اور رنگسازصوفیائے عظام
’’باطن کے امراض و نجاست کئی طرح کے ہیں،ان میں تین وہ ہیں جن کے لیے نہ شفاعت ہے نہ نجات (۱)شرک(۲)کفر(۳) نفاق، اور بعض وہ ہیں جن کے لیے شفاعت اور نجات دونوں ہیں جیسا کہ کبر، حسد، عجب۔
صوفیائے کرام کا وجود ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ رنگ چڑھاتے ہیں،باطن کی نجاست کو دور کرتے ہیں۔ رنگ قرآن ہے صبغۃاللہ، رنگ فروش علماء کرام اور رنگ ساز صوفیائے عظام اگر جامعیت ہے تو بہت اچھا یعنی علم و تصوف کا حامل لیکن اکثر ایسا نہیں۔ صوفیائے عظام کی جوتیوں کی گرد میں وہ موتی ملتے ہیں جو بادشاہوں کے تاج و تخت میں نہیں ملتے،وہ قیامت کے دن شفاعت نجات د اور دخول جنت کا باعث ہوں گے، اولیاء کرام کی ولایت سے انکار کرنے والے پر خدا کی لعنت اور جو ان کو خدا یا رسول کے مرتبے کو پہنچائے اس پر بھی خدا کی لعنت، ولی کے لیے کامل ہونا ضروری ہے۔ طالب صادق کے لیے ضروری تین شرائط ہیں: (۱)عقیدت میں فرق نہ آئے (۲)ادب (۳)اطاعت میں فرق نہ آئے، تو فیض تب آتا ہے۔
انسان کی اصلاح اس وقت ہو سکتی ہے کہ اپنے آپ کو سب سے برا اور ہر ایک کو اپنے سے اچھا سمجھے، تب فانی بنفسہ اور باقی باللہ ہو جائے گا، علمی طور پر مجاور شعائر اللہ علماء اور عملی طور پر صوفیاء عظام ہیں۔‘‘(تفسیر لاہوری، ج۱۰، ص:۴۴۱)
عصمت ِانبیاء ؑ اور اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ
’’اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام صغائر و کبائر دونوں سے معصوم ہوتے ہیں، ہمارا عقیدہ ہے کہ ان کے ذنوب ہمارے حسنات سے بھی بالاتر ہوتے ہیں جب ایسا ہے تو استغفار کے کیا معنی؟آپ نے اہل اللہ کا ایک فقرہ سنا ہوگا حسنات الابرار سئیات المقربین بعض اوقات اجتہادی طور پر ان سے ایسا کام ہو جاتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارادہ اس سے آگے ہوتا ہے، یاد رکھیے کہ گناہ یہ ہے کہ مامور من اللہ کی خلاف ورزی کی جائے، انبیائے کرام علیہم السلام کبھی بھی مامور من اللہ کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ یہ بات ان کی فطرت سلیمہ کے خلاف ہے تو وہ گناہ سے معصوم ہو گئے، ان کا ذنب یہ ہے کہ اجتہادی طور پر ایک کام کر لیتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ کا ارادہ اونچا ہوتا ہے۔ ہم اپنے بزرگوں اور اسلاف کے اقوال کو تسلیم کریں گے جو مسلمات میں سے ہیں، اگر ہم اسلاف کے مسلمات کو غلط کہیں گے تو یہ ہماری حماقت ہوگی۔
ذنب کی تعریف تو ابھی میں نے کر دی کہ مامور من اللہ کی خلاف ورزی کو گناہ اور ذنب کہتے ہیں مگر پیغمبروں کے بارے میں جو ذنب وغیرہ کے الفاظ آتے ہیں اس سے مراد یہ ہوتا ہے کہ انھوں نے جو کام اپنی قوتِ اجتہادی سے کر لیا اللہ تعالیٰ کی مرضی اس سے آگے ہے جو ہم تاویل اس طرح کریں گے کہ انبیائؑ کی معصومیت بھی ٹھیک رہے اور آیات کا محمل بھی ٹھیک رہے۔‘‘ (تفسیر لاہوری، ج۱۰، ص:۴۷۵ )
بزرگوں کی عزت،ادب واحترام
’’ایک بزرگ تھے،ہمیں ہر بزرگ کی عزت کرنی چاہیے ہر شریف آدمی ہر بوڑھے اور ہر بڑے کا ادب کرنا چاہیے۔ میرا خاندان نقشبندی ہے مگر میں تمام خاندانوں اور سلسلوں کی عزت کرتا ہوں، سب بزرگ ہمارے بزرگ ہیں، حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ میرے پیر نہیں تھے مگر میں ان کے عزت و ادب کرتا تھا جس طرح ایک مرید اپنے مرشد کی عزت کرتا ہے۔ دہلی میں جب بھی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوتا تھامیں تین تین گھنٹے قعدہ کی حالت میں ادباً بیٹھا رہتا وہ سمجھ جاتے ہیں جو کامل ہوتے ہیں وہ غافل نہیں ہوتے۔‘‘(تفسیر لاہوری، ج۱۰، ص:۴۸۷)
