عالم اسلام کی عظیم روحانی شخصیت پیر طریقت حضرت مولانا ذوالفقار احمد نقشبندیؒ کی رحلت
عالم اسلام کی عظیم روحانی شخصیتپیر طریقت حضرت مولانا ذوالفقار احمد نقشبندیؒ کی رحلت
۱۴؍دسمبر ۲۰۲۵ بروز اتوار کو عالم اسلام کی معروف روحانی شخصیت اور ممتاز سکالر ،نقشبندی سلسلے کے روح رواں ، متعدد اصلاحی کتابوں کے مصنف ،فکرانگیز اورموثر خطیب اور لاکھوں مریدوں کے مرشد و مربی ومصلح، صوفی ِصافی، شریعت و طریقت کے مجمع البحرین، حضرت مولانا پیر سید زوار حسین شاہ صاحبؒ اور حضرت مولانا پیر غلام حبیب نقشبندیؒ کے خلیفہ مجاز،معہد الفقیر جھنگ کے بانی و موسس حضرت مولانا پیر مولانا ذوالفقار احمدنقشبندی قدس سرہ بھی دار فناء سے دار بقاء کی طرف کوچ کرگئے۔(انا للہ وانا الیہ راجعون ) یقینا حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب کے سانحہ ارتحال کی خبر نے لاکھوں علمائ،طلبائ،عامۃ المسلمین کو گہرے غم اور عظیم صدمے سے دوچار کردیا ہے۔ آپ موجودہ دور میں عالمی مبلغ کے طور پر دنیا بھر کے مسلمانوں کی ہر دلعزیز شخصیت تھے …
ع متاع ِ دین و دنیا لٹ گئی اللہ والوں کی
افسوس !صد افسوس! آسمان رشد معرفت کا وہ روشن آفتاب بھی ایسے گھپ اندھیروں کے زمانے میں غروب ہوگیا جس کی تنویر کی شعاعوں اور ضیاپاشیوں کی ضرورت وحاجت پہلے سے بڑھ کر پاکستان اور عالم اسلام اور معہد الفقیر کے متعلقین اور اس عہد ِ خزاں عصر حاضر کو تھی…
ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے
اک شمع ہے دلیل سحر سو خموش ہے
آپ مرشد کامل حضرت مولانا عبدالمالک صدیقیؒ کے داماد اور برادرم حضرت پیر مولانا عبدالماجد صدیقی مدظلہ کے بہنوئی بھی تھے۔ آپ کی اصلاحی کوششوں اور مراقبوں میں ہزاروں افراد اور تشنگان علم و معرفت اور سالکین شوق و ذوق سے شرکت فرماتے، شریعت وطریقت اور احسان و سلوک کی راہوں پر آپ نے زندگی بھر بڑے اعتدال اور ہنر کے ساتھ سفر کیا۔
ع درکفے جامے شریعت درکفے سندان عشق
آپ نے اکابرین کی طرح اپنی مبارک زندگی کا ایک ایک لمحہ اصلاحِ عالم وتزکیہ نفوس میں صرف کیا اور ایک عالم آپ کے چشمہ ہدایت سے سیراب ہورہا تھا…
ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں
فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہیں مرد خلیق
اللہ تعالیٰ نے آپ کو اعلی اخلاق اور ظاہری حسن و جمال سے بھی خوب نوازا تھا،چہرہ اقدس ایسا چمکتا تھا کہ دور ہی سے دیکھ کر یہ حدیث پاک نظروں کے سامنے آجاتی نضراﷲ امرأ سمع مقالتی فوعاھا ثم اداھا کما سمعھا اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے، جس نے میری بات سنی اور اس کو محفوظ رکھا اوراس کوو اسی طرح آگے پہنچایا جس طرح اس نے اس کو سنا تھا ۔
