ہمیں بھی یاد کر لینا چمن میں جب بہار آئے!

مولانا محمد شفیع چترالی
ایڈیٹر روزنامہ ’’اسلام‘‘ کراچی

۷؍ستمبر۲۰۲۴ قومی اسمبلی سے تحفظ ختم نبوت کی تاریخی قرارداد کی منظوری کے پچاس سال مکمل ہونے پر بجا طور پر ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے قائدین اور مجاہدین کو خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے جن حضرات نے اسمبلی کے باہر عوامی تحریک کی قیادت کی اور جنہوں نے اسمبلی اندر دلائل کی جنگ لڑی ان سب کی خدمات آب زر سے لکھنے کے لائق ہیں۔

دلائل کی جنگ میں ایک تو وہ حضرات تھے جو اسمبلی کے اندر امت مسلمہ کا موقف پیش کر رہے تھے اور دوسری جانب وہ دو نوجوان علماء تھے جو کسی گوشے میں بیٹھ کررات دن کی عرق ریزی سے کتابوں کے اوراق کھنگال کھنگال کر اس موقف کے لیے تفصیلی دلائل تلاش کر رہے تھے۔

ان دو نوجوان علما میں ایک تو وہ خوش نصیب ہیں جوآج پچاس سال بعد اپنی اس محنت کا ثمرہ دیکھنے کے لیے موجود ہیں اور آج لاہور میں ہونے والے پچاس سالہ اجتماع کی صدارت کا اعزاز بھی ان کے حصے میں آر ہا ہے یعنی شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم،جبکہ ان کے دوسرے ساتھی جو تاریخی مقدمے کی تبویب میں ان کے ساتھ تھے اور آج سے چند سال قبل ناموس رسالتؐ ہی کے مقدس مشن پر قربان ہوکر دنیا سے چلے گئے یعنی حضرت مولانا سمیع الحق شہید ؒوہ بھی آج جنت کے بالا خانے سے مینار پاکستان لاہور کے اجتماع کے پر کیف مناظر دیکھ رہے ہوں گے ؛ان کی روح اس اجتماع کے شرکا اور دنیابھر میں پھیلے ختم نبوت کے پروانوں سے مخاطب ہے کہ

ہمارا خون بھی شامل ہے تزئین گلستان میں

ہمیں بھی یاد کر لینا چمن میں جب بہار آئے