دروسِ قرآن کی مخالفت
’’میرے ایک استاد تھے مولانا نجم الدین صاحب ؒاور یہ اورینٹل کالج میں پڑھاتے تھے، وہ حضرت شیخ الہندؒ کے شاگرد تھے انھوں نے میرے بعد ترجمہ شروع کیا، بازاری لوگ ان کی مخالفت شروع کرنے لگے یہاں تک کہ مخالفین سڑک پر لیٹ جاتے تھیاحتجاج کے طور پر کہ ترجمہ نہ پڑھائیں۔
یہ میری مسجد لاوارث مسجد ہے، یہاں پر پولیس لائن تھی ان میں کسی ایک نیک بخت بندہ خدا نے چھوٹی سی مسجد بنائی خدا نے مجھے یہاں لانا تھا یہاں چاروں طرف لق و دق بیابان تھا، یہاں رات کا کسی کا گزر نہیں ہو سکتا تھا، چوروں، لٹیروں کا خطرہ ہوتا تھا، یہاں میں نے قرآن پاک کا درس شروع کیا لوگوں نے مخالفت شروع کر دی۔ مجھ پر کافی حملے کیے گئے،اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ بچ گیا۔ بہاولپور کا ایک مولوی مخالفت کے لیے آیا، یہاں ایک محلے والا کافی مخالفت کرتا رہا۔ ایک دفعہ اس نے سارے شہر میں منادی کر دی کہ فلاں مولوی اور مولانا احمد علی تقریر کریں گے، میرے ایک دوست نے جب یہ ا فواہ سنی وہ فوراً ڈی سی کے پاس گیا تاکہ انسداد کا انتظام ہو، بدقسمتی سے ڈی سی کسی قتل کے کیس میں لاہور سے باہر گیا ہوا تھا ادھر مخالفین نے میری طرف سے اشتہار شائع کیا کہ میرے دوست جتنے ہیں وہ مسجد کو نہ آئیں اور اگر آئیں بھی تو مخالفین کی گالیوں کا جواب نہ دیں۔ ادھر میرے دوست نے دوبارہ ڈی سی کو اطلاع کی کہ فساد کا خطرہ ہے، ڈی سی نے اُس عالم میں پابندی لگا دی کہ وہ شیرانوالہ مسجد میں نہ جائے،مخالفین کافی تعداد میں آگئے،گالیاں دینے لگے،اللہ کا فضل تھا کہ کوئی فساد نہ ہوا۔
ایک دفعہ محلہ والوں نے ایک شخص کو بھیجا کہ آپ ترجمہ میں بیٹھ جائیں، ہم مسجد کے باہر کھڑے ہوں گے مولانا جب ترجمہ شروع کریں اس میں رخنہ ڈال دیں، ہم جب آپ کی باتیں سن لیں گے تو فوراً اندر آجائیں گے اور مولانا اور اس کے ساتھیوں کو خوب زد و کوب کریں گے۔وہ آدمی آ کر بیٹھ گیا ترجمہ سننے لگا اس پر ایسا اثر ہوا کہ وہ میرا مخلص ساتھی بن گیا۔ ایک دفعہ یہی مخلص آدمی اپنے ساتھ بندوق لے آیا اور اپنے سامنے رکھ دی، میں نے نماز پڑھ کر پوچھا کہ آپ بندوں کیوں لائے ہیں؟ (اس نے)کہا میں نے افواہ سنی ہے کہ آپ پر حملہ ہو رہا ہے، اس کے بچاؤ کے لئے بندوق لے آیا ہوں، بتایا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ آپ کو چوبیس گھنٹے کے اندر اندر قتل کر دیا جائے گا اس لیے بندوق لے آیا۔ حملے ہوتے رہتے ہیں مگر حق کامیاب ہو جاتا ہے، ایسی مخالفتیں ہوتی رہتی ہیں مگر صاحب استقامت واستقلال کو گھبرانا نہیں چاہیے۔ بالآخر کامیابی نصیب ہوتی ہے باطن ہمیشہ حق سے ٹکراتا ہے اور آخر حق کامیاب ہو جاتا ہے۔ ایک طرف رسول اللہ ؐ کا غلام ہوتا ہے اور دوسری طرف شیطان کا نائب،پہلے سب یار ہوتے ہیں مگر جب قرآن مجید کا درس ہوتا ہے تو وہی یار دشمن بن جاتے ہیں، باطل ابتداء میں پورا زور دکھاتا ہے مگر آخر میں شکست خوردہ رہ جاتا ہے۔‘‘( تفسیر لاہوری، ج۱۰، ص:۴۸۸)