آپ دیکھنے میں قرون اولیٰ کے سادہ اورپاکباز اکابرین کا پرتو نظر آتے تھے، شکل و صورت اور کردار و گفتار کا ایسا پاکیزہ مرقع تھے کہ دیکھنے والا ایک ہی ملاقات میں متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا تھا،آپ خلق خدا کیلئے ایک ایسی مشعل ِ رشد و ہدایت تھے جن کے وجود اورفیض سے ایک عالم مستفید اور منور و تاباں ہورہا تھا، آپ کی ذات اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیوں میں سے ایک تھی، آپ کے رخِ روشن میں دیکھنے والوں کو ایک ولیِ کامل کی جھلک نظر آتی تھی، آپ نے لوگوں کی دینی و روحانی اصلاح میں پوری زندگی گزار دی،راہ سے بھٹکے ہوئے ہزاروں لوگوں کی رہنمائی فرمائی اور امت مسلمہ مرحومہ کی بیداری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ،آپ کی شخصیت میں زہد و سادگی ،اخلاص و للہیت ،تواضع و انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، جوانی ہی میں دنیاوی جاہ و مناصب کو چھوڑ کر احسان و سلوک کی راہ پر گامز ن ہوئے اور خدمت دین اور تزکیہ نفوس کی راہ کو منتخب کیا۔آپ کے اصلاحی اور دعوتی وروحانی خطبات نہایت ہی شوق وذوق اور عقیدت کے ساتھ پوری دنیا میں مسلمانان عالم سنتے تھے اورآخری دم تک اپنے موثر وعظ و نصیحت سے عام الناس کو راہ راست پر لانے کی سعی کرتے رہے، آپ نے اپنی پوری زندگی میں جتنی بھی تقاریر کیں ان کا مجموعہ درجنوں جلدوں پر مشتمل ہے۔
آپ ۱۵نومبر۲۰۱۶ء کو حضرت والد ماجد مولانا سمیع الحق شہیدؒ کی حیات میں جامعہ دارالعلوم حقانیہ راقم کی رہائش گاہ پر جلوہ افروز ہوئے ، آپ کے ہمراہ آپ کے فرزند ارجمندمولانا سیف اللہ نقشبندی صاحب بھی تھے ،(حضرت پیر صاحب کے خلیفہ مجاز اور خیبرپختونخوا اور بنوں کی معروف روحانی شخصیت حضرت مولانا گل رئیس خان مدظلہ اور ان کے نہایت ہی قابل فاضل فرزند برادر مولانا عبداللہ حقانی بھی تھے)جہاں آپ نے حضرت والد شہید ،اساتذہ و مشائخ اور راقم سے تبادلہ خیال فرمایا تھا، حضرت پیر صاحب نے جامع مسجد مولانا عبدالحق ؒ میں میں نماز ظہر پڑھائی اور بعد میں دارالعلوم کے دارلحدیث ہال ایوان شریعت میں طلبا سے خطاب فرمایا ۔
اسی طرح ۲۹مارچ۲۰۱۹کو برادر شہید حضرت مولانا حامد الحق صاحبؒ کی رہائش گاہ تشریف لائے ، بیماری کی وجہ سے شہیدناموس رسالت حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ کی نمازجنازہ میں شریک نہ ہوسکے تھے، اپنے تعزیتی تاثرات میں لکھتے ہوئے فرمایا کہ’’جامعہ کے انواروبرکات اس کے درودیوار سے محسوس ہوتے ہیں، اللہ تعالی نے اپنے دین متین کی حفاظت کے لئے یہ قلعہ بنوایا ہے اور یہاںکا فیض ملک کے کونے کونے میں پھیل رہا ہے ، یہی اس ادارے کی مقبولیت کا بین ثبوت ہے ،یہ دیکھ کر طمانیت نصیب ہوئی کہ حضرت مولانا انوار الحق صاحب دامت برکاتہم جیسی علمی شخصیت موجود ہے، مزید برآں مولانا حامد الحق حقانی مدظلہ کی شکل میں ایک مسیحا بھی موجود ہے ۔‘‘
بروزپیر بوقت دو بجے دوپہر عالم اسلام کے ا س عظیم روحانی شخصیت کی نماز جنازہ معہد الفقیر الاسلامی جھنگ میں ادا کی گئی۔آپ کا جنازہ آپ کے صاحبزادے مولانا حبیب اللہ نقشبندی صاحب نے پڑھایا۔ جنازہ میں ملک و بیرون ملک سے لاکھوں متوسلین اور عام الناس نے شرکت کی۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا پیر ذوالفقار نقشبندی صاحب کی کامل مغفرت فرمائے،ان کے درجات بلند فرمائے،انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور تمام پسماندگان ،اہلِ خانہ، متعلقین، مریدین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔(آمین)
نامور ادیب و کالم نگار جناب عرفان صدیقی مرحوم کا سانحہ ارتحال
پاکستان کے نامور سینئر صحافی ، عظیم ادیب ،محقق ،دانشور، شاعر جناب سینیٹر عرفان صدیقی صاحب بھی گزشتہ دنوں انتقال کر گئے (انا للہ وانا الیہ راجعون) اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر فاتحہ خوانی کے لیے حاضری ہوئی ، جناب صدیقی صاحب کی صحافت اور ادب کے حوالے سے گراں قدر خدمات ہیں، آپ نے جنرل مشرف اور امریکہ کے خلاف اس وقت کلمہ حق بلند کیا جب ہر طرف خوف کے سائے تھے اور بڑے بڑے قلم کاروں کی نواہائے سروش خاموش تھیں اور آزادی اظہار رائے جرم تھا اور متاع لوح و قلم چھین لئے گئے تھے مگر صحافت کے محاذ سے آپ نے ایسی زبردست صدائے حق برپا کی اور خون دل میں ڈبوئی ہوئی انگلیوں سے مظلوموں کا ایسا منظر پیش کیا جس سے پتھر دل بھی موم ہوگئے،گویا آپ نے ظلم و جبر کے ہر حلقہ زنجیر میں مظلوموں کیلئے زبان رکھ دی تھی، جس سے اس وقت کے ظلم و بربریت کے ایوانوں میں شورِ قیامت بپا ہوا، آپ حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ کے دیرینہ ساتھی اور کئی فکری اور سیاسی ادوار میں ان کے فکری ہمنوا تھے۔ جناب نواز شریف صاحب کے دور حکومت میں طالبان سے مذاکراتی ٹیم میں حضرت والدصاحب شہیدؒ کے ہمراہ تھے،اس کے علاوہ افغانستان کی پہلی امارت اسلامی افغانستان کے سفر پر حضرت مولانا سمیع الحق شہیدانہیں اپنے ساتھ افغانستان کے سفر پر لے گئے تھے،راقم بھی ہمراہ تھا، واپسی پر آپ نے ہفت روزہ ’’تکبیر‘‘ میں ایسی روداد سفر اور امارت اسلامی افغانستان کی جھلکیاں پیش کیں کہ جس سے سارے پاکستان میں سیاسی اور صحافتی حلقوں میں وہاں کی حکومت کا ایک اچھا تاثر بن گیا،اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک خاص نوع کا سحر نگار قلم عطا کیا تھا اور اس کے ساتھ اعلیٰ دماغ بھی۔سادہ سے مضمون کو بھی آپ افسانوی رنگ سے مزین کردیتے ، صحافیوں میں ادیبانہ طرز تحریر آپ ہی کی خصوصیت تھی، اردو اور فارسی ادب پر آپ کو کمال حاصل تھا، آپ نے جہاد افغانستان کے دوران ضرب مومن اور دیگر اخبارات میں بھی کافی عرصے تک کالمز لکھے اور دائیں بازو مذہبی حلقوں میں اسے عزت و پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا،آپ کے کالمز کے کئی مجموعے بھی شائع ہوئے ہیں جو بہت معلوماتی اور خاصے کی چیز ہیں،اللہ تعالیٰ نے آپ کو متعدد صفات اور عزتوں سے نوازا تھا۔ کاش!کوچہ سیاست میں آپ نہ آتے کیونکہ آج کے عہد میں سیاست گری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں کے مصداق بن گئی ہے۔آپ میرے پسندیدہ لکھاریوں میں سے تھے ،آپکے ادبی ذوق اور صحافتی چاشنی سے مزین کالمز اور تحریروں نے مجھے بہت متاثر کیا۔ مجھ طالب علم کے ’’الحق‘‘ کے اداریے اور سفرنامے بھی آپ کی نظر سے گزرتے اور وقتا فوقتا مجھے داد دیتے اور مشورے بھی۔آپ نے عمر بھر دارالعلوم حقانیہ، حضرت مولانا عبدالحقؒ ، حضرت والد صاحب شہیدؒ، حضرت مولانا حامد الحق شہیدؒ ،مولانا سید محمد یوسف شاہ صاحب وغیرہ کے ساتھ خصوصی تعلق قائم رکھا،اللہ تعالیٰ آپکے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے (آمین)